بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
عبداللہ بن عبدالوہاب نے مجھ سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے حفصہ (بنت سیرین) سے، حفصہ نے حضرت امّ عطیہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: ہمیں میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے روک دیا جاتا تھا مگر خاوند پر چار مہینے اور دس دن سوگ ہوتا۔ اور (سوگ میں) ہم نہ سرمہ لگاتیں، نہ خوشبو اور نہ رنگا کپڑا پہنتیں، سوائے یمنی رنگین چادریں۔ اور ہمیں طہر کے وقت اجازت دی گئی کہ جب ہم میں سے کوئی حیض کے بعد نہائے تو تھوڑی سی ظفار کٹھ (کستوری) لگا لے اور ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے بھی روکا جاتا تھا ۔
اور (محمد بن عبداللہ) انصاری نے کہا کہ ہم سے ہشام (بن حسان) نے بیان کیاکہ حفصہ (بنت سیرین) نے ہمیں بتایا۔ مجھ سے حضرت امّ عطیہؓ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (سوگ سے) روکا۔ اور عورت خوشبو نہ لگائے مگر طہر کے قریب جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑی سی کٹھ یا ظفار استعمال کرے۔ ابوعبداللہ نے کہا: قُسْط اوركُسْت ایک ہی ہے جیسے کافور اور قافور.
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے، ابوبکر نے حضرت ابومسعود (انصاری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت اور کاہن کی شیرینی اور رنڈی کی خرچی سے روکا۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ عون بن ابی جُحَیفہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے اور گدوانے والی اور سود خور اور سود کھلانے والے پر لعنت کی۔ اور کتے کی قیمت اور رنڈی کی کمائی سے روکا ۔اور تصویر بنانے والوں پر لعنت کی۔
علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن جُحادہ سے، محمد نے ابوحازم (سلمان اشجعی) سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی (حرام) کمائی سے روکا۔
اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا کہ رَوح بن عبادہ نے ہمیں خبردی ۔ انہوں نے شبل سے، شبل نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے روایت کی۔ وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا جو آیت ہے، انہوں نے کہا: یہ وہ عدت تھی جو عورت اپنے خاوند کے گھر والوں کے پاس ضروری طور پر گزارا کرتی تھی اس لئے اللہ نے یہ حکم نازل کیا: تم میں سے جو فوت ہوں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے لئے وصیت کرجائیں کہ ایک سال تک انہیں فائدہ اٹھانے دینا ہوگا بغیر اس کے کہ نکالی جائیں۔ اگر وہ خود نکلیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں ۔ اس بھلے کام کی وجہ سے جو انہوں نے اپنے لئے خود بخود کیا ہے۔ مجاہد نے کہا: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سات مہینے اور بیس راتیں بڑھا کر سال پورا کر دیا۔ یہ ایسی وصیت ہے کہ اگر وہ چاہے تو اس وصیت کے مطابق گھر میں رہے اور اگر چاہے تو نکل جائے۔ اور یہی مراد ہے اللہ کے اس قول سے ’’بغیر اس کے کہ نکالی جائیں۔ اگر وہ خود نکلیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ مگر عدت جیسی کہ وہ ہے اس پر ضروری ہے۔ (ابن ابی نجیح نے) مجاہد سے روایت کرتے ہوئے یہ کہا۔ اور عطاء (بن ابی رباح) نے کہا کہ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ اس آیت نے عورت کی اس عدت کو جو وہ اپنے گھر والوں کے پاس گزارتی تھی منسوخ کردیا۔ اب جہاں چاہے عدت گزار ے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول غَيْرَ اِخْرَاجٍ جو ہے، عطاء نے کہا: اگر چاہے تو اپنے گھروالوں کے پاس عدت گزارے اور اپنی وصیت کے مطابق رہے اور اگر چاہے نکل جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم پر کوئی گناہ نہیں اس امر میں جو انہوں نے کیا۔ عطاء نے کہا: اس کے بعد میراث کا حکم آیا اور اس نے اس رہائش کو بھی منسوخ کردیا تو اب جہاں چاہے عدت گزارے اور اس کے لئے (اپنے خاوند کے گھر)رہنا ضروری نہیں۔
محمد بن کثیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے روایت کی کہ حُمَید بن نافع نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت زینب بنت امّ سلمہؓ سے، حضرت زینبؓ نے حضرت امّ حبیبہ بنت ابی سفیانؓ سے روایت کی کہ جب اُن کو اُن کے باپ کی موت کی خبر ملی تو انہوں نے خوشبو منگائی اور اپنے بازؤں پر ہاتھ پھیر کر لگائی اور کہنے لگیں: مجھے تو خوشبو کی ضرورت نہ تھی اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ کسی عورت کے لئے بھی کہ جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتی ہو جائز نہیں کہ وہ میت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر چار مہینے اور دس دن سوگ کرے۔
(تشریح)عمرو بن زُرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن علیہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا: ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی ہو؟ تو انہوں نے کہا: نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عَجلان کے مرد عورت میں علیحدگی کرا دی اور فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ تو انہوں نے نہ مانا۔ آپؐ نے پھر فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ تو پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ تو انہوں نے نہ مانا۔ تب آپؐ نے ان کو جدا کردیا۔ ایوب نے کہا کہ عمرو بن دینار مجھ سے کہتے تھے: اس حدیث میں ایک بات ہے میں تمہیں اس کو بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھتا۔ انہوں نے کہا: اس شخص نے کہا: میرا مال مجھے واپس ملنا چاہیے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم سچے بھی ہو تو تمہارا کوئی مال نہیں کیونکہ تم اس سے تعلق قائم کر چکے ہو۔ اور اگر تم جھوٹے ہو تو پھر یہ مال تم سے اور بھی زیادہ دور ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے فرمایا: تمہارا حساب اب اللہ پر ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تمہارا اس عورت سے کوئی سروکار نہیں۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! میرا مال؟ آپؐ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا ہے تو وہ اس معاہدہ کے عوض میں ہے جس کی رُو سے تم نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال سمجھا۔ اور اگر تم نے اس کے متعلق جھوٹ کہا ہے تو پھر یہ مال تمہارے لئے اور بھی زیادہ دور ہے۔ اس سے اب تم کو کچھ نہیں ملنا چاہیے۔