بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
۲۲۵ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: جریر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت حذیفہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے تو یہ ( بھی ) دیکھا ہے کہ میں اور نبی ﷺ اکٹھے چلے جارہے تھے۔آپ بعض لوگوں کے گھورے ( کوڑے کی جگہ ) پر گئے جو کہ ایک باغ کی) دیوار کے پیچھے تھا اور اس طرح کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگے جیسا کہ تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے۔میں آپ سے ہٹ کر ایک طرف ہو گیا۔آپ نے مجھے اشارہ سے بلایا اور میں آپ کے پاس آیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔یہاں تک کہ آپ فارغ ہوئے۔
(تشریح)ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا بھی نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ہشام سے روایت کی۔انہوں نے کہا: فاطمہ نے حضرت اسماء سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔وہ کہتی تھیں: ایک عورت نبی
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ ( بن مبارک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: عمرو بن میمون جاری نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سلیمان بن یار سے سلیمان نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: میں نبی ﷺ کے کپڑے سے جنابت دھوتی۔آپ نماز کے لئے نکلتے اور پانی کے دھبے آپ کے کپڑے پر ہوتے۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل منقری نے بیان کیا، کہا: عبد الواحد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عمرو بن میمون نے ہمیں بتلایا۔کہا: میں نے سلیمان بن سیار سے سنا۔وہ اس کپڑے کے متعلق جس کو جنابت لگ جائے ، کہتے تھے کہ حضرت عائشہ نے کہا: میں رسول اللہ
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا: زہیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا : عمرو بن میمون بن مہران نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے سلیمان بن یسار سے سلیمان نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ نبی ﷺ کے کپڑے سے منی دھویا کرتی تھیں۔ (کہتی تھیں:) پھر میں اس میں کوئی دھبہ یا کئی دھبے دیکھتی۔
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوالتیاح یزید بن حمید سے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ پیشتر اس کے کہ مسجد بنائی جاتی بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
(تشریح)ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری پیشاب کی وجہ سے سختی کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بنو اسرائیل کی عادت تھی کہ جب ان میں سے کسی کے کپڑے میں ( پیشاب ) لگ جاتا تو وہ اس کو کتر ڈالتا۔حضرت حذیفہ نے کہا: کاش ابو موسیٰ رُک جاتے۔رسول اللہ ﷺہ بعض لوگوں کے گھورے کے پاس آئے اور آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ابومعاویہ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) ہشام بن عروہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں : ابوحبيش کی بیٹی فاطمہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ میں ایک عورت ہوں جس کو استحاضہ کی بیماری ہے اور میں پاک ہی نہیں ہوتی۔کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے اور حیض نہیں ہے۔پس جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب بند ہو جائے تو خون اپنے بدن سے دھو اور نماز پڑھ لو۔(ہشام) کہتے تھے: میرے باپ نے یہ حدیث یوں بیان کی۔پھر ہر نماز کے لئے وضو کر لیا کر، یہاں تک کہ پھر وہی وقت آجائے۔
(تشریح)ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: یزید نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عمرو نے سلیمان بن پیار سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔کہا کہ میں نے حضرت عائشہ سے سنا۔نیز ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عمرو بن میمون نے سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔کہا کہ میں نے حضرت عائشہ سے منی کے متعلق پوچھا جو کپڑے کو لگ جاتی ہے تو انہوں نے کہا : میں اسے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے دھو دیا کرتی تھی اور آپ نماز کو نکلتے اور دھونے کا نشان آپ کے کپڑے میں ہوتا۔(یعنی) پانی کے دھبے۔
(تشریح)ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا۔ حماد نے ایوب سے۔ ایوب نے ابو قلابہ سے، ابو قلابہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: گل یا عرَین قبیلہ کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے مدینہ کی ہوا نا موافق پائی تو نبی ﷺ نے انہیں چند اونٹنیوں کے متعلق حکم دیا اور فرمایا: وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ وہ چلے گئے۔ جب تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی ﷺ کے چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ یہ خبر پہلے پہر پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے۔ جب دن چڑھ گیا تو ان کو پکڑ کر لے آئے۔ آپ نے حکم دیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور وہ پتھریلی زمین میں ڈال دیے گئے۔ وہ پانی مانگتے تھے مگر ان کو پانی نہ دیا جاتا تھا۔ ابو قلابہ کہتے تھے: ان لوگوں نے چوری کی اور قتل کیا اور ایمان لانے کے بعد انکار کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔