بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
عمرو بن زُرارہ نے مجھ سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن عُلَیّہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے سعید بن جُبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا: ایک شخص نے اپنی بیوی پر بہتان باندھا ہو۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوعجلان میں سے خاوند بیوی کو ایک دوسرے سے علیحدہ کردیا اور فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ انہوں نے انکار کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک یقیناً جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ پھر انہوں نے نہ مانا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ پھر انہوں نے نہ مانا۔ اس پر آپؐ نے اُن کو ایک دوسرے سے جدا کردیا۔ ایوب کہتے تھے کہ عمرو بن دینار نے مجھے کہا: اس حدیث میں ایک اور بات بھی ہے میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم بیان نہیں کرتے۔ عمرو نے بتایا کہ اس شخص نے کہا: میرا مال مجھے ملنا چاہیے۔ کہتے تھے: اُس سے کہا گیا: تمہارا کوئی مال نہیں۔ اگر تم سچے ہو تو تم اس کی عصمت سے فائدہ بھی تواٹھا چکے ہو۔اور اگر تم جھوٹے ہو تو پھر وہ (مال) تم سے بہت دور ہے۔
ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے روایت کی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد کو عورت سے علیحدہ کر دیا تھا جس پر اس نے زنا کی تہمت لگائی تھی اور آپؐ نے اُن کو قسمیں دلوائی تھیں۔
مسدد نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے روایت کی کہ(عبید اللہ نے کہا:) نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری مرد اور عورت کے درمیان لعان کروایا اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیا۔
یحيٰ بن بُکَیر نے ہمیں بتایا کہ مالک نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ نافع نے مجھے بتایا۔ نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد اور اُس کی عورت کے درمیان لعان کرایا اور اُس شخص نے اُس کے بچے سے انکار کردیا (کہ میرا نہیں۔) آپؐ نے ان دونوں کو جدا کر دیا اور بچے کو عورت کی طرف منسوب کرکے اُس کو دے دیا۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت مِسور بن مَخرمہؓ سے روایت کی کہ سُبَیعہ اسلمیہؓ کے ہاں بچے کی ولادت اس کے خاوند کی وفات کے چند رات بعد ہوئی، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپؐ سے نکاح کرنے کی اجازت مانگی اور آپؐ نے اس کو اجازت دی اور اس نے نکاح کیا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔عمرو (بن دینار) نے کہا: میں نے سعید بن جُبیر سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا۔ تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں کے متعلق فرمایا: تم دونوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ اب تمہارا اس سے کوئی سروکار نہیں۔ اُس نے کہا: میرا مال مجھے ملنا چاہیے۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں، اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا ہے تو تم اُس کی عصمت سے فائدہ بھی تو اُٹھا چکے ہو۔ اگر تم نے اس کے متعلق جھوٹ بولا ہے تو پھر وہ (مال) تمہارے لئے تو بہت ہی دور ہے۔ سفیان نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو سے (سن کر) یاد رکھی۔ اور ایوب (سختیانی) نے کہا: میں نے سعید بن جُبیر سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا۔ ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا ہو ۔ انہوں نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا اور سفیان نے اپنی دونوں انگلیاں یعنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو الگ کیا یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان میں سے مرد عورت کو جدا کیا اور فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ تین بار یوں فرمایا۔ سفیان نے کہا: میں نے اس (حدیث) کو عمرو اور ایوب سے اسی طرح یاد رکھا ہے جیسا کہ میں نے تم کو بتایا۔
اسماعیل (بن ابی اُوَیس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن قاسم نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کرنے والوں کا ذکر کیا گیا تو حضرت عاصمؓ نے اس کے متعلق ایک بات کہی اور پھر کہہ کر واپس چلے گئے۔ اتنے میں انہی کی قوم میں سے ایک شخص آیا اور اُن سے ذکر کیا کہ اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا۔ حضرت عاصمؓ نے کہا:میں جو اس بات میں مبتلا ہوا ہوں تو محض اپنی اس بات کی وجہ سے۔ پھر اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور انہوں نے آپؐ کو اس شخص کے متعلق بتایا، جس کو )عُوَیمر( نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا اور یہ شخص زرد رنگ کا دبلا پتلا، سیدھے بالوں والا تھا۔ اور وہ شخص جس کو )عُوَیمر( نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا گندم گوں، موٹی پنڈلیوں والا، موٹا، بہت گھنگھریالے بالوں والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! حقیقت کو کھول۔ چنانچہ اس عورت نے اس شخص کے ہم شکل بچہ جنا کہ جس کے متعلق اس کے خاوند نے ذکر کیا تھا کہ اس نے اسے اس کے پاس پایا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ سے مجلس میں ہی کہا: کیا وہ یہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بغیر کھلے ثبوت کے کسی کو سنگسار کرتا تو اس کو کرتا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ نہیں، وہ ایک اور عورت تھی جو اسلام میں اعلانیہ بدکاری کرتی تھی۔
(تشریح)عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ ہشام (بن عروہ) نے ہم سے بیان کیا،کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ (نیز) عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رفاعہ قُرَظی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور پھر (کچھ مدت بعد) اس نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپؐ سے ذکر کیا کہ وہ اس کے پاس آتا نہیں۔ اور یہ کہ اس کے پاس صرف ایک پھندنے جیسا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ تو اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور وہ تجھ سے فائدہ نہ اٹھائے۔
یحيٰ بن بُکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے عبدالرحمٰن بن ہُرمُز اَعرج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ زینب بنت ابی سلمہ نے ان کو اپنی ماں حضرت امّ سلمہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ اسلم (قبیلہ) کی ایک عورت جسے سُبَیعہؓ کہتے تھے اپنے خاوند کے پاس تھی جو اس کو چھوڑ کر ایسے وقت میں فوت ہوا کہ وہ حاملہ تھی۔ او ر ابوسنابل بن بَعکَک نے اس کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس نے اس کے ساتھ نکاح کرنے سے انکار کردیا۔ ابوسنابل کہنے لگا: بخدا یہ درست نہیں کہ تم نکاح کرو جب تک کہ تم دونوں عدتوں سے جو عدت زیادہ لمبی ہے وہ نہ گزار لو۔ (یہ سن کر) وہ تقریباً دس رات ٹھہری رہی۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپؐ نے فرمایا: نکاح کرلو۔
یحيٰ بن بُکیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے لیث (بن سعد) سے، لیث نے یزید (بن ابی حبیب) سے روایت کی کہ ابن شہاب نے ان کو لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے ان کو اپنے باپ سے روایت کرتے بتایا کہ انہوں نے (عمر بن عبداللہ) بن ارقم کو لکھا کہ وہ سُبَیعہ اسلمیہؓ سے پوچھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیا فتویٰ دیا تھا ؟ تو سُبَیعہ نے کہا: آپؐ نے مجھے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جب وضعِ حمل ہو جائے، نکاح کرلوں۔