بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابوحازم (سلمہ بن دینار)نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، یہ سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور وہ گھڑی یوں مبعوث ہوئے ہیں جیسے یہ انگلی اس انگلی سے۔ یا (فرمایا:) اِن دو انگلیوں کی طرح۔ اور آپؐ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا دیا۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ جبلہ بن سُحَیم نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اتنا اور اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی تیس دن کا۔ پھر فرمایا: اتنا اور اتنا اور اتنا یعنی ۲۹ دن کا۔ آپؐ کی مراد یہ تھی کبھی ۳۰ کا کبھی ۲۹ کا۔
عمرو بن زُرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت سہل (بن سعد ساعدیؓ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں یوں ہوں گے اور آپؐ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا اور ان کے درمیان کچھ تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک انصاری شخص نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کو قسمیں دلائیں اور اُن دونوں کو جدا کر دیا۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میرا ایک سیاہ رنگ کا بچہ پیدا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہارے کچھ اُونٹ ہیں؟ اُس نے کہا: ہاں ۔آپؐ نے پوچھا: اُن کا رنگ کیسا ہے؟ اُس نے کہا: سرخ ۔ آپؐ نے پوچھا: کیا اُن میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟ اُس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے پوچھا: یہ کہاں سے آیا؟ اُس نے کہا: شاید یہ مشابہت کسی وراثت کے اثر کے ماتحت ہو۔ آپؐ نے فرمایا: شاید یہ بھی کوئی رگ ہو جس نے تمہارے اس بچے کو اپنے ہم شکل کرلیا ہو۔
اسماعیل (بن ابی اُوَیس) نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سےروایت کی کہ حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ نے انہیں بتایا کہ عُوَیمر عجلانیؓ عاصم بن عدی انصاریؓ کے پاس آئے اور اُن سے کہنے لگے: عاصمؓ! بتاؤ تو سہی ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پایا ہے۔ آیا اگر وہ اُس کو مار ڈالے تو پھر تم بھی اُس کو مار ڈالو گے یا وہ کیا کرے؟ عاصم ؓ!میرے لئے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو۔ چنانچہ عاصمؓ نے اُس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مسائل کو برا منایا اور اسے معیوب گردانا یہاں تک کہ عاصمؓ پر جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، دوبھر گزرا۔ جب عاصمؓ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹے، اُن کے پاس عُوَیمرؓ آئے اور کہنے لگے: عاصمؓ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا ؟ عاصمؓ نے عُوَیمرؓ سے کہا: تم نے مجھ سے کوئی بھلی بات نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ کو ناپسند فرمایا جس کے متعلق میں نے آپؐ سے پوچھا۔ عُوَیمرؓ نے سن کر کہا: اللہ کی قسم! میں باز نہیں آؤں گا جب تک کہ میں اس کے متعلق آپؐ سے نہ پوچھ لوں۔ عُوَیمرؓ چلے گئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے جبکہ آپؐ لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ کہنے لگے:یا رسول اللہ! اس شخص کے متعلق آپؐ بتائیں جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پایا۔ اگر وہ اسے مار ڈالے تو آپ لوگ بھی اسے مار ڈالیں گے یا کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے متعلق اور تمہاری بیوی کے متعلق اللہ نے (حکم) نازل کیا ہے۔ اس لئے جاؤ اور اُس کو لے آؤ۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: پھر اُن دونوں نے لعان کیا اور میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوئے۔ عُوَیمرؓ نے کہا: یارسول اللہ! میں نے اس پر جھوٹ بولا اگر میں اس کو روکوں۔ پھر اس نے پیشتر اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حکم دیتے، تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب کہتے تھے: پھر یہی لعان کرنے والوں کا دستور رہا۔
یحيٰ (بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق (بن ہمام) نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: مجھے ابن شہاب نے لعان کے متعلق اور اس کے کرنے کا جو طریقہ رائج ہوا، کے متعلق حضرت سہل بن سعدؓ کی حدیث کی بناء پر جو بنو ساعدہ میں سے تھے، نقل کرتے ہوئے بتایا کہ ایک انصاری شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیاا ور کہنے لگا: یارسول اللہ! بھلا بتائیں ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے شخص کو موجود پائے۔ آیا وہ اس کو مار ڈالے یا کیا کرے؟ تو اللہ نے اس کے متعلق وہ حکم نازل کیا جو قرآن میں ذکر کیا یعنی لعان کرنے والوں کے متعلق جو حکم ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہارے متعلق اور تمہاری بیوی کے متعلق فیصلہ کر دیا ہے۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: ان دونوں نے مسجد میں ایک دوسرے پر لعان کیا اور میں اُس وقت موجود تھا۔ جب دونوں فارغ ہوچکے۔ عُوَیمرؓ کہنے لگے: یارسول اللہ! میں نے اس پر جھوٹ بولا اگر میں نے اس کو رکھا۔ یہ کہہ کر اس نے پیشتر اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمحکم دیتے اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں۔ جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہی اسے الگ کر دیا۔ حضرت سہلؓ نے کہا: اس سے لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی ہونے لگی۔ ابن جریج نے کہا: ابن شہاب کہتے تھے: پھر ان دونوں کے بعد یہی دستور ہوگیا کہ لعان کرنے والوں کو جدا کر دیا جائے۔ اور وہ حاملہ تھی(اس نے بیٹا جنا) اور اُس کا بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کرکے پکارا جاتا تھا۔ وہ کہتے تھے: پھر اس (لعان کرنے والی) کے میراث کے متعلق بھی یہی طریقہ جاری ہوا کہ وہ عورت بچے کی وارث ہوتی اور بچہ اس کا وارث ہوتا، اس حق کا جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کیا۔ ابن جریج نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے اسی حدیث میں نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سرخ رنگ، پست قد جنا جیسے وحرہ (چھپکلی کی مانند ایک زہریلا جانور) ہے تو میں اس کے متعلق یہی سمجھوں گا کہ اُس عورت نے سچ بولا اور اُس شخص نے اُس کے متعلق جھوٹ کہا۔ اور اگر اس نے سیاہ رنگ کا بڑی آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا جنا تو میں اُس شخص کے متعلق یہی سمجھوں گا کہ اُس نے اُس عورت کے متعلق سچ کہا۔ چنانچہ اس نے ویسا ہی مکروہ شکل کا بچہ جنا۔ (جس سے اس شخص کو سچا سمجھا گیا۔)
سعید بن عُفَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری)سے، یحيٰ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے،عبد الرحمٰن نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کا ذکر کیا گیا تو حضرت عاصم بن عدیؓ نے اس کے متعلق ایک بات کہی اور (بات کرکے) واپس چلے گئے۔ پھر ان کے پاس انہی کی قوم کا ایک شخص آیا جو اُن سے شکایت کرنے لگا کہ اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے شخص کو پایا۔ حضرت عاصمؓ نے کہا: میں جو اس میں مبتلا ہوا ہوں تو محض اپنی بات کی وجہ سے۔ چنانچہ وہ اُس شخص کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور اُس نے آپؐ کو اُس شخص کے متعلق بتایا جس کو اُس نے اپنی بیوی کے پاس پایا۔ یہ شخص زرد رنگ کا دبلا پتلا سیدھے بالوں والا تھا اور جس شخص کے برخلاف دعویٰ کیا تھا کہ (عُوَیمر) نے اُس کو اپنی بیوی کے پاس پایا تھا، وہ گندمی رنگ، موٹی پنڈلیوں والا، موٹا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! اصل حقیقت کھول۔ چنانچہ وہ ایسا بچہ جنی جو اُس شخص کا ہمشکل تھاکہ جس کا ذکر اُس عورت کے خاوند نے کیا تھا کہ اُس نے اُس کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا۔ آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کرایا۔ ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ سے مجلس میں ہی کہا: کیا یہ وہی تھی جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو بغیر کھلے ثبوت کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا ۔ انہوں نے کہا: نہیں وہ ایک اور عورت تھی جو اسلام میں اعلانیہ بدکاری کرتی تھی۔ ابوصالح اور عبداللہ بن یوسف نے اپنی روایت میں خَدْلًا کی بجائے خَدِلًا کہا۔