بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
اور حضرت ابن عباسؓ نے کہا: ابوسفیان بن حرب نے مجھے بتایا کہ ہرقل نے اپنے ترجمان کو بلایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگایا اور اس کو پڑھا: اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمٰن اور رحیم ہے۔ محمدؐ کی طرف سے جو کہ اللہ کا بند ہ اور اس کا رسول ہے، ہرقل کی طرف۔ اور اے اہل کتاب! آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے روایت کی۔ میں سمجھتا ہوں انہوں نے حضرت براءؓ سے روایت کی۔ حضرت براءؓ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء میں وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ پڑھتے سنا اور میں نے کسی شخص کو بھی نہیں سنا کہ جو آپؐ سے بڑھ کر خوش آواز ہو یا (کہا:) آپؐ سے اچھا پڑھتا ہو۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے اپنی ماں سے، ان کی ماں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔آپ فرماتی ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھا کرتے اور آپؐ کا سر میری گود میں ہوتا اور میں اس وقت حائضہ بھی ہوتی۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عثمان بن عمر نے ہمیں بتایا۔ علی بن مبارک نے ہمیں خبر دی۔ علی نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اہل کتاب مسلمانوں کے لئے تورات کو عبرانی میں پڑھا کرتے تھے اور عربی زبان میں اس کی شرح بیان کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہلِ کتاب کی تصدیق مت کرو اور نہ ہی ان کو جھٹلاؤ اورکہو: ہم اللہ (پر) اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس یہودیوں میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپؐ نے یہودیوں سے پوچھا: تم ان سے کیا کیا کاروائی کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم ان کا منہ کالا کرتے ہیں اور ان کو رسوا کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تورات لاؤ اور اس سے پڑھ کر سناؤ اگر تم سچے ہو ۔ تو وہ آئے اور انہوں نے ان لوگوں میں سے جن کو وہ پسند کرتے تھے ایک شخص سے کہا: ارے کانے پڑھو اور وہ پڑھنے لگا۔ یہاں تک کہ تورات میں ایک مقام پر پہنچا تو اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے کہا: اپنا ہاتھ اُٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اُس میں رجم کا حکم تھا جو بالکل واضح تھا۔ اس پر وہ کہنے لگا: محمد! ان پر رجم ہی ہے لیکن ہم اپنے درمیان اس کو چھپائے رکھتے ہیں۔ تو آپؐ نے ان کے متعلق حکم دیا اور وہ دونوں سنگسار کئے گئے۔ میں اس یہودی کو دیکھتا تھا کہ وہ اس عورت پر پتھر سے بچانے کے لئے جھکتا تھا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے حضرت عائشہؓ کے اس واقعہ کے متعلق مجھے بتایا جبکہ بہتان باندھنے والوں نے ان کے متعلق وہ کچھ بہتان باندھا جو انہوں نے باندھا اور ہر ایک نے اس واقعہ کا ایک ٹکڑا مجھ سے بیان کیا۔ وہ بیان کرتی ہیں : میں اپنے بچھونے پر لیٹ گئی اور میں اس وقت خوب جانتی تھی کہ میں بری ہوں اور اللہ مجھے بَری قرار دے گا اور اللہ کی قسم میں یہ گمان نہیں کرتی تھی کہ اللہ میرے متعلق کوئی ایسی وحی نازل کرے گا جو پڑھی جایا کرے گی اور میرے نزدیک میری حیثیت اس سے بہت کم تھی کہ اللہ میرے متعلق کوئی ایسی بات کرے جو پڑھی جائے اور اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل کی: اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ۔ کُل دس آیتیں۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مخفی رہے تھے۔ تاہم آپؐ بلند آواز سے بھی (پڑھتے)۔ جب مشرک سنتے تو وہ قرآن کو بُر ابھلا کہتے اور اس کو بھی جو اسے لایا۔ اس پر اللہ عز و جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: تو اپنی نماز بلند آواز سے نہ پڑھ اور نہ بالکل خاموشی سے۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے ان کو خبر دی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریاں اور جنگل پسند کرتے ہو۔ جب تم اپنی بکریوں یا (کہا:) اپنے جنگل میں ہو اور نماز کے لئے اذان دو تو اپنی آواز کو اذان دیتے وقت بلند کرو کیونکہ جہاں تک مؤذن کی آواز جاتی ہے وہاں تک جو بھی اس آواز کو سنے گا جنّ ہو یا انسان یا کوئی اور چیز تو ضرور ہی وہ قیامت کے روز اس کے لئے گواہی دے گی۔ حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سےروایت کی کہ مجھے عروہ نے بتایا۔ انہیں مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے بتایا، ان دونوں نے حضرت عمر بن خطابؓ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ہشام بن حکیمؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورة الفرقان پڑھتے سنا۔ میں نے ان کی قراءت کو کان لگا کر جو سنا تو کیا سنتا ہوں کہ وہ بہت سی ایسی طرزوں سے پڑھ رہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائی تھیں۔ قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان پر لپک پڑتا مگر میں نے بڑا صبر کیا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر کو گریبان سے پکڑ لیا۔ میں نے کہا: یہ سورة جو کہ میں نے تمہیں پڑھتے ہوئے سنی ہے تمہیں کس نے پڑھائی ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ پڑھائی تھی۔ میں نے کہا: تم نے غلط کہا ہے۔ جو قراءت تم نے پڑھی ہے اُس کے برخلاف ایک اور طرز سے آپؐ نے مجھے پڑھائی تھی ۔ یہ کہہ کر میں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھینچتے ہوئے لے گیا۔ میں نے کہا: میں نے اس کو سورة الفرقان ایسی طرزوں سے پڑھتے سنا جو آپؐ نے مجھے نہیں پڑھائی۔ آپؐ نے فرمایا: اسے چھوڑو۔ ہشام! پڑھو۔ انہوں نے وہ قراءت پڑھی جو میں نے ان سے سنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سورة اسی طرح نازل کی گئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! تم پڑھو اور میں نے وہ قراءت پڑھی (جو آپؐ نے مجھے پڑھائی تھی۔) آپؐ نے فرمایا: اسی طرح یہ سورة نازل کی گئی۔ دیکھو یہ قرآن سات طرزوں پر نازل کیا گیا ہے جو اس میں سے آسان ہو اس کو تم پڑھو۔
(تشریح)