بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 105 hadith
محمد بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن وہب بن عطیہ دمشقی نے ہمیں بتایا کہ محمد بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ولید زبیدی نے ہمیں بتایا کہ زہری نے ہمیں خبر دی۔ زہری نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓسے،حضرت زینبؓ نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر داغ تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے لئے دم کراؤ کیونکہ اس کو نظر لگی ہے اور عقیل نے بھی زہری سے اسی حدیث کو نقل کیا۔ (انہوں نے کہا) مجھے عروہ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ (محمد بن حرب کی طرح) عبداللہ بن سالم نے بھی زبیدی سے اسے روایت کیا۔
اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے،حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: نظر لگ جانا سچ ہے اور آپؐ نے گدوانے سے منع فرمایا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ سلیمان (بن فیروز) شیبانی نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن اسود نے ہمیں بتایا انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہؓ سے ڈسنے کے دَم کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ڈسنے والے جانور کی وجہ سے دم کی اجازت دی۔
احمد بن ابی رجاء نے مجھ سے بیان کیا کہ نضر (بن شمیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے کہا مجھے میرے باپ نے خبر دی ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے ہوئے یہ دعا کرتے تھے: لوگوں کے ربّ اس تکلیف کو دور کر۔ تیرے ہاتھ میں شفا ہے۔ اس کا دور کرنے والا کوئی نہیں مگر تو ہی۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا مجھے عبد ربّہ بن سعید نے بتایا۔ عبد ربّہ نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم(کبھی) بیمارکے لیے یوں دعا کرتے :ا للہ کے نام سے یہ ہماری زمین کی مٹی ہے۔ ہم میں سے کسی کے لعاب سے ہمارا بیمار ہمارے ربّ کے حکم سے شفا پاجائے۔
صدقہ بن فضل نے مجھ سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدربّہ بن سعید سے، عبدربّہ نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپ فرماتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے وقت(کبھی) یوں بھی دعا کرتے تھے: اللہ کے نام سے یہ ہماری زمین کی مٹی ہے اور ہم میں سے کسی کا لعاب ہے ہمارا بیمار ہمارے ربّ کے حکم سے شفا پائے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز (بن صہیب) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اور ثابت (بنانی)حضرت انس بن مالکؓ کے پاس گئے۔ ثابت نے کہا: ابوحمزہؓ میں بیمار ہو گیا ہوں۔ حضرت انسؓ نے کہا کیا میں تمہیں وہ دم نہ کروں جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور۔ تو حضرت انسؓ نے یہ دعا کی۔ اے اللہ جو لوگوں کا ربّ ہے تکلیف کو دور کرنے والا ہے شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شافی نہیں، ایسی شفا دے جو بیماری کا کوئی اثر نہ چھوڑے۔
عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان (اعمش) نے مجھ سے بیان کیا۔ سلیمان نے مسلم (بن صبیح) سے، مسلم نے مسروق سے،مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے کسی کے لیے بیماری میں دعا کرتے ہوئے یوں پناہ مانگتے تھے کہ آپؐ اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے اور دعا کرتے:اے اللہ ! جو لوگوں کا ربّ ہے اس تکلیف کو دور کر، اس سے شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے، کوئی شفا نہیں مگر تیری ہی شفا، ایسی شفا دے جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔ سفیان (ثوری) کہتے تھے:میں نے منصور بن (معتمر )سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے مسروق سے، مسروق نےحضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بتایا۔
خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے، یحيٰ نے کہا میں نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے سنا۔ ابو سلمہ نے کہا میں نے حضرت ابوقتادہؓ سے سنا وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ فرماتے تھے: رؤیا اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے۔ جب تم میں سے کوئی خواب میں کوئی ایسی بات دیکھے جس کو ناپسند کرتا ہو تو جب وہ جاگے تین بار پھونک مارے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اس کو نقصان نہ دے گی اور ابوسلمہ نے کہا: میری تو یہ حالت تھی کہ جو خواب دیکھ لیتا پہاڑسے بھی زیادہ مجھ پر بوجھل ہوجاتا تو پھر جونہی کہ میں نے یہ حدیث سنی میں اب اس کی پرواہ نہیں کرتا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس (بن یزید) سے،یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر آرام کرتے تو قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اور قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ سب کو پڑھ کر اپنی ہتھیلیوں میں پھونکتے۔ پھر ان دونوں کو اپنے چہرے پر اور جہاں جہاں بھی آپؐ کے ہاتھ آپؐ کے جسم پر پہنچتے پھیرتے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: جب آپؐ بیمار ہوتے تو آپؐ مجھے ایسا کرنے کا حکم دیتے۔ یونس کہتے تھے میں ابن شہاب کو دیکھا کرتا تھا کہ جب وہ اپنے بستر پر آتے تو ایسا ہی کرتے۔