بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
سعید بن عُفَیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیث نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔ انہوں نے علی بن حسین (زین العابدین) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہؓ نے انہیں خبردی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپؐ سے ملاقات کرنے کے لئے آئیں جبکہ آپؐ رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد میں معتکف تھے۔ پھر وہ واپس جانے کے لئے اُٹھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ اُٹھے۔ یہاں تک کہ جب آپؐ مسجد کے اس دروازے کے قریب پہنچے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت امّ سلمہؓ کے دروازے کے پاس تھا تو انصار میں سے دو شخص (اُسَید بن حُضَیر اور عبادبن بشر) وہاں سے گزرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو السلام علیکم کہا۔ پھر جلدی سے آگے نکل گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ٹھہرو۔ تو دونوں نے کہا: سبحان اللہ یارسول اللہ۔ اور ان دونوں پر یہ بات شاق گزری (کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق کوئی گمان کریں کہ وہ غیر محرم کے ساتھ ہوں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کے اندر وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک خون پہنچتا ہے اور مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا تمہارے دل میں کوئی وسوسہ ڈال دے۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ ہشام سے مروی ہے۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے تھے جبکہ سورج ابھی ان کے حجرہ سے باہر نہ نکلا ہوتا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے او رحضرت عائشہؓ کے مکان کی طرف اشارہ فرمایا اور تین بار فرمایا کہ فتنہ ادھر سے ہوگا جہاں سے شیطانی لوگوں کا خروج ہوگا۔
محمد بن عبداللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ (عبداللہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ ثمامہ سے مروی ہے کہ حضرت انسؓ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بحرین کی طرف انہیں زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا اور انہیں پروانہ لکھ کردیا اور اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرلگائی۔ مہر کا نقش تین سطروں میں تھا۔ محمد ایک سطر میں، رسول دوسری سطر میں اور اللہ تیسری سطر میں۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن عبداللہ اسدی نے ہمیں بتایا۔ (کہا) کہ عیسیٰ بن طہمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حضرت انسؓ ہمارے پاس دو پرانی جوتیاں نکال کر لائے۔ جن کے دوتسمے تھے اور پھر ثابت بنانی نے بعد میں مجھے بتایا کہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ وہ جوتیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوحمزہ سے مروی ہے۔ انہوں نے عاصم سے روایت کی کہ ابن سیرین سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاپانی پینے کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپؐ نے جہاں سے ٹوٹا تھا وہاں چاندی کی ایک زنجیر سے اسے جوڑدیا۔ عاصم نے کہا: میں نے وہ پیالہ دیکھا ہے اور اس میں پانی پیا ہے۔ طرفہُ: ۵۶۳۸۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا کہ عبیداللہ (عمری) سے مروی ہے۔ انہوں نے محمد بن یحيٰ بن حبان سے روایت کی کہ واسع بن حبان سے روایت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوںنے کہا: میں حضرت حفصہؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا اور دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت میں ہیں۔ قبلہ کی طرف آپؐ کی پیٹھ ہے اور شام کی طرف منہ ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیںخبردی۔ عبداللہ بن ابوبکر سے مروی ہے۔ انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے اور انہوں نے کسی انسان کی آو از سنی جو حضرت حفصہؓ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا تھا۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! یہ کوئی مرد ہے جو آپؐ کے گھرمیں آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ فلاں ہے جو حفصہؓ کا رضاعی چچا ہے۔ رضاعت (دودھ پلانا) ان رشتوں کو حرام کردیتی ہے جو ولادت حرام کرتی ہے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (ثقفی) نے ہمیں بتایا۔ (کہا) ہم سے ایوب (سختیانی) نے ذکر کیاکہ حُمَید بن ہلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبردہ (بن ابی موسیٰ) سے، انہوں نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک پیوند شدہ کملی ہمارے پاس باہر نکال کر لائیں اور کہا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔ اور سلیمان (بن مغیرہ)نے حُمَید سے روایت کرتے ہوئے اتنا زیادہ بیان کیا کہ حضرت ابوبردہؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہؓ ایک موٹے کپڑے کا تہہ بند جو یمن میں بنایا جاتا ہے اور ایک کمبل کمبلوں کی اس قسم میں سے جسے تم ملبد کہتے ہو، نکال کر ہمارے پاس لائیں۔ طرفہُ: ۵۸۱۸۔
سعید بن محمد جرمی نے ہم سے بیان کیاکہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا(کہا) کہ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ ولید بن کثیر نے انہیں بتایا کہ محمد بن عمروبن حلحلہ دیلی نے انہیں بتایا کہ ابن شہاب (زُہری) نے ان سے بیان کیا کہ علی بن حسین (زین العابدین) نے انہیں بتایا کہ جب وہ حضرت حسین بن علی رحمۃ اللہ علیہ کے قتل کے وقت یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے تو مِسوَر بن مخرمہ ان سے ملے اور ان سے کہا: اگر آپ کو مجھ سے کوئی ضرورت ہو تو آپ فرمائیں (وہ بجا لائوں) میں نے ان سے کہا: مجھے کوئی ضرورت نہیں تو مِسوَر نے (ان سے) کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار مجھے دیں گے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ لوگ آپ سے جبراً نہ لے لیں اور اللہ کی قسم اگر آپ مجھے دے دیں تو وہ ان تک کبھی نہیں پہنچے گی۔ یہاں تک کہ میری جان چلی جائے۔ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے ابوجہل کی بیٹی سے حضرت فاطمہ علیہاالسلام کے موجود ہوتے ہوئے نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپؐ اس بارے میں اپنے اس منبر پر کھڑے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرما رہے تھے۔ اور میں ان دِنوں جوان تھا۔ آپؐ نے فرمایاکہ فاطمہؓ میرے بدن کا حصہ ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں اپنے دین کے بارے میں کسی ابتلاء میں نہ پڑجائیں۔ پھر آپؐ نے اپنے ایک داماد (عاص بن ربیعہ) کا ذکر کیا جو بنوعبدالشمس کے خاندان سے تھا اوراس کی تعریف کی کہ اس نے دامادی کا حق خوب نباہا ہے۔ فرمایا: اس نے مجھ سے بات کی اور صدق سے کام لیا اور مجھ سے جو وعدہ کیا وہ پورا کیا اور میں کسی حلال بات کو حرام نہیں قرار دیتا اور نہ حرام کو حلال۔ لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی اکٹھی نہیں ہوں گی۔