بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا شعیب نے ہمیں بتایا۔ شعیب نے عبداللہ بن ابی حسین سے روایت کی کہ نافع بن جبیر نے ہم سے بیان کیا۔ نافع نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے پاس ٹھہر گئے جو کہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھا ہوا تھا تو آپؐ نے فرمایا: اگر تم مجھ سے یہ ٹکڑا بھی مانگو تو یہ بھی میں تمہیں کبھی نہ دوں۔ تُو اللہ کی اُس تقدیر سے کبھی آگے نہیں بڑھے گا جو تمہارے متعلق مقدر ہے اور اگر تُو نے پیٹھ پھیر دی تو ضرور اللہ تجھے ہلاک کردے گا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز سے، عبدالعزیز نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ سے دعا کرو تو دعا میں پختہ یقین کے ساتھ مانگو اور تم میں سےکوئی یہ نہ کہے اگر تو چاہے تو مجھ کو دے کیونکہ اللہ سے کوئی جبراً لینے والا نہیں۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالواحد سے، عبدالواحد نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار میں مدینہ کے کسی کھیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا اور آپؐ ایک کھجور کی چھڑی پر سہارا لے رہے تھے جو آپؐ کے پاس تھی۔ اسی اثنا میں ہم یہودیوں کے پاس سے گزرے تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ان سے روح کے متعلق پوچھو۔ تو ان میں سے کسی نے کہا: ان سے نہ پوچھو۔ کہیں اس کے متعلق ایسی بات نہ کہہ دیں جس کو تم ناپسند کرو۔ ان میں سے بعض نے کہا: ہم تو ان سے ضرور ہی پوچھیں گے۔ تب ان میں سے ایک شخص اُٹھ کر آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات پر خاموش رہے اور میں نے سمجھ لیا کہ آپؐ کو وحی ہورہی ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اور وہ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہىں۔ تُو کہہ دے کہ روح مىرے ربّ کے حکم سے ہے اور تمہىں معمولى علم کے سوا کچھ نہىں دىا گىا۔ اعمش نے کہا: ہماری قراءت میں اسی طرح ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اُس کو صرف اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اس کی بات کی تصدیق کرنا ہی اس کے گھر سے نکال رہا ہو، اللہ ایسے شخص کے لئے ضامن ہو گیا ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے گا یا اس کو اس کے اپنے ٹھکانے کی طرف مع اس اجر یا غنیمت کے جو اس نے حاصل کیا ہو لوٹائے گا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ اور اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ میرے بھائی عبدالحمید نے مجھے بتایا۔انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے محمد بن ابی عتیق سے، انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے علی بن حسین سے روایت کی کہ حضرت حسین بن علی علیہما السلام نے ان کو بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کے پاس رات کو آئے اور ان سے فرمایا: کیا تم نماز نہیں پڑھتے؟ حضرت علیؓ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اگر وہ ہمیں اُٹھانا چاہے تو ہمیں اٹھادے۔ جب میں نے آپؐ سے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جواب سن کر لوٹ گئے اور مجھے آپؐ نے کچھ جواب نہ دیا۔ پھر میں نے آپؐ کو جب آپؐ پیٹھ پھیر کر چلے، سنا۔ آپؐ اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے فرما رہے تھے: انسان سب سے بڑھ کر بحث کرنے والا ہے۔
محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح نے ہمیں بتایا۔ ہلال بن علی نے ہم سے بیان کیا۔ ہلال نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کی مثال کھیتی کے نرم پودے کی سی ہے جدھر ہوا اس کے پاس آکر اس کو جھکاتی ہے ادھر ہی کو اس کے پتے جھک جاتے ہیں۔ جب ہوا تھم جاتی ہے تو وہ بھی سیدھا کھڑا ہوجاتا ہے اور مؤمن بھی اسی طرح ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کے ذریعہ سے جھک جاتا ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے جو سخت سیدھا کھڑا رہتا ہے تاوقتیکہ اللہ اسے جب چاہے توڑ ڈالے۔
حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپؐ اس وقت منبر پر کھڑے فرما رہے تھے: جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان کے مقابل پر تم اتنا ہی عرصہ رہو گے کہ جتنا عرصہ عصر کی نماز سے سورج کے ڈوبنے تک ہوتا ہے۔ اہل تورات کو تورات دی گئی اور وہ اس کے مطابق عمل کرتے رہے یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی۔ پھر وہ عاجز آ گئے اور انہیں ایک ایک قیراط مزدوری دی گئی پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور اس کے مطابق عصر کی نماز تک کام کرتے رہے پھر اس کے بعد وہ عاجز آگئے اور انہیں ایک ایک قیراط مزدوری دی گئی۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم اس کے مطابق سورج کے ڈوبنے تک کام کرتے رہے اور تمہیں دو دو قیراط دئے گئے۔ اہل تورات کہنے لگے: اے ہمارے ربّ! ان لوگوں نے کام تو تھوڑا کیا ہے اور مزدوری ان کو زیادہ دی گئی ہے۔ ربّ نے فرمایا: کیا تمہاری مزدوری میں سے میں نے تم کو کچھ گھٹا کر دیا ہے؟ وہ بولے: نہیں۔ تو پروردگار نے فرمایا: تو پھر یہ میرا فضل ہے جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں۔
عبداللہ مسندی نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زُہری سے، زہری نے ابو ادریس سے، ابوادریس نے حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم سے ان باتوں پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کا کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہراؤ گے نہ تم چوری کرو گے نہ زنا کرو گے نہ اپنی اولاد کو قتل کرو گے اور نہ تم دیکھتے بھالتے اپنے ہاتھوں سے کوئی بہتان باندھو گے اورنہ کسی بھلی بات میں تم میری نافرمانی کرو گے۔ سو جس نے تم میں سے وفاداری کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو ان باتوں میں سے کوئی بات کر بیٹھا اور دنیا میں اس وجہ سے اس کو پکڑا گیا تو یہ اس کے لئے کفارہ ہوگا اور پاکیزگی کا موجب ہوگا اور جس کی اللہ نے پردہ پوشی کی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اگر وہ چاہے تو اس کو سزا دے اگر چاہے تو اس پر پردہ پوشی فرما کر اس سے درگزر کردے۔
معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی حضرت سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ساٹھ بیویاں تھیں تو انہوں نے کہا: آج رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس آؤں گا۔ ہر ایک حاملہ ہو گی اور ایک بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ چنانچہ وہ اپنی بیویوں کے پاس آئے، مگر ان میں سے صرف ایک ہی عورت جنی اور ایک ادھورا بچہ جنی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سلیمانؑ ان شاء اللہ کہتے تو ان میں سے ہر عورت حاملہ ہوتی اور ایک شاہسوار جنتی جو اللہ کی راہ میں لڑتا۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں بتایا۔ خالد حذاء نے ہم سے بیان کیا۔ خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بدوی کے پاس اس کی عیادت کے لئے آئے اور آپؐ نے فرمایا: تمہیں کوئی خوف نہیں۔ ان شاء اللہ یہ بیماری پاک کرنے کا موجب ہوگی۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: اس بدوی نے کہا: پاک کرنے کا موجب نہیں بلکہ یہ بخار ہے جو بہت بڑے بوڑھے پر جوش مار رہا ہے اس کو قبروں ہی کی زیارت کرائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر یہی سہی۔