بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
اسحاق (بن راہویہ) نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے جریر سے سنا۔ وہ عبدالملک سے روایت کرتے تھے کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اور اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔
محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیاکہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔(کہا:) سیار(بن ابی سیار) نے ہمیں خبردی۔ یزید فقیر نے ہم سے بیان کیاکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ہمیں بتایا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غنیمتیں میرے لئے حلال کی گئیں۔
صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمن (بن مہدی) نے ہمیں خبردی۔ مالک سے مروی ہے۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر پچھلے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بستی میں فتح کرتا اسے فتح کرنے والوں میں تقسیم کردیتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم فرمایا۔
عبد اللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا کہ ان کے باپ (سلیمان) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: (انصار میں سے) بعض لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کے درخت مخصوص کردیتے تھے یہاں تک کہ قریظہ اور نضیر مفتوح ہوئے تو اس کے بعد آپؐ نے یہ درخت انہیں واپس کردئیے تھے۔
(تشریح)موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ عثمان بن موہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عثمانؓ تو بدر سے صرف اس لئے غیر حاضر ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جو اُن کے نکاح میں تھیں وہ بیمار تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں بھی اتنا ہی ثواب اور حصہ غنیمت ملے گا جتنا اس شخص کو جو جنگ بدر میں شریک ہوا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوالزناد سے مروی ہے۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد اور اس کی باتوں کی تصدیق کے سوا اَور کسی غرض نے اسے گھر سے نہیں نکالا، اللہ نے ایسے مجاہد کے لئے ذمہ لیا ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا اسے اس اَجر کے ساتھ جو اس نے حاصل کیا ہے یا غنیمت دے کر اس کی رہائش گاہ کی طرف لوٹائے گا جس سے وہ نکلا ہے۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن مبارک نے ہمیں بتایا کہ معمر سے مروی ہے۔ انہوں نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء میںسے ایک نبی نے دشمن پر چڑھائی کی اور اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ شخص نہ جائے جس نے عورت سے عقد کیا ہو اور وہ اسے گھر میں لانا چاہتا ہو اور ابھی تک اسے نہ لایا ہو اور نہ ایسا شخص جس نے گھر کے کمرے بنائے اور ان کی چھتیں مکمل نہ کی ہوں اور نہ وہ جس نے بکریاں یا گابھن اونٹنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کے جننے کا انتظار کر رہا ہو۔ چنانچہ وہ نبی جنگ کے لئے نکلا اور نمازِ عصر یا اس کے قریب اس گائوں (اریحا) کے قریب پہنچا تو سورج سے کہنے لگا کہ تو بھی مامور (یعنی تابع حکم الٰہی ہے) اور میں بھی مامور ہوں۔ اے میرے اللہ! اس سورج کو ہمارے لئے روک رکھ (اس وقت تک کہ ہمیں فتح حاصل ہو۔چنانچہ) سورج روکا گیا۔ یہاں تک کہ اللہ نے اس نبی کو اُن پر فتح دی اور اس نے اموالِ غنیمت جمع کیے اور آگ آئی تاکہ انہیں جلائے۔ لیکن آگ نے اسے نہ چھوا۔ تو اس نبی نے کہا: تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے مالِ غنیمت سے چوری کی ہے، اس لئے چاہیے کہ ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے۔ چنانچہ ایک شخص کا ہاتھ اس نبی کے ہاتھ سے چمٹ گیا تو نبی نے کہا: تمہارے قبیلہ میں چوری کا مال ہے۔ چاہیے کہ تمہارا قبیلہ مجھ سے بیعت کرے۔ دو یا تین اشخاص کا ہاتھ اس نبی کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ جس پر نبی نے کہا کہ چوری کا مال تمہارے پاس ہے۔ تو وہ ایک سونے کا سر لائے جو گائے کے سر ٭ کی مانند تھا اور انہوں نے وہ سر رکھ دیا۔ آگ آئی اور اسے جلادیا۔ اللہ نے ہمارے لئے غنیمتیں حلال کردیں۔ اس نے ہماری کمزوری کو دیکھا۔ اس لئے غنیمتوں کے اموال ہمارے لئے جائز کردئیے۔ طرفہُ: ۵۱۵۷۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا(کہا) کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو (بن مرہ) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے ابووائل سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا، کہا کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کوئی شخص غنیمت کے لئے لڑتا ہے اور کوئی شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اس کی شہرت ہو اور کوئی اس لئے لڑتا ہے کہ اس کا رُتبہ جنگجوئی معلوم ہو۔ ان میں سے کون اللہ کی راہ میں لڑنے والا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: جو اس لئے لڑے کہ اللہ کی بات کا بول بالا ہو تو وہ اللہ کی راہ میں مجاہد ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا کہ ایوب (سختیانی) سے مروی ہے۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی مُلَیکہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ریشمی قبائیں جنہیں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے بطور تحفہ دی گئیں تو آپؐ نے اپنے صحابہ میں سے کچھ لوگوں میں وہ تقسیم کردیں اور ان میں سے ایک قبا حضرت مخرمہ بن نوفلؓ کے لئے الگ کردی۔پھر حضرت مخرمہؓ آئے اور ان کے ساتھ ان کا بیٹے مِسوَر بن مخرمہؓ تھے۔ وہ دروازے پر کھڑے ہوئے اور (بیٹے سے) کہا: (اندر جاکر) آپؐ کو میرے لئے بلا لائو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سن لی اور وہ قباء لی اور اسے لے کر ان سے ملے اور ان بٹنوں کو ان کے سامنے نمایاں کرکے ان کا استقبال کیا اور فرمایا: ابومِسوَر! یہ میں نے آپ کے لئے چھپا رکھی تھی۔ دو بار یہ بات فرمائی اور حضرت مخرمہؓ کے مزاج میں ذرا تیزی تھی۔(اسماعیل) بن عُلَیَّہ نے یہی بات ایوب سے روایت کی کہ حاتم بن وَرْدان نے کہا: ایوب نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی مُلَیکہ سے مروی ہے۔ انہوں نے مِسوَر سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئیں۔ لیث (بن سعد) نے بھی (ایوب کی طرح) ابن ابی مُلَیکہ سے روایت کی ہے۔
(تشریح)اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: ابواسامہ سے میں نے پوچھا: کیا ہشام بن عروہ نے تمہیں بتایا کہ ان کے باپ سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے یہ سنا کہ انہوں نے کہا: جب جنگ جمل کے دن حضرت زبیرؓ کھڑے ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور میں اُٹھ کر ان کے پہلو میں کھڑا ہوا۔ وہ کہنے لگے: بیٹا! آج ظالم یا مظلوم ہی مارا جائے گا اور میں اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ میں آج مظلوم مارا جائوں گا۔ مجھے سب سے بڑی فکر جس چیز کی ہے وہ میرا قرضہ ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہماراقرضہ ہماری جائیداد سے ادا ہوجائے گا؟ انہوں نے کہا: بیٹا ہماری جائیداد فروخت کرکے میرا قرضہ اداکردینا اور انہوں نے تہائی مال کی وصیت کی اور ایک تہائی انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے بیٹوں کے لئے یعنی 1/6 مال کی۔ کہا: اگر ہمارے مال سے قرض ادا کردینے کے بعد کچھ بچ رہے تو اس کی تہائی تم اپنی اولاد کو دینا۔ ہشام کہتے تھے: حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے بعض بیٹے حضرت زبیرؓ کے بعض بیٹوں کے ہم عمر تھے۔ یعنی خُبَیب اور عباد اور ان دِنوں ان کے نو بیٹے تھے اور نو بیٹیاں۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا: زبیر اپنے قرضے سے متعلق مجھے وصیت کرنے لگے اور کہنے لگے: بیٹا اگر کچھ قرض ادا کرنے سے عاجر رہو تو پھر اس کی ادائیگی میں میرے مولیٰ سے مدد لینا۔ حضرت عبداللہ کہتے تھے: بخدا! میں نہیں سمجھا کہ ان کی کیا مراد تھی۔ آخر میں نے پوچھا: ابا! آپ کا مولیٰ کون ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ۔ حضرت عبداللہؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں ان کا قرضہ ادا کرنے میں جب بھی کسی گھبراہٹ میں ہوا تو میں نے یوں دعا کی: اے زبیر کے مولیٰ! ان کی طرف سے ان کا قرضہ ادا کیجیئو تو وہ ضرور اسے اداکردیتا۔ چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور انہوں نے نہ کوئی دینار چھوڑا اور نہ درہم۔ صرف زمینیں ہی چھوڑیں جن میں غابہ تھااور مدینہ میں ان کے گیارہ گھر تھے اور دوگھر بصرہ میں اور ایک گھر کوفہ میں اور ایک گھر مصر میں چھوڑا۔ حضرت عبداللہؓ کہتے تھے: اور وہ قرضہ جو ان کے ذمہ تھا۔ صرف اسی وجہ سے ہوا تھا کہ کوئی شخص ان کے پاس مال لاتا اور ان کے ہاں امانت رکھتا اور حضرت زبیرؓ کہتے: یہ امانت نہیں بلکہ قرض ہے۔ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ضائع نہ ہوجائے اور حضرت زبیرؓ کبھی نہ کسی امارت پر یا کسی خرچ کی وصولی پر مقرر ہوئے اور نہ کسی اور کام پر بجز اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت یا حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ و حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی معیت میں جنگ میں نکلتے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کہتے تھے:ـ میں نے اس قرض کا حساب کیا جو اُن کے ذمہ تھا تو میں نے اسے بائیس لاکھ درہم پایا۔ کہتے تھے: حضرت حکیم بن حزامؓ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے ملے او ر پوچھنے لگے: میرے بھتیجے! میرے بھائی پر کتنا قرضہ ہے؟ تو حضرت عبداللہ نے ان سے چھپایا اور کہا: ایک لاکھ۔ حضرت حکیمؓ نے کہا: بخدا میں نہیں سمجھتا کہ تمہاری جائیدادیں اس کو نپٹا سکیں گی۔ حضرت عبداللہ نے ان سے کہا: بھلا بتلائیں تو سہی اگر وہ قرضہ بائیس لاکھ ہو تو؟ انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے ادا کرسکوگے۔ اگر تم اس میں سے کسی قرضہ کی ادائیگی نہ کرسکو تو مجھ سے مدد لینا۔ کہتے تھے: حضرت زبیرؓ نے غابہ ایک لاکھ ستر ہزار (درہم) میں لیا تھا تو حضرت عبداللہ نے اس کو سولہ لاکھ پر فروخت کیا۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور کہا: زبیرؓ کے ذمہ جس کا کوئی حق ہو تو وہ ہمیں غابہ میں آکر ملے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ ان کے پاس آئے اور حضرت زبیرؓ کے ذمہ ان کا چار لاکھ قرضہ تھا تو انہوں نے حضرت عبداللہ سے کہا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں چھوڑے دیتا ہوں۔ حضرت عبداللہ نے کہا: نہیں۔ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ نے کہا: اچھا۔ اگر تم چاہو تو (میرے) اس قرضہ کو ان قرضوں میں رکھو جو تم بعد میں ادا کرو گے۔ اگر تمہیں کوئی قرضہ بعد میں ادا کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ نے کہا: نہیں۔ کہتے تھے انہوں نے کہا: تو میرے لئے پھر ایک ٹکڑا الگ کردو۔ حضرت عبداللہ نے کہا: آپ کے لئے یہاں سے یہاں تک ہوگا۔ کہتے تھے: حضرت عبداللہ نے غابہ کی زمین کا ایک حصہ بیچا اور اس سے ان کا سارا قرضہ ادا کردیا اور پورے کا پورا اَدا کیا اور اس غابہ کی زمین سے ساڑھے چار حصے بچ گئے۔ پھر عبداللہ بن زبیرؓ معاویہؓ کے پاس آئے اور ان کے پاس عمرو بن عثمان، منذربن زبیر اور (عبداللہ) بن زمعہؓ بیٹھے تھے۔ معاویہؓ نے ان سے پوچھا: غابہ کی کیا قیمت ڈالی گئی تھی؟ انہوں نے کہا: ہر حصہ ایک لاکھ کا تھا۔ انہوں نے پوچھا: کتنا باقی رہ گیا ہے؟ عبداللہ نے کہا: ساڑھے چارحصے۔ منذر بن زبیرنے کہا: میںنے ایک حصہ ایک لاکھ درہم میں لے لیا۔ عمر بن عثمان نے کہا: میں نے بھی ایک حصہ ایک لاکھ درہم میں لے لیا اور (عبداللہ) بن زمعہؓ نے کہا: میں نے بھی ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیا۔ معاویہؓ نے کہا: باقی کتنے حصے رہے؟ انہوں نے کہا: ڈیڑھ حصہ۔ معاویہؓ نے کہا: میں نے اس کو ایک لاکھ پچاس ہزار میں لے لیا۔ کہتے تھے: عبداللہ بن جعفر نے اپنا حصہ معاویہ کے ہاتھ چھ لاکھ درہم پر بیچا۔ جب عبداللہ بن زبیرؓ ان کا قرض ادا کرنے سے فارغ ہوئے تو حضرت زبیرؓ کے بیٹے کہنے لگے: اب ہماری میراث ہمارے درمیان تقسیم کریں۔ انہوں نے کہا: بخدا میں تمہارے درمیان اس وقت تک نہیں تقسیم کروں گا جب تک کہ چار سال تک حج کے موقع پر یہ منادی نہ کرلوں کہ زبیرؓ کے ذمہ جس کا قرضہ ہو وہ ہمارے پاس آئے تا ہم اس کو ادا کردیں۔ کہتے تھے: ہر سال وہ حج کے موقع پر یہ منادی کیا کرتے تھے۔ جب چار سال گزر گئے تو انہوں نے ان میں ترکہ تقسیم کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت زبیرؓ کی چار بیویاں تھیں اور حضرت عبداللہ نے ایک تہائی نکالا۔ پھر بھی ہر ایک بیوی کو بارہ بارہ لاکھ حصہ ملا۔ }اور٭ ان کی ساری جائیداد پانچ کروڑ اور دو لاکھ درہم تھی۔
(تشریح)