بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا، کہا: عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو المکی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے دادا سے، اُن کے دادا نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پیچھے ہو لیا اور آپ قضائے حاجت کے لئے نکلے اور آپ مڑ کر ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے۔ میں آپ کے قریب ہوا تو آپ نے فرمایا: میرے لئے ڈھیلے تلاش کرو تاکہ میں ان سے استنجا کروں یا اسی قسم کا فقرہ فرمایا، اور نہ ہڈی اور نہ لید میرے پاس لانا۔ چنانچہ میں اپنے کپڑے کے کونے میں کچھ ڈھیلے لے آیا اور انہیں آپ کے پاس رکھ دیا اور پھر میں آپ سے ایک طرف ہو گیا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے انہیں استعمال میں لایا۔
(تشریح)ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار اعضاء دھوئے۔
(تشریح)ہم سے حسین بن عیسی نے بیان کیا، کہا: یونس بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے، عبد اللہ نے عباد بن تمیم سے، عباد نے حضرت عبداللہ بن زید سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو بار اعضاء دھوئے۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ابو ادریس نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔ وہ نبی
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا: زہیر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابوعبیدہ نے اس کا ذکر نہیں کیا لیکن عبدالرحمن بن اسود نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی ﷺ قضائے حاجت کے لئے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں آپ کو تین پتھر لا دوں۔ مجھ کو دو پتھر ملے اور تیسرے کو تلاش کیا تو مجھے نہ ملا۔ اس پر میں نے لید لے لی اور یہ لا کر آپ کو دیے۔ آپ نے دو پتھر تو لے لئے اور لید پھینک دی اور فرمایا: یہ پلید ہے۔ اور ابراہیم بن یوسف نے اپنے باپ سے نقل کیا۔ انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کی کہ عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا۔
ہم سے عبد العزیز بن عبد اللہ اویسی نے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء بن یزید نے انہیں خبر دی کہ حمران نے جو کہ حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام تھے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان کو دیکھا کہ انہوں نے ایک برتن منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار (پانی) ڈال کر دھوئے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی اور ناک صاف کیا۔ پھر اپنا منہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین تین بار دھوئے۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک تین تین بار دھوئے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر اس طرح دو رکعتیں پڑھیں کہ ان میں اپنے نفس سے باتیں نہ کرے تو جو گناہ بھی اس سے پہلے ہو چکے ہیں، ان سب سے اس کی مغفرت کی جائے گی۔
اور ابراہیم سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ صالح بن کیسان نے کہا کہ ابن شہاب کہتے تھے۔ مگر عروہ اس حدیث کو حمران سے یوں بیان کرتے تھے۔ جب حضرت عثمان نے وضو کر لیا تو انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بتاتا ہوں جو میں تمہیں نہ بتلاتا اگر ایک آیت نہ ہوتی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو جو (وسوسے) اس کے اور اس کی نماز کے درمیان حائل ہوں گے ان کی اس کے لئے مغفرت کی جائے گی، یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے گا۔ عروہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ۔۔۔ یعنی ”یقینا وہ لوگ جو اسے چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح نشانات اور کامل ہدایت میں سے نازل کیا۔“
(تشریح)ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر اس کو صاف کرے اور جو استنجا کے لئے ڈھیلے لے تو وہ طاق لے اور اگر تم میں سے کوئی اپنی نیند سے جاگے تو چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ وضو کے پانی میں ڈالنے سے پہلے دھولے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں بسر کی ہے۔
(تشریح)ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا: ابوعوانہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے یوسف بن ماہک سے، یوسف نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ہم سے ایک سفر میں پیچھے رہ گئے۔ پھر ہم سے آملے اور حالت یہ تھی کہ ہم عصر کی نماز میں اتنی دیر کر چکے تھے کہ دوسری نماز کا وقت بھی قریب آ گیا تھا۔ تو لگے ہم وضو کرنے اور اپنے پیروں پر مسح کرنے۔ اس پر آپ نے بلند آواز سے پکار کر فرمایا: ہلاک ہوگئیں ایڑیاں آگ سے۔ دو دفعہ یا تین دفعہ فرمایا۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ زہری نے کہا: عطاء بن یزید نے حضرت عثمان بن عفان کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ انہوں نے حضرت عثمان کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر اپنے برتن سے پانی ڈالا اور انہیں تین بار دھویا۔ پھر وضو کے پانی میں آپ نے اپنا دایاں ہاتھ ڈالا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیا اور ناک صاف کیا۔ پھر انہوں نے اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین تین بار دھوئے۔ پھر انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر ہر ایک پاؤں کو تین تین بار دھویا۔ پھر کہا: میں نے نبی ﷺ کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے دیکھا اور آپ نے فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے جن کے درمیان دل میں اپنے آپ سے باتیں نہ کرتا ہو تو جو گناہ اس سے پہلے ہو چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے اس کی مغفرت کر دے گا۔
(تشریح)