بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
اور زہری کہتے تھے پانی میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ مزایا بو یا رنگ اس کو بدلا نہ دے۔ حماد نے کہا کہ مردار کے پر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ زہری نے ہاتھی وغیرہ جیسے مردہ جانوروں کی ہڈیوں کے متعلق کہا کہ میں نے پہلے علماء میں سے بعض لوگوں کو دیکھا ہے، جو اُن سے کنگھی کرتے تھے اور ان میں تیل رکھتے تھے اور اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔ ابن سیرین اور ابراہیم نے کہا: ہاتھی دانت کی تجارت میں کوئی حرج نہیں۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ابو زناد نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الرحمان بن ہرمز اعرج نے ان سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔ حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ فرماتے تھے: ہم آخر میں آنے والے ہیں لیکن آگے بڑھنے والے ہیں۔
اور اسی اسناد کے ساتھ یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے پانی میں جو بہتا نہ ہو پیشاب نہ کرے کہ پھر اس میں نہائے۔
ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: زہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ سے، حضرت عائشہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہر ایک پینے کی چیز جو نشہ لائے حرام ہے۔
(تشریح)ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے غیلان بن جریر سے، غیلان نے ابو بردہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ کہا: میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے مسواک کر رہے ہیں۔ مسواک آپ کے منہ میں تھی۔ آپ اُغ اُغ کی آواز نکال رہے تھے، جیسے آپ قے کرنے پر آمادہ ہیں۔
ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے معن نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے حضرت ابن عباس نے حضرت میمونہ سے روایت کرتے ہوئے بتلایا کہ نبی ﷺ سے چوہے کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو اور جو کچھ اس کے آس پاس ہے پھینک دو۔ معن نے کہا کہ مالک نے اس حدیث کو اتنی دفعہ بیان کیا ہے کہ میں شمار نہیں کرسکتا۔ وہ حضرت ابن عباس سے نقل کرتے تھے۔ وہ حضرت میمونہ سے۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے عمرو بن میمون سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود) سے، انہوں نے کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے۔ نیز (ابوعبداللہ بخاری) نے کہا: مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا: شریح بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم بن یوسف نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون نے مجھے بتلایا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ان سے بیان کیا کہ نبی ﷺ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے کچھ ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی اثناء میں وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم میں سے کون فلاں قبیلے کی اوٹنی کا بچہ دان لائے گا اور محمد کی پیٹھ پر جب وہ سجدہ کرے اس کو رکھ دے گا؟ تو ان لوگوں میں سے جو سب سے زیادہ بدبخت تھا، اُٹھ کھڑا ہوا اور اسے لے آیا اور انتظار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ جب نبی ﷺ نے سجدہ کیا تو اس نے آپ کی پیٹھ پر دونوں کندھوں کے درمیان اسے رکھ دیا اور میں دیکھ رہا تھا اور میں کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ کاش مجھے روکنے کی قوت ہوتی۔ (حضرت ابن مسعود کہتے تھے:) وہ ہنسنے لگے اور ایک دوسرے کے ذمے لگا رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ سجدہ میں پڑے تھے۔ اپنا سر نہیں اُٹھاتے تھے۔ آخر حضرت فاطمہ آپ کے پاس آئیں اور انہوں نے آپ کی پیٹھ سے اس کو اتار کر (ایک طرف) پھینک دیا۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا۔ پھر کہا: اے اللہ! تو ہی قریش سے سمجھ۔ تین بار فرمایا۔ یہ بات ان پر گراں گزری۔ کیونکہ آپ نے ان کے لئے بددعا کی اور (حضرت ابن مسعودؓ) کہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ دعا اس شہر میں مقبول ہوتی ہے۔ پھر آپ نے نام لیا کہ اے اللہ! ابو جہل کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ کو پکڑ، شیبہ بن ربیعہ کو پکڑ، ولید بن عقبہ کو پکڑ، امیہ بن خلف کو پکڑ اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ۔ (عمرو بن میمون نے) ساتویں کو بھی گنا۔ لیکن ہمیں یاد نہیں رہا۔ (حضرت ابن مسعود کہتے تھے:) پس مجھے اس کی قسم ہے کہ جس کے مال ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں نے ان لوگوں کو جن کو رسول اللہ ﷺ نے شمار کیا تھا، دیکھا کہ کنوئیں میں کھڑے ہوئے پڑے تھے۔ یعنی بدر کے کنوئیں میں۔
(تشریح)ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس سے روایت کی۔ کہا نبی ﷺ نے اپنے کپڑے میں تھوکا۔ (ابوعبداللہ نے کہا کہ) ابن ابی مریم نے یہ حدیث لمبی بیان کی۔ انہوں نے کہا: بن ایوب نے ہمیں بتایا۔ سیمی نے کہا: حمید نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس سے سنا۔ حضرت انس نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
(تشریح)ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: سفیان بن عیینہ نے ابو حازم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا۔ لوگوں نے ان سے پوچھا تھا۔ اس وقت میرے اور ان کے درمیان اور کوئی نہ تھا۔ کس چیز سے نبی ﷺ کے زخم کا علاج کیا گیا؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا۔ حضرت علی اپنی ڈھال لاتے تھے جس میں پانی ہوتا اور حضرت فاطمہ آپ کے چہرے سے خون دھوتی تھیں۔ پھر چٹائی لی گئی اور اسے جلایا گیا اور اس سے آپ کا زخم بھرا گیا۔
(تشریح)