بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 65 hadith
محمود بن غیلان نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں: حضرت زبیرؓ کی اس زمین سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دی تھی، میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں اُٹھا کر لایا کرتی تھی اور یہ زمین دو تہائی فرسخ کے فاصلہ پر تھی۔ اور ابوضمرہ نے یہ روایت ہشام (بن عروہ) سے (مرسلا ً) نقل کی۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کی جائیدادوں میں سے ایک زمین حضرت زبیرؓ کو بطور جاگیر دی تھی۔ طرفہُ: ۵۲۲۴۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید بن ہلال سے، حمید نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم خیبر کے محل کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے تھیلہ پھینکا جس میں چربی تھی۔ میں اس کے لینے کو لپکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں ۔ سو میں شرم کی وجہ سے اس کو لینے سے رُک گیا۔ طرفہُ: ۵۵۰۸۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم اپنی لڑائیوں میں شہد اور انگور بھی پایا کرتے تھے اور انہیں کھاتے اور اُٹھاکررکھ نہ چھوڑتے۔
احمد بن مقدام نے مجھ سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو حجاز کے ملک سے جلاوطن کردیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب آپؐ اہل خیبر پر غالب آئے، ارادہ فرمایا تھا کہ یہودیوں کو وہاں سے نکال دیں اور جب آپؐ غالب آئے تو ان اراضی میں سے کچھ یہودیوں کیلئے رہیں اور کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اور کچھ مسلمانوں کے لئے۔ اور یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ زمین انہی کے قبضہ میں رہنے دیں، اس شرط پر کہ محنت وہ کریں گے اور آدھی پیداوار ان کی ہوگی (اور آدھی مسلمانوں کی۔) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک ہم چاہیں گے اس شرط پر رہنے ٭دیں گے۔ چنانچہ وہ اس شرط پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں انہیں تیماء یا اَریحاء کی طرف نکال دیا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالواحد نے ہمیں بتایا کہ شیبانی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن ابی اوفی ٰ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: غزوئہ خیبر کی راتوں میں ہم بھوکے رہتے تھے۔ جب خیبر کی لڑائی ہوئی تو ہم پالتو گدھوں پر لپکے اور انہیں ذبح کیا۔ جب ہانڈیاں اُبل رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آوازدی: ہانڈیاں اُلٹ دو اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ نہ کھائو۔ حضرت عبداللہ (بن ابی اوفیؓ) کہتے تھے: ہم کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لئے منع فرمایا ہے کہ ان کا پانچواں حصہ نہیں نکالا گیا تھا۔ (شیبانی نے) کہا: اور بعض نے کہا: آپؐ نے اس کو قطعاً حرام قرار دیا ہے۔ سعید بن جبیر سے میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا: آپؐ نے ان کو قطعی حرام قرار دیا تھا۔
(تشریح)