بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
ابن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے، حصین نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی۔ جب لوگ سوئے رہے نماز نہ پڑھ سکے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا اپنے قبضے میں رکھا اور جب چاہا ان کو لوٹا دیا۔ آخر لوگوں نے اپنی اپنی حاجتیں پوری کیں اور وضو کیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور اچھی طرح روشن ہو گیا۔ (اس وقت) آپؐ کھڑے ہوئے اور آپؐ نے نماز پڑھائی۔
اسحاق بن ابی عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ میں دجال آئے گا تو وہ فرشتوں کو پائے گا، اس کا پہرہ دے رہے ہیں پس انشاءاللہ دجال اس (مدینہ)کے قریب نہ آئے گا اور نہ ہی طاعون۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک نبی کی ایک دعا ہوتی ہے اللہ نے چاہا تو میں اپنی دعا چھپائے رکھوں گا اور قیامت کے روز اپنی امت کے لئے یہ دعا بطور شفاعت کروں گا۔
یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: اے اللہ مجھے بخش دے اگر تو چاہے، مجھ پر رحم کر اگر تو چاہے، مجھے دے اگر تو چاہے۔ اور چاہیئے کہ دل کے پختہ ارادے سے اس سے مانگے وہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ اس کو زبردستی منوانے والا تو کوئی نہیں۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ اور اعرج سے روایت کی۔ نیز اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ میرے بھائی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے محمد بن ابی عتیق سے، انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: مسلمانوں میں سے ایک شخص اور یہودیوں میں سے ایک شخص نے آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ مسلمان نے یہ کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمدؐ کو تمام جہانوں سے بہتر سمجھ کر چن لیا۔ قسم تھی جو وہ کھایا کرتا تھا۔ یہودی نے کہا: اسی ذات کی قسم جس نے موسیٰؑ کو تمام جہانوں سے بہتر سمجھ کر چن لیا۔ اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کو ایک تھپڑ لگایا۔ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور اس نے آپؐ کو وہ واقعہ بتایا جو اس کا اور مسلمان کا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم موسیٰؑ سے مجھے بہتر قرار نہ دو کیونکہ لوگ قیامت کے روز بے ہوش ہوجائیں گے اور میں پہلا ہوں گا جو ہوش سنبھالے گا اور کیا دیکھوں گا کہ موسیٰؑ عرش کا کونہ پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آیا وہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جو بے ہوش ہوئے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ نے مستثنیٰ رکھا۔
یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے ہم سے بیا ن کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا میں نے اپنے تئیں ایک کنوئیں پر دیکھا جتنا اللہ نے چاہا کہ میں پانی نکالوں میں نے نکالا۔ پھر ابن ابی قحافہؓ نے ڈول لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچ کر نکالے اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری رہی اور اللہ نے ان کی کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگزر کیا۔ پھر عمر ؓنے ڈول لیا۔ پھر وہ ڈول چرسا (بڑا ڈول)ہوگیا اور میں نے لوگوں میں کوئی ایسا شہ زور نہیں دیکھا جو وہ حیرت انگیز کام کرتا ہو جو عمرؓ نے کیا۔ اتنا پانی نکالا کہ لوگ اس کنوئیں کے اردگرد اپنے اپنے تھانوں میں جا بیٹھے۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوحفص عمرو نے ہمیں بتایا۔ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ اور حضرت حر بن قیس بن حصن فزاریؓ حضرت موسیٰؑ کے ساتھی کے بارے میں کہ آیا وہ خضرتھے آپس میں بحث کرنے لگے۔ اسی اثنا میں حضرت ابی بن کعب انصاریؓ ان دونوں کے پاس سے گزرے تو حضرت ابن عباسؓ نے ان کو بلایا اور کہا کہ میں اور میرا یہ ساتھی حضرت موسیٰؑ کے اس ساتھی کے متعلق آپس میں بحث کر رہے ہیں جس کی ملاقات کے لئے حضرت موسیٰؑ نے راستہ دریافت کیا تھا۔ کیا آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا واقعہ بیان کرتے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اسی اثنا میں کہ حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کے مجمع میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپؑ کے پاس آیا اور پوچھا: کیا آپؑ کسی کو جانتے ہیں جو آپؑ سے زیادہ عالم ہو؟حضرت موسیٰؑ نے کہا نہیں۔ اس پر حضرت موسیٰؑ کو وحی کی گئی نہیں بلکہ ہمارا بندہ خضر (زیادہ عالم ہے۔) حضرت موسیٰؑ نے ان کی ملاقات کے لئے راستہ دریافت کیا تو اللہ نے ان کے لئے مچھلی ایک نشانی مقرر کردی اور ان سے کہا گیا: جب تم اس مچھلی کو کھو بیٹھو تو پھر تم لوٹ آؤ کیونکہ تم اس سے ملو گے۔ حضرت موسیٰؑ اس مچھلی کے نشان کے پیچھے پیچھے جو سمندر میں تھا، جاتے تھے۔ حضرت موسیٰؑ کے نوجوان نے حضرت موسیٰؑ سے کہا کہ جب ہم نے چٹان کے پاس آرام کیا تو میں اس چٹان کے پاس مچھلی کو بھول گیا۔ شیطان نے ہی مجھے اس کا یاد رکھنا بھلا دیا۔ حضرت موسیٰؑ نے کہا: یہی تو وہ تھا جو ہم چاہتے تھے۔ اس پر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشان کا کھوج لیتے ہوئے واپس لوٹے اور انہوں نے خضر کو پالیا۔ پھر ان کا وہی واقعہ ہے جو اللہ نے بیان کیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ نیز احمد بن صالح نے کہا کہ ابن وہب نے ہم سے بیان کیا کہ یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: ہم کل انشاء اللہ بنو کنانہ کے ٹیلہ پر اُتریں گے جہاں لوگوں نے کفر پر اڑے رہنے کی آپس میں قسمیں کھائی تھیں۔ آپؐ کی مراد محصب تھی۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیا ن کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے، عمرو نے ابوالعباس سے، ابوالعباس نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کا محاصرہ کیا مگر اس کو فتح نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا: ہم انشاء اللہ کل لوٹ جائیں گے۔ مسلمان بولے: کیا ہم لوٹ جائیں اور ہم نے فتح نہیں کیا؟ آپؐ نے فرمایا: پھر کل صبح لڑائی شروع کردو۔ چنانچہ صبح کو وہ لڑنے لگے اور انہیں زخم لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل ہم انشاء اللہ لوٹ جائیں گے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات انہیں پسند آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔
(تشریح)