بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ عُقَیل نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اور عروہ کہتے تھے کہ مروان بن حکم اور حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ دونوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب ہوازن کے نمائندے مسلمان ہو کر آئے اور انہوں نے آپؐ سے درخواست کی کہ ان کو ان کے مال اور قیدی واپس کردیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: مجھے سب سے پیاری بات وہ لگتی ہے جو نہایت سچی ہو۔ تم دو چیزوں میں سے ایک پسند کرلو۔ قیدی یا مال اور میں نے تم لوگوں کے انتظار میں ان کی تقسیم میں تاخیر کی تھی اور ہوا یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف سے لو ٹ کر آئے تو آپؐ نے دس دن سے کچھ اوپر ان کا انتظار کیا تھا۔ پس جب ان پر یہ واضح ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو واپس نہیں دیں گے۔ مگر دو چیزوں میں سے ایک ہی چیز۔ تو انہوں نے کہا: پھر ہم یہی پسند کرتے ہیں کہ ہمارے قیدی واپس کئے جائیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں (خطبہ کیلئے) کھڑے ہوئے اور آپؐ نے اللہ کی وہ تعریف کی جس کے وہ لائق ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دیکھو تمہارے یہ بھائی توبہ کرکے ہمارے پاس آئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا کہ اِن کو اِن کے قیدی واپس کردوں۔ سوجو خوشی سے یہ بات پسند کرے تو انہیں واپس کردے اور جو تم میں سے یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے پر ہی رہے تو وہ بھی واپس کردے۔ ہم اس کو اس کا حصہ اس پہلی فَے سے دے دیں گے جو اللہ ہمیں عطا کرے گا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوشی سے ان کے قیدی ان کو واپس کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہم نہیں جانتے، تم میں سے کس نے اس سے متعلق اجازت دی اور کس نے اجازت نہیں دی۔ تم واپس جائو تاکہ تمہارے نقیب ہمارے سامنے تمہارا مشورہ پیش کریں۔ لوگ لوٹ گئے اور ان کے نقیبوں نے ان سے بات چیت کی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور انہوں نے آپؐ کو بتایا کہ انہوں نے خوشی سے مانا ہے اور اجازت دی ہے یہ وہ واقعہ ہے جو ہمیں ہوازن کے قیدیوں کی نسبت پہنچا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ فوج بھیجا۔ اس میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی تھے اور انہوں نے بہت سے اونٹ غنیمت میں لئے اور ان کے حصے میں بارہ یا گیارہ اونٹ (فی کس) آئے اور ایک ایک اونٹ انہیں انعام دیا گیا۔ طرفہُ: ۴۳۳۸۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کو فوج میں بھیجتے ان میں سے بعض کو ان کے عام فوجی حصہ سے زیادہ بھی بطور انعام دے دیتے تھے جو خاص کر انہی کی ذات سے مخصوص ہوتا تھا۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ قرہ بن خالد نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ حضرت جابرؓ نے کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں غنیمت تقسیم کررہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص نے آپؐ سے کہا: آپؐ انصاف کریں۔ آپؐ نے فرمایا: پھرتم تو بدبخت ہوگئے اگر میں نے انصاف نہ کیا۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ عُقَیل نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اور عروہ کہتے تھے کہ مروان بن حکم اور حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ دونوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب ہوازن کے نمائندے مسلمان ہو کر آئے اور انہوں نے آپؐ سے درخواست کی کہ ان کو ان کے مال اور قیدی واپس کردیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: مجھے سب سے پیاری بات وہ لگتی ہے جو نہایت سچی ہو۔ تم دو چیزوں میں سے ایک پسند کرلو۔ قیدی یا مال اور میں نے تم لوگوں کے انتظار میں ان کی تقسیم میں تاخیر کی تھی اور ہوا یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف سے لو ٹ کر آئے تو آپؐ نے دس دن سے کچھ اوپر ان کا انتظار کیا تھا۔ پس جب ان پر یہ واضح ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو واپس نہیں دیں گے۔ مگر دو چیزوں میں سے ایک ہی چیز۔ تو انہوں نے کہا: پھر ہم یہی پسند کرتے ہیں کہ ہمارے قیدی واپس کئے جائیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں (خطبہ کیلئے) کھڑے ہوئے اور آپؐ نے اللہ کی وہ تعریف کی جس کے وہ لائق ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دیکھو تمہارے یہ بھائی توبہ کرکے ہمارے پاس آئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا کہ اِن کو اِن کے قیدی واپس کردوں۔ سوجو خوشی سے یہ بات پسند کرے تو انہیں واپس کردے اور جو تم میں سے یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے پر ہی رہے تو وہ بھی واپس کردے۔ ہم اس کو اس کا حصہ اس پہلی فَے سے دے دیں گے جو اللہ ہمیں عطا کرے گا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوشی سے ان کے قیدی ان کو واپس کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہم نہیں جانتے، تم میں سے کس نے اس سے متعلق اجازت دی اور کس نے اجازت نہیں دی۔ تم واپس جائو تاکہ تمہارے نقیب ہمارے سامنے تمہارا مشورہ پیش کریں۔ لوگ لوٹ گئے اور ان کے نقیبوں نے ان سے بات چیت کی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور انہوں نے آپؐ کو بتایا کہ انہوں نے خوشی سے مانا ہے اور اجازت دی ہے یہ وہ واقعہ ہے جو ہمیں ہوازن کے قیدیوں کی نسبت پہنچا ہے۔
عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا۔ حماد نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا۔ نیز قاسم بن عاصم کُلَیبینے مجھ سے بیان کیا اور میں قاسم کی حدیث کو زیادہ یاد رکھتا ہوں کہ انہوں نے زہدم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) کے پاس تھے۔ مرغی کا ذکر آیا اور اس وقت ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک شخص بھی موجود تھا جس کا رنگ سرخ تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کوئی غلام ہے۔ انہوں نے اس کو بھی کھانے پر بلایا۔ اس نے کہا: میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا ہے۔ اس سے مجھے کراہت ہوگئی اور میں نے قسم کھائی کہ اسے نہیں کھائوں گا۔ حضرت ابوموسیٰ ؓنے کہا: ادھر آئو میں اس بارہ میں تمہیں حدیث بتاتا ہوں۔ بعض اشعری لوگوں کے ساتھ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ آپؐ سے سواری مانگیں۔ آپؐ نے فرمایا: بخدا میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور میرے پاس سواری کے جانور نہیں کہ تمہیں سوار ہونے کے لئے دوں۔ اتنے میں نبی ﷺ کے پاس غنیمت کے اونٹ لائے گئے اور آپؐ نے ہمارے متعلق دریافت کیا، فرمایا: وہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ اور آپؐ نے پانچ اونٹ جو سفید کوہان والے تھے ہمیں دینے کیلئے ارشاد فرمایا۔ جب ہم چلے گئے ہم نے کہا: ہم نے جو کیا ہے وہ ہمیں کبھی مبارک نہ ہوگا۔ ہم یہ خیال کرکے آپؐ کے پاس واپس گئے اور ہم نے کہا: آپ سے ہم نے درخواست کی تھی کہ ہمیں سواری دیں اورآپؐ نے قسم کھائی کہ آپؐ ہمیں سواری نہیں دیں گے۔ کیا آپؐ بھول گئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں نے تمہیں سواری نہیں دی۔ بلکہ اللہ ہی نے تمہیں سواری دی ہے اور میں تو بخدا جو قسم بھی ایسی کھا بیٹھوں کہ پھر اس کے سوا کسی اور بات کو بہتر سمجھوں تو انشاء اللہ ضرور وہی بات کروں گا جو بہتر ہوگی اور اس قسم کا کفارہ دوں گا۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ برید بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم یمن میں ہی تھے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی ہمیں خبر پہنچی۔ ہجرت کرکے آپؐ کی طرف ہم روانہ ہوئے۔ میں تھا اور میرے دو بھائی۔ میں ان سے چھوٹا تھا۔ ایک ان میں ابوبردہ تھے اور دوسرے ابورُہم۔ انہوں نے کہا: چندآدمیوں سمیت یا کہا: ترپن یا باون آدمیوں سمیت (ہم نکلے) جو میری قوم میں سے تھے۔ ہم ایک کشتی میں سوار ہوئے اور اس کشتی نے ہمیں حبش کے ملک میںنجاشی کے پاس جااُتارا اور وہاں اس کے پاس اتفاق سے ہم جعفر بن ابی طالبؓ اور ان کے ساتھیوں سے ملے۔ جعفرؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور یہیں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے۔ تم بھی ہمارے ساتھ ہی رہو۔ اس لئے ان کے ساتھ ہم ٹھہرگئے اور پھر اکٹھے ہی ہم (مدینہ میں) آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملے جب آپؐ خیبر فتح کرچکے تھے۔ آپؐ نے ہمیں بھی حصہ دلوایا یا کہا: آپؐ نے ہمیں بھی خیبر کی غنیمت سے حصہ دیا۔ بحالیکہ آپؐ نے سوائے اس کے جو آپؐ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے تھے اور کسی کو بھی جو خیبر کی فتح سے غیر حاضر تھے اس میں سے کوئی حصہ نہ دیا۔ مگر صرف ہم کشتی والوں کو ہی دیا جو جعفرؓ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ تھے۔
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ محمد بن منکدر نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے پاس بحرین کا مالیہ آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنا دوں گا۔ مگر وہ مال اس وقت آیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے تھے۔ جب بحرین کا مالیہ آیا تو حضرت ابوبکرؓ نے منادی کو حکم دیا اور اس نے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ جس کا کوئی قرضہ یا وعدہ ہو وہ ہمارے پاس آئے۔ یہ سن کر میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایسا ایسا فرمایا تھا۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے تین لپ بھر کردئیے۔ (علی بن مدینی کہتے تھے کہ) سفیان دونوں ہاتھ اکٹھے کرکے لپ بھرتے (کہ یوںدیا) پھر انہوں نے ہم سے کہا: ابن منکدر نے ہمیں اسی طرح بتایا اور ایک بار انہوں نے یوں کہا (کہ حضرت جابرؓ کہتے تھے:) میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا۔ میں نے مانگا اور انہوں نے مجھے نہ دیا۔ پھر میں ان کے پاس آیا تو بھی انہوں نے مجھے نہ دیا۔ پھرمیں ان کے پاس تیسری بار آیااور میں نے کہا: میں نے آپؓ سے مانگا۔ آپؓ نے مجھے نہیں دیا پھر میں نے آپؓ سے مانگا۔ تب بھی آپؓ نے مجھے نہیں دیا۔ پھر میں نے آپؓ سے مانگا تب بھی آپؓ نے مجھے نہ دیا۔ یا تو آپؓ مجھے دیں ورنہ آپؓ مجھ سے بخل کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: تم یہ کہتے ہو کہ میں تم سے بخل کرتا ہوں۔ میں نے جب کبھی بھی تمہیں محروم کیا ہے تو یقینا میں اس وقت یہی ارادہ رکھتا تھا کہ میں تمہیں دوں گا۔ سفیان کہتے تھے: عمرو (بن دینار) نے محمد بن علی سے، انہوں نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے یوں بیان کیا: حضرت ابوبکرؓ نے مجھے ایک لپ بھر کردیا اور کہا: اسے شمار کرو۔ میں نے پانچ سو دینار پائے۔ انہوں نے کہا: اتنے ہی دو دفعہ اور لے لو اور انہوں نے یعنی ابن منکدر نے کہا: بھلا بخل سے بڑھ کر اور کیا بیماری ہوگی۔
اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے محمد بن جبیر سے، انہوں نے اپنے باپ (حضرت جبیر بن مطعم) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کی نسبت فرمایا: اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور مجھ سے ان ناپاک لوگوں کے متعلق سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر ان کو چھوڑ دیتا۔ طرفہُ: ۴۰۲۴۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابن مسیب سے، ابن مسیب نے حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں اور حضرت عثمان بن عفانؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے اور ہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے مطلب کے بیٹوں کو دیا اور ہمیں چھوڑ دیا اور ہم اور وہ آپؐ سے ایک ہی تعلق رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو مطلب اور بنو ہاشم تو ایک ہی ہیں۔ لیث نے کہا: یونس نے بھی مجھ سے یہ بیان کیا اور اتنا بڑھایا کہ حضرت جبیرؓ نے کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدشمس کی اولاد کو نہیں دیا اور نہ نوفل کی اولاد کو۔ اور ابن اسحاق نے یوں کہا: عبدشمس اور ہاشم اور مطلب بھائی تھے۔ ایک ہی ماں کے تھے اور ان کی ماں عاتکہ بنت مرہ تھی اور نوفل ان کے باپ کی طرف سے بھائی تھا۔
(تشریح)