بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے یحی بن سعید سے، یحی نے محمد بن یحیٰ بن حبان سے، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے، واسع نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لئے بیٹھو تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ ہی بیت المقدس کی طرف۔ حضرت عبداللہ بن عمر کہتے تھے: میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے تھے۔ اور انہوں نے کہا: شاید تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو نماز میں سجدہ کے وقت اپنا پیٹ رانوں سے لگا دیتے ہیں۔ اس پر میں نے کہا: بخدا! میں نہیں جانتا۔ مالک نے کہا: (اس سے حضرت ابن عمر کی) مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے اور زمین سے اونچا نہیں ہوتا۔ سجدہ کرتا ہے اور زمین سے لگا رہتا ہے۔
(تشریح)ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا: ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ سے۔ حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: (تمہیں) اجازت دی گئی ہے کہ تم اپنی ضرورت کے لئے باہر جاؤ۔ ہشام نے کہا: یعنی قضائے حاجت کے لئے۔
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبد الملک نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو معاذ سے روایت کی اور ابو معاذ کا نام عطاء بن ابی میمونہ ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک کو یہ کہتے سنا کہ نبی
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ابو معاذ یعنی عطاء بن ابی میمونہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب نبی ﷺ قضائے حاجت کے لئے نکلتے تو میں اور ہمارے خاندان کا ایک لڑکا آپ کے پیچھے ہو لیتے اور ہمارے ساتھ پانی کی ایک چھاگل ہوتی۔
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحی بن ابی کثیر سے، یحیٰ نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی
م سے یحی بن بگیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عقیل نے مجھے بلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ کی بیویاں جب قضائے حاجت کے لئے باہر مناصح کی طرف جاتیں تو رات کو نکلا کرتی تھیں اور مناصع ایک وسیع میدان ہے اور حضرت عمرؓ نبی ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ اپنی بیویوں کو پردہ کرائیں۔ مگر رسول اللہ ﷺ ایسا نہ کرتے۔ ایک رات عشاء کے وقت حضرت سودہ بنت زمعہ نبی ﷺ کی بیوی باہر گئیں اور وہ لمبے قد کی تھیں، تو حضرت عمر نے ان کو پکار کر کہا: سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا ہے۔ کیونکہ وہ (بہت) چاہتے تھے کہ حجاب کے متعلق وحی نازل ہو۔ آخر اللہ تعالیٰ نے حجاب (کے حکم کے متعلق) آیت نازل کی۔
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا: انس بن عیاض نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبید اللہ (بن عمر) سے، عبید اللہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے، انہوں نے واسع بن حبان سے، واسع نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اپنے کسی کام کے لئے حضرت حفصہ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قضائے حاجت کر رہے تھے۔ قبلہ کی طرف پیٹھ کئے ہوئے تھے اور شام کی طرف منہ۔
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: یزید بن ہارون نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: یحیٰ نے محمد بن یحییٰ بن حبان کی روایت ہم سے بیان کی کہ ان کے چچا واسع بن حبان نے انہیں بتلایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے ان سے بیان کیا۔ کہتے تھے کہ میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو کچی اینٹوں پر بیٹھے دیکھا، (آپ) بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے تھے۔
(تشریح)ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کے لئے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کی چھاگل اور برچھی اُٹھا کر لے جاتے۔ پانی سے آپ استنجا کرتے۔ نضر اور شاذان نے بھی شعبہ سے یہی روایت کی۔ عنزہ وہ لاٹھی ہوتی ہے جس پر پھل لگا ہو۔
(تشریح)