بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہیر نے ہمیں بتایا۔ مغیرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شقیق بن سلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہؓ کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔ ہم کہتے: اللہ پر سلامتی ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا: اللہ تو خود السّلام ہے بلکہ تم یوں کہا کرو: تمام زبانی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں بھی (اللہ ہی کے لئے ہیں) اے نبی تجھ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں اور سلامتی ہو ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔
(تشریح)احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے ہمیں بتایا کہ یونس نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید سے جو مسیب کے بیٹے ہیں، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ قیامت کے روز اپنی قدرت کاملہ سے زمین کو سمیٹ لے گا اور آسمان کو لپیٹ دے گا۔ پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ اور شعیب اور زبیدی اور ابن مسافر اور اسحاق بن یحيٰ نے بھی زُہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے یہی نقل کیا۔
(تشریح)ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ حسین معلم نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن بریدہ نے مجھے بتایا۔ عبداللہ نے یحيٰ بن یعمر سے، یحيٰ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: میں تیری ہی عزت کی پناہ لیتا ہوں۔ تو وہ ذات ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ تو ہی ہے وہ جو مرتا نہیں اور جن و انس سب مرتے ہیں۔
ابوالاسود کے بیٹے نے ہم سے بیان کیا کہ حرمی نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: آگ میں لوگوں کو ڈالا جائے گا۔ نیز خلیفہ نے مجھ سے کہا کہ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ نیز (خلیفہ نے یہ جو کہا:) معتمر سے مروی ہے کہ میں نے اپنے باپ سے سنا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: (لوگ) اس میں برابر ڈالے چلے جائیں گے اور وہ یہی کہتی جائے گی کیا کچھ اور بھی ہیں۔ یہاں تک کہ رب العالمین اس میں اپنا قدم رکھے گا اور وہ ادھر ادھر ہٹ کر سمٹ جائیں گی پھر کہے گی: بس بس تیری عزت اور تیری عظمت کی ہی قسم اور جنت میں ہمیشہ جگہ بچی رہے گی یہاں تک کہ اللہ اس کے لئے ایک مخلوق پیدا کرے گا اور جنت کی بچی ہوئی جگہ میں انہیں آباد کرے گا۔
(تشریح)قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے سلیمان سے، سلمان نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! سب خوبیاں تیری ہی ہیں، تو ان آسمانوں کا اور اس زمین کا ربّ ہے، سب خوبیاں تیری ہی ہیں، تو ان آسمانوں کا اور اس زمین کا قائم رکھنے والا ہے اور ان کا بھی جو ان میں ہیں۔ سب خوبیاں تیری ہیں، تو ان آسمانوں کا اور اس زمین کا نور ہے، تیری بات نہایت سچی اور تیرا وعدہ نہایت پکا اور تجھ سے ملنا بھی برحق ہے اور جنت بھی یقیناً ہے اور دوزخ بھی یقیناً ہے اور وہ گھڑی بھی یقیناً ہے۔ اے اللہ! میں اپنے تئیں تیرے سپرد کر چکا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر ہی بھروسا کیا اور تیری طرف جھک گیا اور تیرے وسیلہ سے ہی دشمنوں کا مقابلہ کیا اور تیرے ہی پاس فیصلہ کے لئے جھگڑے کو لایا ہوں۔ میری کوتاہی پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے تو مجھے معاف کر، اس کو بھی جو قبل از وقت کر دی اور اس پر بھی جس میں میں نے تاخیر کر دی ہے، اور اس کو بھی جو میں نے پوشیدہ رکھا ہے اور اس کو بھی جس کا میں نے اظہار کیا، تو ہی میرا معبود ہے تیرے سوا میرا کوئی معبود نہیں۔ ثابت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہم سے یہی بیان کیا اور یہ بھی کہا تو حق ہے اور تیری بات بھی حق ہے۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ حماد نے ایوب سے، ایوب نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہم جب بلندی پر چڑھتے اللہ اکبر کہتے۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے تئیں سنبھالے رکھو تم کسی بہرے کو نہیں بلا رہے اور نہ کسی غائب کو۔ تم اس کو بلاتے ہو جو بہت ہی سننے والا،دیکھنے والا اور بہت ہی قریب ہے۔ پھر آپؐ میرے پاس آئے اور میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا: عبداللہ بن قیس! لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہتے رہو کیونکہ وہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے یا فرمایا: کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کا پتہ نہ دوں۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے مجھے بتایا کہ عمرو (بن حارثہ) نے مجھے خبردی۔ انہوں نے یزید سے، یزید نے ابوالخیر سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے سنا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ایسی دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو۔ اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ہی ظلم کیا اور کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا مگر تو ہی۔ پس تو میرے گناہوں پر اپنی طرف سے پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر فرما۔ تو ہی غفور رحیم ہے۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے مجھے بتایا کہ عمرو (بن حارثہ) نے مجھے خبردی۔ انہوں نے یزید سے، یزید نے ابوالخیر سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے سنا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ایسی دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو۔ اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ہی ظلم کیا اور کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا مگر تو ہی۔ پس تو میرے گناہوں پر اپنی طرف سے پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر فرما۔ تو ہی غفور رحیم ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ یونس نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن سے بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے پکارا، کہا: اللہ تمہاری قوم کی بات سن چکا ہے اور نیز وہ جواب بھی جو انہوں نے تمہیں دیا ہے۔
ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ معن بن عیسیٰ نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمٰن بن ابی الموالی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے محمد بن منکدر سے سنا۔ محمد نے عبداللہ بن حسن سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: حضرت جابر بن عبداللہ سلمیؓ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو تمام معاملات میں استخارہ کرنا سکھایا کرتے تھے اسی طرح جس طرح آپؐ قرآن کی سورة سکھاتے۔ فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا قصد کرے تو فرضوں کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر یہ دعا کرے: اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل تجھ سے بھلائی چاہتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل تجھ سے قدرت چاہتا ہوں اور تیرے فضل میں سے تجھ سے مانگتا ہوں کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے میں نہیں جانتا اور تو ہی پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام، پھر وہ اس کام کا بعینہ نام لے کر کہے، میرے لئے موجودہ وقت میں اور آئندہ بہتر ہے۔ راوی نے کہا یا (یوں فرمایا کہ ) میرے دین میں اور میری زندگی میں اور میرے انجام کے لئے بہتر ہے تو اس کو میرے لئے مقدر کر اور اس کو میرے لئے آسان فرما اور پھر اس کے بعد اس میں مجھے برکت دے اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین اورمیری زندگی اور میرے انجام کے لئے شر ہے یا فرمایا: موجودہ وقت میں یا آئندہ شر ہے تو مجھے اس سے ہٹا دے اور میرے لئے جو امر بہتر ہو جہاں بھی ہو اسے مقدر کر پھر مجھ کو اس پر خوش رکھنا۔
(تشریح)