بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ یزید نے کہا: مطرف بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا۔ مطرف نے حضرت عمرانؓ سے روایت کی۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کرتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: ہر شخص کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے سہولت دے دی گئی ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان مورتوں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا: اب زندہ کرو جو تم نے بنایا ہے۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان مورتوں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا: زندہ کرو جو تم نے بنایا ہے۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابن فضیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمارہ سے، عمارہ نے ابوزُرعہ سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا:میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ان سے کون بڑھ کر ظالم ہے جو میری پیدائش کی طرح بنانے لگا۔ ایک چیونٹی تو بنائیں یا ایک دانہ تو بنائیں یا ایک جَو ہی بنائیں۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے منصور اور اعمش سے روایت کی۔ ان دونوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا اور سعد نے ابوعبدالرحمٰن سے، ابوعبدالرحمٰن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، حضرت علیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ ایک جنازہ میں تھے۔ آپؐ نے ایک لکڑی لی اور زمین کریدنے لگے۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ آگ میں یا جنت میں لکھ نہ دیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا: کیا ہم بھروسہ کرکے عمل چھوڑ نہ دیں؟ آپؐ نے فرمایا: عمل کئے جاؤ کیونکہ ہر شخص کو سہولتیں دی گئی ہیں۔ (پھر آپؐ نے یہ ساری آیت پڑھی:) پس جس نے (خدا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔
(تشریح)محمد بن ابی غالب نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ معتمر نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابورافع نے اُن کو بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے ہیں: اللہ نے مخلوقات پیدا کرنے سے پہلے ایک نوشتہ لکھا: میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی ہے اور یہ نوشتہ عرش کے اوپر اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔
(تشریح)عبیداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے، ان دونوں نے زہدم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جرم کے اس قبیلہ اور اشعریوں کے درمیان دوستی اور برادری کا تعلق تھا۔ ہم حضرت ابوموسیٰؓ اشعری کے پاس تھے۔ ان کے سامنے کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا اور آپؓ کے پاس بنو تیم اللہ کا ایک شخص تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ غلاموں میں سے ہے۔ انہوں نے اس کو کھانے کے لئے بلایا۔ وہ کہنے لگا: میں نے اسے (مرغی کو ) کچھ کھاتے ہوئے دیکھا تھا۔ مجھے اس سے گھن آئی اور میں نے قسم کھائی کہ اسے نہیں کھاؤں گا۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: ادھر آؤ میں تمہیں اس قَسم کے متعلق بتاتا ہوں۔ میں اشعریوں کے چند لوگوں کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس آیا کہ ہم آپؐ سے سواری مانگیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کوئی سواری نہ دوں گا اور میرے پاس ہے بھی نہیں جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ اتنے میں غنیمت کے کچھ اونٹ نبی ﷺکے پاس لائے گئے۔ آپؐ نے ہمارے متعلق پوچھا۔ فرمایا: وہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ آپؐ نے ہمیں پانچ اونٹ دینے کا حکم دیا جو سفید کہانوں والے تھے۔ پھر ہم چل پڑے۔ ہم نے کہا: ہم نے کیا کِیا؟ رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمیں سواری نہیں دیں گے اور آپؐ کے پاس کچھ نہیں جس پر آپؐ ہمیں سوار کریں۔ پھر آپؐ نے ہمیں سواری دے دی۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو آپؐ کی قسم سے غفلت میں رکھا۔ اللہ کی قسم ہم ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہ خیال کرکے ہم آپؐ کے پاس لوٹے اور ہم نے آپؐ سے کہا۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہیں سواری نہیں دے رہا بلکہ اللہ نے تمہیں سوار کیا ہے۔میں اللہ کی قسم! جو بھی ایسی قسم کھا بیٹھوں پھر اس کے سوا کسی اور بات کو اس سے بہتر سمجھوں تو ضرور ہی میں وہی کرتا ہوں جو اس سے بہتر ہوتی ہے اور کفارہ دے کر اس قسم کو توڑ دیتا ہوں۔
عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ قرہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوجمرہ ضبعی نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے بیان کیا کہ) میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عبدالقیس کے نمائندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہمارے اور آپؐ کے درمیان مضر کے یہ مشرک ہیں اور ہم حرمت والے مہینوں میں ہی آپؐ کے پاس پہنچ سکتے ہیں اس لئے آپؐ ہمیں چند مختصر باتوں کا حکم دیں جن پر اگر ہم عمل کریں جنت میں داخل ہوجائیں اور ان کی طرف ہم ان لوگوں کو بھی بلائیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے ہی تمہیں روکتا ہوں۔ میں تم کو اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں اور کیاتم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ یہ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں اور نمازوں کو سنوار کر ادا کرنا اور زکوٰة دینا اور تم غنیمت سے پانچواں حصہ بھی ادا کرنااور تمہیں چار چیزوں سے منع کرتا ہوں۔ کدو کے تونبے اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور رال سے روغنی برتن اور سبز لاکھی برتن میں نہ پیا کرو۔
ہُدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ نے ہمیں بتایا۔ حضرت انسؓ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوموسیٰؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ترنج کی سی ہے، مزہ اس کا اچھا ہے اور خوشبو بھی اچھی ہے اور جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ اچھا ہے اور اس کی خوشبو قطعاً نہیں اور فاجر کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے نیاز بو کی سی ہے اس کی خوشبو اچھی ہے اور اس کا مزا کڑوا ہے اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزہ کڑوا ہے اور اس کی خوشبو بھی کوئی نہیں۔