بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 105 hadith
اور (محمد بن عبداللہ بن مثنیٰ) انصاری نے کہا کہ ہمیں ہشام بن حسان نے بتایا کہ ہم سےعکرمہ نے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر پچھنے لگوائے۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن حسان) سے، ہشام نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر درد کی وجہ سے جو آپؐ کو تھی ایک چشمے پر جسے لحيُ جمل کہتے تھے اپنے سر میں پچھنے لگوائے اور آپ اس وقت احرام باندھے تھے۔
اور محمد بن سواء نے کہا ہمیں ہشام (بن حسان) نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شقیقہ کی وجہ جو آپؐ کو تھا اپنے سر پر پچھنے لگوائے اور آپؐ اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔
اسماعیل بن ابان نے ہمیں بتایا کہ (عبدالرحمٰن) بن غسیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا مجھ سے عاصم بن عمر نے بیان کیا عاصم نے حضرت جابر بن عبداللہؓ (انصاری) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: تمہارے علاجوں میں سے اگر کسی میں بہتری ہے تو شہد کے شربت میں یا پچھنے لگانے میں یا آگ سے جلانے میں ہے اور میں نہیں پسند کرتا کہ میں داغ لگاؤں۔
ابو الولید ہشام بن عبد الملک نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن سلیمان بن غسیل نے ہمیں بتایا۔ عاصم بن عمر بن قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت جابر ؓ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے آپؐ نے فرمایا: تمہاری دواؤں میں سے اگر کسی میں شفا ہے تو پچھنے لگانے میں یا آگ سے جھلسانے میں ہے اور میں نہیں پسند کرتا کہ میں داغ لگاؤں۔
سلیم بن حیان نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن میناء نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ متعدی بیماری ہوتی ہے اور نہ ہی بدشگونی اور نہ قبروں پر الو ہوتا ہے اور نہ صَفر منحوس ہوتا ہے اور جذامی شخص سے ایسے بھاگو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے روایت کی۔(ایوب نے) کہا میں نے مجاہد سے سنا۔ مجاہد نے (عبدالرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے،انہوں نے حضرت کعبؓ سے جو عجرہ کے بیٹے ہیں، روایت کی۔انہوں نے کہا جس سال حدیبیہ کی صلح ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اورمیں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے سر سے جھڑ رہی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا سر مُنڈوا ڈالو اور تین دن روزے رکھو یا چھ (مسکینوں) کو کھانا کھلاؤ یا ایک بکری قربانی کرو۔ ایوب کہتے تھے: میں نہیں جانتا ان میں سے کس بات کو پہلے فرمایا۔
عمران بن میسرہ نے ہمیں بتایاکہ (محمد) ابن فضیل نے ہم سے بیان کیا کہ حصین (بن عبدالرحمٰن)نے ہمیں بتایا۔ حصین نے عامر (شعبی) سے، عامر نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: دم صرف نظر لگنے سے یا سانپ بچھو کے کاٹنے سے کروانا چاہیئے۔ (حصین بن عبد الرحمٰن نے کہا:)میں نے سعید بن جبیر سے ان کا یہ قول ذکر کیا تو انہوں نے کہا ہم سے حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے تمام اُمتیں پیش کی گئیں اور نبی ایک ایک اور دو دو کر کے گزرنے لگے ان کے ساتھ ان کی جماعت ہوتی اور کوئی نبی ایسا بھی ہوتا کہ اس کے ساتھ ایک بھی نہ ہوتایہاں تک کہ مجھے دور ایک بہت بڑی جماعت دکھلائی گئی میں نے کہا:یہ کیا ہے؟ کیا یہ میری امت ہے؟ مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰؑ اور ان کی قوم ہے۔ مجھے کہا گیا افق کی طرف دیکھو تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت بڑی جماعت ہے جس نے سارے اُفق کو بھر دیا ہے۔ پھر مجھے کہا گیا: آفاق میں ہر جانب نظر دوڑاؤ۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت ہی بڑی جماعت ہے جس نے اُفق کو بھردیا ہوا ہے۔ مجھے کہا گیا یہ تمہاری امت ہے ۔ ان میں سے ستر ہزار بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر آپؐ اندر چلے گئے اور انہیں اس کی تعبیر نہ بیان کی۔ تب یہ سن کر لوگ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے اور کہنے لگے ہم وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس کے رسول کی پیروی کی ہے۔ سو ہم ہی وہ ہیں یا ہماری وہ اولادیں جو اسلام میں پیدا ہوئیں کیونکہ ہم تو جاہلیت میں پیدا ہوئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپؐ باہر آئے آپؐ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تو دم کرواتے ہیں اور نہ شگون لیتے ہیں اور نہ داغ لگواتے ہیں اور وہ اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ حضرت عکاشہ بن محصنؓ نے سن کر کہا: یا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر ایک دوسرا کھڑا ہوا اور پوچھا: کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپؐ نے فرمایا عکاشہؓ اس میں تم پر سبقت لے گیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے کہا حمید بن نافع نے مجھ سے بیان کیا۔ حمید نے حضرت زینب (بنت ام سلمہؓ) سے، حضرت زینبؓ نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا اور اس کی آنکھیں دکھنے لگیں تو لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کاذکر کیا اور آپؐ سے ایک سرمہ کا نام لیا اور یہ کہ اس کی آنکھیں جاتے رہنے کا ڈر ہے۔آپؐ نے فرمایا: کبھی وہ بھی زمانہ تھا کہ تم میں سے ایک عورت اپنے گھر میں بدترین پھٹے پرانے کپڑے پہن کر یا فرمایا: اپنے پھٹے پرانے کپڑے پہن کر اپنے بدترین گھر میں رہا کرتی تھی جب کتا اس کے سامنے سے گزرتا تو وہ ایک مینگنی پھینکا کرتی تھی تو کیا چار مہینے دس دن نہیں گزار سکتی۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے عبدالملک (بن عمیر)سے روایت کی۔ عبدالملک نے کہا میں نے عمرو بن حریث سےسنا۔ عمرو نے کہا میں نے حضرت سعید بن زیدؓ سے سنا۔ سعید کہتے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ فرماتے تھے: کھمبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفاء ہے۔ شعبہ نے کہا اور مجھے حکم (بن عتیبہ) نے خبر دی انہوں نے حسن (بن عبداللہ)عُرنی سے، حسن نے عمرو بن حریث سے۔ عمرو نے حضرت سعید بن زیدؓ سے، سعیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے کہا: جب حکم نے مجھ سے یہ بیان کیا تو میں نے عبدالملک کی حدیث کو اجنبی نہ سمجھا۔
(تشریح)