بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 85 hadith
محمد بن خلف ابوبکر (بغدادی) نے ہم سے بیان کیا کہ ابویحيٰ حمانی نے ہمیں بتایا کہ برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے دادا ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:ابوموسیٰؓ تمہیں بھی داؤد کے خاندان کی بانسریوں میں سے ایک بانسری دی گئی ہے۔
(تشریح)سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں شیبان نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ یحيٰ نے محمد بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰنبن عوف) سے، ابوسلمہ نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ (بن عاص) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کتنے دنوں میں سارا قرآن پڑھتے ہو؟
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے والد نے ہمیں اعمش سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔انہوں نے کہا: ابراہیم (نخعی) نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبیدہ (سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے کہا: کیا میں آپؐ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپؐ پر تو نازل کیا گیا؟ آپؐ نے فرمایا: میں دوسرے سے اس کو سننا پسند کرتا ہوں۔
(تشریح)محمد بن یوسف (بیکندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے (قرآن) پڑھ کر سناؤ۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں آپؐ کو (قرآن) پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپؐ پر نازل کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں سناؤ۔ چنانچہ میں نے سورة النساء پڑھی۔ جب میں اس آیت پر آیا یعنی اور ان کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں کے متعلق (بطور) گواہ لائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: بس کرو۔ میں نے آپؐ کو مڑ کرجو دیکھا تو آپؐ کی آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔
(تشریح)علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ مجھ سے (عبداللہ) بن شبرمہ نے کہا: میں نے غور کیا کہ آدمی کو کتنا قرآن پڑھنا کافی ہے۔ تو میں نے تین آیتوں سے کم کسی سورة کو نہیں پایا ۔تو میں نے کہا: کسی کو نہیں چاہیے کہ وہ تین آیتوں سے کم پڑھے۔ علی نے کہا: سفیان (بن عیینہ) نےہم سے بیان کیا۔ ہمیں منصور (بن معتمر) نے ابراہیم (نخعی) سے خبر دی۔ ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ انہیں علقمہ (بن قیس) نے بتایا۔ علقمہ حضرت ابومسعودؓ (عقبہ بن عمرو) سے روایت کرتے تھے۔ (عبدالرحمٰن نے کہا:) اور میں بھیحضرت ابومسعودؓ سے ملا ہوں جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے۔ انہوں نے کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رات کو سورة البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لئے کافی ہوں گی۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مغیرہ (بن مقسم) سے، مغیرہ نے مجاہد (بن جبیر) سے، مجاہد نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے ایک خاندانی عورت سے میرا نکاح کردیا اور وہ اپنی بہو کی ہمیشہ خبر گیری کرتے رہتے تھے اور اس سے اس کے خاوند کے متعلق پوچھتے تو وہ کہتی: (میرا خاوند بہت) اچھا مرد ہے۔ ایسا مرد ہے جب سے ہم اس کے پاس آئے ہیں ہمارے بستر پر قدم نہیں رکھا۔ اور ہمارے پہلو کو کبھی نہیں ٹٹولا جب سے ہم اس کے پاس آئے ہیں۔ جب دیر تک یہی حال رہا تو حضرت عمروؓ نے نبی ﷺ سے ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے اس سے ملاؤ۔ (حضرت عبداللہؓ کہتے تھے:) میں اس کے بعد آپؐ سے ملا۔ آپؐ نے فرمایا: تم کیسے روزے رکھتے ہو؟ میں نے کہا: میں ہر روز روزہ رکھتا ہوں۔ آپؐ نے پوچھا: قرآن کتنے دنو ں میں ختم کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہر ایک رات۔ آپؐ نے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھو اور ہر مہینہ میں سارا قرآن پڑھا کرو۔ (حضرت عبداللہؓ) کہتے تھے میں نے کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: جمعہ میں تین دن روزہ رکھو۔ (حضرت عبداللہؓ) کہتے تھے میں نے کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: دو دن روزہ چھوڑو اور ایک دن روزہ رکھو۔ حضرت عبداللہؓ کہتے تھے: میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ روزہ رکھو جو تمام روزوں سے افضل ہے یعنی داؤدؑ کا روزہ ۔ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ چھوڑنا اور ہر سات راتوں میں ایک بار قرآن ختم کیا کرو۔ کاش کہ میں رسول اللہ ﷺکی رخصت قبول کرلیتا کیونکہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور کمزور ہوگیا ہوں۔ آخر وہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کے سامنے دن کو قرآن کا ساتواں حصہ پڑھتے یعنی جو رات کو پڑھا کرتے وہ دن کو سناتے تا کہ ان کے لئے رات کو پڑھنا آسان ہو، اور جب وہ طاقت حاصل کرنا چاہتے تو کئی دن تک افطار کرتے اور ان کو گن رکھتے اور پھر اتنے ہی دن روزہ رکھتے اس لئے کہ وہ اس کو برا سمجھتے تھے کہ وہ نبی ﷺ کے بعد کوئی ایسی بات چھوڑیں کہ جس پر عمل کرنے کے لئے آپؐ سے(وعدہ) ٹھہرا تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ)نے کہا: بعض راویوں نے اس حدیث میں یوں نقل کیا: تین راتوں میں یا پانچ راتوں میں اور ان میں سے اکثر سات پر متفق ہیں۔
اسحاق (بن منصور) نے مجھ سے بیان کیاکہ عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شیبان سے، شیبان نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے محمد بن عبدالرحمٰن سے جو بنو زہرہ کےغلام تھے، انہوں نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے روایت کی۔ یحيٰ نے کہا: اور میں خیال کرتا ہوں کہ (شاید) انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث خود ابوسلمہ سے سنی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ (بن عاص) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا: ہر مہینے میں سارا قرآن پڑھا کرو۔ میں نے کہا: میں زیادہ طاقت پاتا ہوں۔ آخر آپؐ نے فرمایا: اچھا سات راتوں میں پڑھ لیا کرو اور اس سے زیادہ نہیں۔
(تشریح): صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا۔ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے سلیمان سے، سلیمان نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ یحيٰ (قطان) نے کہا: اس حدیث کا کچھ(حصہ) عمرو بن مرہ سے مروی ہے۔ (حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا:) مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نیز مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یحيٰ (بن سعید قطان) سے، یحيٰ نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ اعمش نے کہا: اور اس حدیث کا کچھ حصہ عمرو بن مرہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابراہیم سے روایت کی۔ اور (سفیان ثوری) نے اپنے باپ (سعید بن مسروق) سے، ان کے باپ نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ کہتے تھے: میں نے کہا: کیا میں آپؐ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپؐ پر نازل کیاگیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے سے سنوں۔ کہتے تھے: میں نے سورة النساء پڑھی یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچا : اور ان کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں کے متعلق (بطور) گواہ لائیں گے۔ آپؐ نے مجھے فرمایا: رُک جاؤ یا (فرمایا:) ٹھہر جاؤ۔ میں نے آپؐ کی آنکھوں کو دیکھا، آنسو بہا رہی تھیں۔
قیس بن حفص (بصری) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبیدہ سلمانی سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے (قرآن) پڑھ کر سناؤ۔ میں نے کہا: کیا میں آپؐ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپؐ پر تو نازل کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے سے سنوں۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے خیثمہ (بن عبدالرحمٰن) سے،خیثمہ نے سُوَید بن غفلہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: آخری زمانہ میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو نوجوان ہوں گے،عقل کے بے وقوف ہوں گے، ایسی باتیں کریں گے جو جہان کی بہتر باتوں میں سے ہوں گی، اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار ہوجاتا ہے۔ ان کے ایمان اُن کے حلقوں سے نیچے نہیں اتریں گے۔ جہاں کہیں بھی تم ان سے ملو انہیں مارڈالو کیونکہ ان کو مارڈالنا اس شخص کے لئے قیامت کے دن ثواب کا موجب ہوگا جو ان کو مارڈالے گا۔