بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابویونس قشیری سے، ابویونس نے ابن ابی مُلَیکہ سے روایت کی کہ (حضرت عبداللہ) بن عمرؓ سانپوں کو مار ڈالتے تھے۔ پھر (وہ ان کے مارنے سے لوگوں کو) منع کرنے لگے۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دیوار گرائی تو اس میں سانپ کی کینچلی پائی۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو تو وہ کہاں ہے؟ لوگوں نے اُسے دیکھ لیا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ اس لیے میں انہیں جہاں پاتا مار ڈالا کرتا تھا۔
پھر میں حضرت ابولبابہؓ سے ملا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پتلے سفید سانپوں کو نہ مارا کرو۔ البتہ ہر سفید دو دھاری والا دم کٹا جو سانپ ہے، اس کو مار ڈالو۔ کیونکہ وہ حمل گرا دیتا ہے اور بینائی ضائع کردیتا ہے۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ وہ سانپوں کو مار ڈالا کرتے تھے۔
پھر ان سے حضرت ابولبابہؓ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے پتلے سانپوں کو مارنے سے روک دیا تھا۔ پھر وہ ان سے رُک گئے۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جن کو کوئی محرم ہونے کی حالت میں بھی مار ڈالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، کوا اور چیل۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کثیر سے، کثیر نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے اس روایت کو آنحضرت ﷺ تک پہنچایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانکے رکھو اور مشکوں کا منہ باندھو، دروازوں کو بندکرو اور عشائ٭ کے وقت گھروں سے باہر جانے سے اپنے بچوں کو روکے رکھو۔ کیونکہ جن پھیلتے اور جھپٹتے ہیں اور سوتے وقت چراغ گل کیا کرو۔ کیونکہ چوہیا بھی کبھی بتی کھینچ کر لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا دیتی ہے۔ ابن جریج اور حبیب نے عطاء سے روایت کرتے ہوئے جن کے لفظ کی بجائے شیطان نقل کیا (اور کہا کہ وہ پھیلتے اور جھپٹتے ہیں۔)
عبدہ بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰبن آدم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ سورۃ المرسلٰت نازل ہوئی اور ہم ابھی آپؐ کے منہ سے سیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں ایک سانپ اپنے بل میںسے نکلا اور ہم اس کی طرف جلدی سے لپکے کہ اسے مار ڈالیں۔ مگر وہ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے بل میں گھس گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح تم اس کے شر سے بچائے گئے ہو، وہ تمہارے شر سے بچایا گیا ہے۔ اور (یحيٰنے) اسرائیل سے، اسرائیل نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے اسی طرح کی حدیث نقل کی۔ اس میں یوں ہے کہ ہم ابھی اس (سورۃ) کو آپؐ کے منہ سے تازہ بتازہ سیکھ ہی رہے تھے۔ (اسرائیل کی طرح) ابوعوانہ نے بھی مغیرہ سے یہی نقل کیا۔ اور حفص (بن غیاث) اور ابومعاویہ اور سلیمان بن قرم نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے نقل کیا۔
نصر بن علی نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالاعلیٰ نے ہمیں خبردی۔ عبیداللہ بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے آگ میں داخل ہوئی۔ اس نے اس کو باندھے رکھا۔ نہ تو اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی۔ عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے اسی طرح بتایا ہے۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کی۔
اسماعیل بن ابی اویس نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے ڈیرہ لگایا ہوا تھا۔ ایک چیونٹی نے ان کو کاٹا۔ انہوں نے اپنے سامان کو اُٹھانے کا حکم دیا۔ چنانچہ درخت کے نیچے سے وہ سامان نکال لیا گیا۔ پھر انہوں نے ان چیونٹیوں کے گھر کے متعلق حکم دیا اور وہ آگ سے جلا دیا گیا۔ اللہ نے انہیں وحی کی کہ کیوں نہ ایک ہی چیونٹی کو جلایا۔
(تشریح)