بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
۲۱۵ ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا: سلیمان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا بھی بن سعید نے مجھ سے بیان کیا۔(یکی نے ) کہا : بشیر بن سیار نے مجھے بتلایا۔انہوں نے کہا: سوید بن نعمان نے مجھے بتلایا۔کہا: جس سال خیبر فتح ہوا۔ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے۔جب ہم صہباء میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔جب آپ نماز پڑھ چکے تو کھانے منگوائے۔سوائے ستو کے اور کچھ نہ لایا گیا۔ہم نے کھایا پیا۔پھر نبی سے مغرب کے لئے اُٹھے اور کلی کی اور پھر اس کے بعد آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
(تشریح)ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: اسماعيل بن ابراہیم نے مجھے بتلایا۔انہوں نے کہا: روح بن قاسم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عطاء بن ابی میمونہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہمام نے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) اسحاق نے حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ نبی ﷺ نے ایک بدوی کو مسجد میں پیشاب کرتے دیکھا تو آپ نے فرمایا: اسے رہنے دو۔یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اُسے وہاں بہادیا۔
(تشریح)ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: یحی بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔وہ نبی ہے کے متعلق روایت کرتے تھے۔
۲۲۲ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ ہے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ ام المومنین سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا۔
۲۲۴ ہم سے آدم نے بیان کیا، (کہا: ) شعبہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت حذیفہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے نبی ﷺ ایک قوم سے گھورے ( یعنی کوڑے کی جگہ) پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔پھر پانی منگوایا تو میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا اور آپ نے وضو کیا۔
(تشریح)۲۱۶ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا: جریر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی ﷺ مدینہ یا مکہ کے باغوں میں سے ایک باغ کی دیوار کے پاس سے گزرے تو آپ نے دو آدمیوں کی آواز سنی، جن کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جار ہا تھا۔اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: انہیں عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جارہا۔پھر فرمایا: بلکہ ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔پھر آپ نے ایک کھجور کی شاخ منگوائی اور اس کے دوٹکڑے کئے اور ہر ایک قبر پر ایک ایک ٹکڑہ گاڑ دیا۔آپ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! آپ نے یہ کیوں کیا؟ فرمایا: شاید ان سے یہ عذاب ہلکا کر دیا جائے جب تک کہ یہ خشک نہ ہو جائیں۔یا ( یہ کہا: ) حتی کہ یہ خشک ہو جائیں۔
(تشریح)ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: محمد بن خازم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: اعمش نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے طاؤس سے ، طاؤس نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔وہ کہتے تھے نبی ﷺ دوقبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: انہیں تو عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جارہا۔ان میں سے ایک تو پیشاب سے بچاؤ نہیں کیا کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔پھر آپ نے کھجور کی تازہ شاخ لی اور درمیان سے اس کو دو ٹکڑے کر کے ہر ایک قبر پر ایک ایک ٹکڑہ گاڑ دیا۔لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: شاید ان سے تخفیف کی جائے ، جب تک یہ نہ سوکھیں۔محمد بن مثنی نے کہا: وکیع نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا۔(اعمش نے ) کہا: میں نے مجاہد سے اسی طرح سنا ہے۔
۲۲۰ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا: انہوں نے کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بن مسعود نے مجھے بتلایا کہ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: ایک بدوی اٹھا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔لوگوں نے اسے برا بھلا کہا۔اس پر نبی ﷺ نے ان سے کہا: اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی کا بہادو۔سجل کا لفظ (کہا) یا ذَنوب کا اور تم صرف اس لئے مبعوث کئے گئے ہو کہ آسانی کرنے والے بنو اور تم سختی کرنے کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے۔