بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 105 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر (جعفر) سے، ابوبشر نے ابوالمتوکل (علی بن داؤد) سے، ابوالمتوکل نے حضرت ابوسعید (خدریؓ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ ایک سفر پر گئے اور قبائل عرب میں سے ایک قبیلے کے پاس اترے اور ان کے ہاں مہمان ٹھہرنا چاہا۔ انہوں نے ان کی میزبانی سے انکار کیا۔ پھراس قبیلےکے سردار کو بچھو نے ڈس لیا اور انہوں نے اس کے لئے ہر علاج سے کوشش کی، کوئی چیز بھی اس کو فائدہ نہ دیتی تھی۔ ان میں سے کسی نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس جاؤ جو تمہارے پاس آئے ہوئے ہیں تو شاید ان میں سے کسی کے پاس کوئی علاج ہو۔ چنانچہ وہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے لوگو ! ہمارے سردار کو بچھو نے ڈس لیا ہے اور ہم نے اس کے لئے ہر جتن کیا ۔ کوئی چیز بھی اس کو فائدہ نہیں دیتی تو کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی علاج ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں۔ اللہ کی قسم ! میں دَم کرنا جانتا ہوں مگر ہم نے چاہا تھا کہ تمہارے ہاں مہمان ٹھہریں مگر تم نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا۔ اللہ کی قسم میں دَم نہیں کروں گا، جب تک کہ تم ہمارے لئے اجرت نہ مقرر کر لو۔ آخر اُنہوں نے کچھ بکریاں دینے پر ان سے سمجھوتہ کیا تب وہ شخص(سردار کے پاس)چلا گیا اور اَلْحَمْد… پڑھتے ہوئے کر اسے لعاب لگانے لگا۔ یہاں تک کہ اسے ایسا محسوس ہوا گویا کہ وہ رسی کے بندھن سے آزاد ہو گیا ہے پس وہ چلنے پھرنے لگااور اسے کوئی بھی بیقراری نہ رہی۔ (حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے:) تب اُنہوںنے ان کو ان کی وہ اجرت پوری کی پوری دے دی جوانہوں نے آپس میں طے کی تھی۔ ان میں سے کسی نے کہا: تقسیم کرو۔ دَم کرنے والے نے کہا: جب تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر یہ واقعہ بیان نہ کر لیں تک تک تقسیم نہ کرو۔ ہم دیکھیں گے کہ آپؐ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپؐ سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کیسے علم ہوا کہ سورة فاتحہ دَم ہے؟ تم نے ٹھیک کیا۔ تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ نکالو۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: نہ تو چھوت لگ جاتی ہے اور نہ ہی شگون کوئی چیز ہے اور اچھی فال مجھے پسند ہے یعنی اچھی بات۔
(تشریح)عبداللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے اعمش سے، اعمش نے مسلم سے،مسلم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی آپ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض لوگوں کے لئے (ان کی بیماری میں) پناہ کی دعا کرتے تھے۔ آپؐ اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے تھے (اور دعا کرتے تھے:) اے لوگوں کے ربّ اس تکلیف کو دور فرما اور شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے۔تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ہے۔ ایسی شفا دے کہ جو بیماری کا کوئی اثر باقی نہ چھوڑے۔ (سفیان نے کہا:) میں نے منصور سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے مجھے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے ایسی حدیث بتائی۔
عبداللہ بن محمد جعفی نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی ، معمر نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں کہ جس میں آپؐ کی وفات ہوئی اپنے تئیں معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے۔ جب آپؐ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں آپؐ پر یہ سورتیں پڑھ کر پھونکا کرتی تھی اور آپؐ کا ہی ہاتھ آپؐ کے بدن پر پھیرتی کہ اس کی برکت ہو۔ میں نے ابن شہاب سے پوچھا: آپؐ کیسے پھونکتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپؐ اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونکتے پھر ان کو اپنے چہرے پر پھیرتے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حصین بن نمیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک دن ہمارے پاس باہر آئے۔ فرمایا: میرے سامنے اُمتیں پیش کی گئیں ایک ایسا نبی گزرتا جس کے ساتھ ایک ہی آدمی ہوتا ۔ کسی نبی کے ساتھ دو آدمی اور کوئی نبی ایسا ہوتا کہ اس کے ساتھ ایک جماعت ہوتی اور کوئی نبی ایسا ہوتا کہ اس کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا اور میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے افق کو ڈھانپ دیا تھا۔ میں نے خواہش کی کہ یہ میری امت ہو۔ مجھ سے کہا گیا: یہ موسیٰؑ اور ان کی قوم ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا: دیکھو تو میں نے بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے اُفق کو ڈھانپا ہوا تھا۔ مجھ سے کہا گیا: اِدھر دیکھو اوراُدھر دیکھو۔ میں نے بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے آفاق کو ڈھانپ دیا تھا مجھ سے کہا گیا یہ سب تیری اُمت ہے اور ان میں سے ستر ہزار آدمی ایسے ہیں کہ جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر لوگ منتشر ہوگئے اور آپؐ نے ان کو یہ کھول کر نہ بتایا۔ نبی ﷺ کے اصحاب آپس میں بات چیت کرنے لگے۔ اُنہوں نے کہا: ہم شرک میں ہی پیدا ہوئے تھے لیکن ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو مان لیا ہے۔ان (مذکورہ) لوگوں سے ہماری اولادیں مراد ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی آپؐ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ شگون لیتے ہیں، اور نہ ہی داغ لگواتے ہیں اور نہ جنتر منتر کرواتے ہیں اور وہ اپنے ربّ پر توکل رکھتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عکاشہ بن محصنؓ اُٹھے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! آیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپؐ نے فرمایا، ہاں ایک دوسرا شخص اُٹھا اور کہنے لگا: کیا میں بھی اُن میں سے ہوں؟ آپؐ نے فرمایا : عکاشہؓ اس میں تم پر سبقت لے گیا۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں خبردی کہ معمر نے ہمیں بتایا ۔معمر نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شگون کچھ چیز نہیں اور ان چیزوں میں سے بہتر فال ہے۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! فال کیا ہوتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اچھی بات جس کو تم میں سے کوئی سن لیتا ہے۔
سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا کہ لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا عبدالرحمٰن بن خالد نے مجھ سے بیان کیا، عبدالرحمٰن نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابو سلمہ(بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہذیل کی دو عورتوں کے متعلق فیصلہ کیا تھا جو آپس میں لڑ پڑی تھیں۔ اُن میں سے ایک نے دوسرے کو پتھر مارا جو اس کے پیٹ میں لگا اور وہ حاملہ تھی اور اس نے اس کے اس بچہ کو مار ڈالا جو اس کے پیٹ میں تھا۔ اس لئے وہ نبی ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ آپؐ نے جو بچہ اس کے پیٹ میں تھا اس کی دیت ایک بَردہ دینے کا فیصلہ فرمایا غلام ہو یا لونڈی۔ یہ سن کر اس عورت کا ولی جس پر دیت واجب ہوئی تھی کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میں اس کی دیت کیوں دوں جس نے نہ پیا نہ کھایا نہ بولا نہ چلایا ایسا خون تو بلا تاوان کے ہے۔ نبی ﷺ نے (یہ قافیہ بندی سن کر) فرمایا: یہ تو کاہنوں کا بھائی ہے۔