بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 85 hadith
احمد بن ابی رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات کو ایک سورة پڑھتے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔ اس نے تو مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلادی ہے جو مجھے فلاں فلاں سورة سے بھول گئی تھی۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو نہ چاہیے کہ یوں کہے: میں نے فلاں فلاں آیت بھلا دی بلکہ یوں کہنا چاہیے: مجھے بھول گئی۔
(تشریح)بشر بن آدم نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں خبردی کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو مسجد میں کسی قاری کو قرآن پڑھتے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے اس نے تو مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلادی جو میں نے فلاں فلاں سورة میں سے(بھول کر) چھوڑ دی تھی۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم ازدی نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا: آپؐ قراءت مد سے پڑھا کرتے تھے۔
عمر وبن عاصم نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انسؓ سے پوچھا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی؟تو انہوں نے کہا: مد سے ہوتی۔ پھر انہوں نے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھی۔ بِسْمِ اللّٰهِ کو کھینچ کر پڑھتے اور الرَّحْمٰنِ کھینچ کر پڑھتے اور الرَّحِيْمِ کھینچ کر پڑھتے۔
(تشریح)آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوایاس سے، ابوایاس نے کہا: میں نے حضرتعبداللہ بن مغفلؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا جبکہ آپؐ اپنی اونٹی یا کہا اپنے اونٹ پر سوار تھے۔ اور وہ آپؐ کو لئے جارہی تھی اور آپؐ سورة الفتح یا (کہا:)سورۃ الفتح میں سے پڑھ رہے تھے۔ آپؐ نہایت نرمی سے پڑھ رہے تھے اور آپؐ الفاظ دہراتے تھے۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہمیں بتاتے ہوئے کہا کہ ابراہیم (نخعی) نے مجھ سے بیان کیا۔ ابراہیم نے علقمہ (بن قیس) اور عبدالرحمٰن بن یزید سے، انہوں نےحضرت ابومسعود انصاریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورة البقرہ کے آخر میں دو آیتیں ہیں جس شخص نے ان کو رات کے وقت پڑھا وہ اُس (کو ہر شر سے بچانے) کے لیے کافی ہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا انہوں نے زہری سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمٰن بن عبد القاری کی حدیث کے متعلق خبر دی۔ ان دونوں نے حضرت عمر بن خطابؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے ہشام بن حکیم بن حزامؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۂ فرقان پڑھتے سنا۔ میں نے ان کی قراءت کو جو غور سے سنا تو کیا معلوم ہوا کہ وہ اس سورۃ کو بہت سی ایسی طرزوں سے پڑھتے ہیں کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائی تھیں۔ قریب تھا میں نماز میں ہی ان پر لپکتا مگر میں نے انتظار کیا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے انہیں گریبان سے پکڑ لیا۔ میں نے کہا: تمہیں کس نے یہ سورة پڑھائی جو میں نے تمہیں ابھی پڑھتے ہوئے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورة پڑھائی ہے۔ میں نے ان سے کہا: تم نے غلط کہا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی مجھے یہ سورة پڑھائی جو میں نے تم سے سنی۔ میں ان کو کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے ان کو سورة الفرقان ایسی طرزوں سے پڑھتے سنا ہے جو آپؐ نے مجھے نہیں پڑھائی۔ حالانکہ آپؐ ہی نے مجھے سورة الفرقان پڑھائی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: ہشامؓ اسے پڑھو۔ انہوں نے اس کو اسی قراءت سے پڑھا جو میں نے ان سے سنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی۔ پھر فرمایا: عمرؓ تم پڑھو۔ چنانچہ میں نے اس کو اسی قراءت سے پڑھا جو آپؐ نے مجھے پڑھائی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل کی گئی ۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سات طرزوں پر نازل کیا گیا اس لیے جو اُن میں سے آسان ہو تم پڑھو۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی بن میمون نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) واصل (احدب)نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ ابووائل نے کہا: ہم صبح سویرے حضرت عبداللہؓ کے پاس گئے۔ ایک شخص نے کہا: میں نے (ساری) مفصل گزشتہ رات پڑھی تو حضرت عبداللہؓ نے کہا: ایسی جلدی جلدی پڑھی ہو گی جیسے شعروں کو پڑھا جاتا ہے۔ ہم بھی قراءت سن چکے ہیں اور مجھے وہ ہم مشابہہ سورتیں خوب یاد ہیں جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے یعنی مفصل کی اٹھارہ سورتیں اور حٰمٓ کی دو سورتیں۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے، موسیٰ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ کے متعلق بیان کیا۔ انہوں نے کہا: جب جبریلؑ وحی لے کر آپؐ پر نازل ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو بھی ہلایا کرتے تھے اور (وحی سے) آپؐ کو سخت تکلیف ہوتی اور وہ آپؐ کی تکلیف معلوم ہوجاتی۔ اس لئے اللہ (تعالیٰ) نے یہ آیت نازل کی جو لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ میں ہے یعنی (اے نبیؐ) تو اپنی زبان کو حرکت نہ دے تاکہ یہ قرآن جلدی نازل ہو جائے۔ اس کا جمع کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے اور اس کا (دنیا کے سامنے) سنانا بھی (ہمارے ذمہ ہے) یعنی یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو تمہارے سینہ میں محفوظ کر دیں اور اس کو پڑھا دیں۔ پس جب ہم اسے پڑھ لیا کریں تو ہمارے پڑھنے کے بعد تو بھی پڑھ لیا کر۔ یعنی جس وقت ہم اس کو نازل کریں تو غور سے سنتا رہ۔اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو (تیری زبان سے لوگوں کو) کھول کر سنا دیں۔حضرت ابن عباسؓ نے کہا: ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو تیری زبان سے بیان کرائیں۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: اس کے بعد جب جبرائیلؑ آپؐ کے پاس آتے تو آپؐ سر جھکا لیتے اور جب وہ چلے جاتے تو پھر وحی کو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپؐ سے وعدہ کیا۔
(تشریح)