بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ وہ اس روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جب اللہ آسمان میں کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کی بات سن کر عاجزی سے اپنے پَر پھڑپھڑاتے ہیں جس کی ایسی آواز ہوتی ہے جیسے زنجیر کو پتھر پر مارنے سے۔ علی (بن مدینی) کہتے تھے: سفیان کے سوا دوسرے راویوں نے کہا کہ (اس حدیث میں بجائے صَفْوَانٍ کے) صَفَوَانٍ ہے۔ یہ آواز (آسمان والوں تک) پہنچ جاتی ہے جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں: تمہارے ربّ نے کیا کہا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں: حق ہی فرمایا۔ اور وہ بہت بلند اور بہت ہی بڑا ہے۔ علی کہتے تھے: اور سفیان نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو نے ہمیں یہی بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ سفیان نے کہا: عمرو کہتے تھے: میں نے عکرمہ سے سنا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے بتایا۔ علی کہتے تھے: میں نے سفیان سے پوچھا: (کیا عمرو بن دینار نے یوں ہی) کہا تھا کہ میں نے عکرمہ سے سنا؟ عکرمہ نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے سفیان سے کہا کہ ایک آدمی نے یوں روایت کیا کہ عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ وہ اس کو مرفوع بیان کرتے تھے کہ انہوں نے اس آیت کو یوں پڑھا: فُزِّعَ۔ سفیان نے کہا: عمرو نے بھی اسی طرح پڑھا۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اسی طرح سنا تھا یا نہیں۔ سفیان نے کہا: یہی ہماری قراءت ہے۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ ابوصالح نے ہمیں بتایا۔ ابوصالح نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فرمائے گا: اے آدم! تو وہ کہیں گے: میں حاضر ہوں اور تیری خدمت کے لئے تیار ہوں۔ پھر بلند آواز سے پکار کر ان سے کہا جائے گا کہ اللہ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اپنی اولاد میں سے آگ میں جھونکنے کے لیے ایک گروہ نکال لو۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے کسی عورت پر بھی اتنا رشک نہیں کیا جتنا کہ حضرت خدیجہؓ پر۔ آپؐ کے ربّ نے آپؐ سے یہ فرمایا تھا کہ خدیجہ کو ایک گھر کی بشارت دے دیں جو جنت میں ہوگا۔
یحيٰ بن بکیرنے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھے خبر دی۔ ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے کسی بات کو بھی اتنا کان لگا کر نہیں سنا جتنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کان لگا کر سنا جب کہ آپؐ قرآن خوش الحانی سے پڑھ رہے ہوں۔ اور حضرت ابوہریرہؓ کے ایک ساتھی نے کہا: خوش الحانی سے مراد اس کو بلند آواز سے پڑھنا ہے۔
اسحاق نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمٰن نے جو کہ عبداللہ بن دینار کے بیٹے ہیں، ہم سے بیان کیا۔ عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریلؑ کو پکارتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر۔ پھر جبریلؑ اس سے محبت کرتا ہے۔ پھر جبریلؑ آسمان میں پکار کر کہتا ہے کہ اللہ کو فلاں شخص سے محبت ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں اور زمین کے لوگوں میں اس کے لئے قبولیت ڈال دی جاتی ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ فرشتے رات کو اور کچھ فرشتے دن کو یکے بعد دیگرے تم میں آتے رہتے ہیں اور عصر کی نماز اور فجر کی نماز میں وہ اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ پھر جو تم میں رات کو رہے تھے وہ اوپر کو چلے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے اور وہ ان سے بہتر جانتا ہے، تم نے میرے بندوں کو کس کیفیت میں چھوڑا ہے؟ وہ کہیں گے: ہم نے ان کو اس حالت میں چھوڑا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس آئے تھے تو اس وقت بھی نماز پڑھ رہے تھے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے واصل سے، واصل نے معرور سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوذرؓ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جبریلؑ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ بشارت دی کہ جو ایسی حالت میں مرے گا کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہوگا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا: گو اس نے چوری کی ہو، گو اس نے زنا کیا ہو؟ آپؐ نے فرمایا: گو اس نے چوری کی ہو گو اُس نے زنا کیا ہو۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص نے ہمیں بتایا۔ ابواسحاق ہمدانی نے ہم سے بیان کیا۔ ابواسحاق نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر آرام کرنے لگو تو یہ کہو: اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا اور اپنی توجہ تیری طرف کردی اور اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور اپنی پیٹھ تجھ پر ہی اُمید کرتے ہوئے اور تجھ سے ہی خوف کرتے ہوئے تجھ سے ہی ٹیک دی۔ کوئی جائے پناہ نہیں اور بجُز تیرے کہیں نجات کی جگہ نہیں۔ میں اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اُتاری اور تیرے اس نبی کو مان لیا جو تو نے بھیجا۔ پھر اگر تم اس رات مر جاؤ تو فطرت پر مرو گے اور اگر تم صبح کرو تو اجر پاؤ گے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ سفیان نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓسے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب میں فرمایا: اے اللہ! قرآنِ مجید کے نازل کرنے والے، حساب جلد لینے والے، ان گروہوں کو بھگا دے اور ان کے قدم اُکھاڑ دے۔ حمیدی نے اتنا اور بڑھایا، (کہا:) سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی خالد نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت عبداللہؓ سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ مسدد نے ہشیم سے، ہشیم نے ابو بشر سے، ابو بشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ یعنی تو اپنی نماز بلند آواز سے نہ پڑھ اور نہ بالکل خاموشی سے۔ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نسبت) فرمایا کہ یہ آیت اُس وقت نازل کی گئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پوشیدہ طور پر رہتے تھے۔ جب آپؐ کی آواز بلند ہوتی، مشرکین سنتے تو وہ قرآن کو بُر ابھلا کہتے اور اس ذات کو بھی جس نے یہ نازل کیا اور اس کو بھی جو لے کر آیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا۔ یعنی اپنی قراءت کواتنا اُونچا نہ کر کہ مشرک سن پائیں، اور اپنے ساتھیوں سے آواز اتنی دھیمی نہ کر کہ تو ان کو سنا نہ سکے اور اس کی درمیانی راہ اختیار کر۔ اور اُونچا نہ پڑھ کہ وہ تم سے قرآن لے لیں۔
(تشریح)