بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یوسف بن ماجشون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف سے، صالح نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں بدر کی لڑائی میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو اَنصاری لڑکے ہیں۔ ان کی عمریں چھوٹی ہیں۔ میں نے آرزو کی کہ کاش میں ایسے لوگوں کے درمیان ہوتا جو ان سے زیادہ جوان تنومندہوتے۔ اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ سے دبا کر پوچھا: چچا! کیا آپؓ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ بھتیجے تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے بتلایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتاہے اور اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ پائوں تو میری آنکھ اس کی آنکھ سے جدا نہ ہوگی جب تک ہم دونوں میں سے وہ نہ مرجائے جس کی مدت پہلے مقدر ہے۔ مجھے اس سے تعجب ہوا۔ پھر دوسرے نے مجھے ہاتھ سے دبایا اور اس نے بھی مجھ سے اسی طرح پوچھا۔ ابھی تھوڑا عرصہ گزرا ہوگا کہ میں نے ابوجہل کو لوگوں میں چکر لگاتے دیکھا۔ میں نے کہا:دیکھو یہ ہے وہ تمہارا ساتھی جس کے متعلق تم نے مجھ سے دریافت کیا تھا۔ یہ سنتے ہی وہ دونوں جلدی سے اپنی تلواریں لئے اس کی طرف لپکے اور اسے اتنا مارا کہ اس کو جان سے مار ڈالا او رپھر لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپؐ کو خبردی۔ آپؐ نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس کو مارا ہے؟ دونوں نے کہا: میں نے اس کو مارا ہے۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ کر صاف کرلی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے تلواروں کو دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: تم دونوں نے ہی اس کو مارا ہے۔ اس کا سامانِ غنیمت معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا اور ان دونوں کا نام معاذ تھا۔ معاذ بن عفرائ٭ اور معاذ بن عمرو بن جموح۔ محمد نے کہا: یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے سنا۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قریش کو دیتا ہوں تا انہیں مانوس کروں کیونکہ زمانہ جاہلیت سے ابھی نکلے ہیں۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے(عمربن کثیر) بن افلح سے، ابن افلح نے ابومحمد سے جو حضرت ابوقتادہؓ کے غلام تھے۔ ابومحمد نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: جس ٭سال حنین کی جنگ ہوئی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان اِدھراُدھر ہٹ گئے اور میں نے مشرکوں میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان شخص کے اوپر چڑھا ہوا ہے۔ میں گھوم کر پیچھے سے اس کے پاس آیا اور تلوار سے اس کے مونڈھے کی رَگ پر ایک ضرب لگائی۔ وہ مجھ پر لپکا اور اس نے مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے موت کی بو سونگھی۔ مگر موت نے اس کو آپکڑا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں حضرت عمر بن خطابؓ سے جاکر ملا اور میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کا حکم۔ پھر اس کے بعد لوگ لوٹ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: جس نے کسی کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس اس کا ثبوت بھی ہو تو اسی کا وہ سامانِ غنیمت ہے جو مقتول سے لیا گیا ہو۔ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا: میرے لئے کون گواہی دے گا؟ اور یہ کہہ کر میں پھر بیٹھ گیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جس نے کسی کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس اس کا ثبوت بھی ہو تو اسی کا وہ سامانِ غنیمت ہے جو مقتول سے پایا ہو۔ میں کھڑا ہوا اور یہ کہہ کر میں پھر بیٹھ گیا۔ آپؐ نے تیسری بار پھر ایسے ہی فرمایا۔ میں پھر کھڑا ہواتو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ابو قتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ میں نے آپؐ سے سارا واقعہ بیان کیا۔ تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے سچ کہا ہے اور اس کا سامانِ غنیمت میرے پاس ہے۔ آپؐ میری طرف سے اسے راضی کردیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: بخدا! ایسا نہیں ہوگا کہ اس (کے شکار) کا کوئی اور قصد کرے۔ وہ تو اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہ سلوک نہیں کریں گے کہ اس کا سامانِ غنیمت تمہیں دے دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر نے سچ کہا ہے اور آپؐ نے وہ سامان مجھے دلایا۔ }میں نے ذرہ بیچی٭{ اور }اس کی قیمت سے٭{ بنوسلمہ کے محلے میں ایک باغ خریدا اور یہ پہلی جائیداد ہے جو میں نے اسلام میں پیدا کی۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے سعید بن مسیب سے اور عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا اور آپؐ نے مجھے دیا۔ پھر میں نے آپؐ سے مانگا اور آپؐ نے مجھے دیا۔ پھر مجھ سے فرمایا: حکیم یہ مال ہرا بھرا ہے۔ شیریں ہے۔ سو جس نے سیر چشمی اور سخاوتِ نفس سے اسے لیا تو اس کو اس میں برکت دی جائے گی اور جس نے نفس کے لالچ سے اسے لیا، اس کے لئے اس میںبرکت نہ ہوگی اور وہ اس شخص کی مانند ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور (یاد رکھو) اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے اچھا ہوتا ہے۔ حضرت حکیمؓ کہتے تھے: میں نے (یہ سن کر) کہا: یارسول اللہ! اسی ذات کی قسم جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے۔ اس وقت تک کہ میں دنیا سے جدا ہوجائوں۔ میں آپؐ کے بعد اور کسی سے بھی کچھ نہ لوں گا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ حضرت حکیمؓ کو بلاتے کہ انہیں بھی وظیفہ دیں تو وہ انکار کرتے کہ ان سے کچھ لیں۔ پھر حضرت عمرؓ نے بھی انہیں بلایا کہ ان کو وظیفہ دیں۔ مگر انہوں نے اسے لینے سے انکار کردیا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: مسلمانو! میں ان کے سامنے ان کا وہ حق جو اللہ نے اس فَے سے مقرر کیا ہے، پیش کرتا ہوں تو یہ لینے سے انکار کرتے ہیں۔ غرض حضرت حکیمؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنی موت تک لوگوں میں سے کسی سے بھی کچھ نہ لیا۔
ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت میں میرے ذمہ یہ نذر تھی کہ ایک دن اعتکاف بیٹھوں گا۔ آپؐ نے ان سے فرمایا کہ اسے پوراکریں۔ نافع کہتے تھے: اور حضرت عمرؓ نے حنین کے قیدیوں میں سے دو لڑکیاں حصے میں پائی تھیں۔ انہوں نے ان دونوں کو مکہ کے کسی گھر میں رکھا۔ نافع کہتے تھے: پھر رسول اللہ ﷺ نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا تو وہ چھوٹ کر گلی کوچوں میں دوڑنے لگے۔ حضرت عمرؓ نے (اپنے بیٹے عبداللہ کو) کہا: عبد اللہ! دیکھو کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدی بغیر فدیہ لئے چھوڑ دئیے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: جائو اور تم بھی ان دونوں لڑکیوں کو چھوڑ دو۔ نافع کہتے تھے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا اور اگر آپؐ باندھتے تو حضرت عبداللہؓ سے پوشیدہ نہ رہتا۔ اور جریر بن حازم نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے کچھ زیادہ بیان کیا اور کہا: (وہ لڑکیاں) خمس میں سے (حضرت عمرؓ کو ملی) تھیں اور معمر نے نذر کی بابت بیان کیا اور یہ نہیں کہا کہ (حضرت عمرؓ نے) ایک دن (کی نذر کا ذکر کیا۔) معمر نے بھی ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے یہ روایت کی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جریربن حازم نے ہمیں بتایا۔ حسن (بصری) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت عمروبن تغلب رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا، کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اموال یا قیدیوں میں سے) بعض لوگوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے وہ آپؐ سے ناراض ہیں۔ یہ دیکھ کر آپؐ نے فرمایا کہ میں بعض دفعہ ایسے لوگوں کو دیتا ہوں کہ جن سے مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ ٹھوکر نہ کھائیں اور بے صبر نہ ہوجائیں اور بہت لوگوں کو اس بھلائی اور سیر چشمی کے سپرد کردیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیداکی ہے۔ ان میں سے عمرو بن تغلبؓ بھی ہیں۔ حضرت عمرو بن تغلبؓ کہتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میری نسبت جو یہ کلمہ فرمایا، اگر اس کے بدلے سرخ اونٹ مجھے ملتے تو میں اتنا خوش نہ ہوتا (جتنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر ہوا) اور ابوعاصم نے جریر سے روایت کرتے ہوئے کچھ زیادہ بیان کیا، کہا: میں نے حسن سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت عمرو بن تغلبؓ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال یا قیدی لائے گئے اور آپؐ نے انہیں تقسیم کیا۔ پھر یہی روایت بیان کی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے مجھے بتایا کہ جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوازن کے مالوں میں سے عطا کیا اور آپؐ قریش کے بعض آدمیوں کو سو سو اونٹ دینے لگے تو اس وقت بعض انصاری لوگوں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت) کہا: اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درگزر فرمائے۔ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔ بحالیکہ ہماری تلواروں سے ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی یہ بات بیان کی گئی تو آپؐ نے انصار کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے کے ایک بڑے خیمے میں جمع کیا اور ان کے سوا اور کسی کو بھی ان کے ساتھ نہ بلایا۔ جب وہ اکٹھے ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور آپؐ نے فرمایا: یہ کیا بات تھی جو تمہاری نسبت مجھے پہنچی ہے۔ ان میں سے عقل مندوں نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں سے جو اہل الرائے ہیں،انہوں نے تو کچھ نہیں کہا۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو نوعمر ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف کرے قریش کو دیتے ہیں اور انصار کو چھوڑ رہے ہیں بحالیکہ ہماری تلواروں سے ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے آدمیوں کو دیتا ہوں جو زمانہ کفر سے قریب ہیں۔ کیا تم خوش نہیں ہوتے کہ لوگ تو مال لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہو۔ بخدا جسے لے کر تم لوٹوگے وہ اس چیز سے بہتر ہے جس کو لے کر وہ لوٹیں گے۔ انصار نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ۔ ہم خوش ہیں۔ پھر آپؐ نے ان سے فرمایا: عنقریب میرے بعد تم سخت خودغرضی کو دیکھو گے۔ سو اس وقت تک صبر کرنا کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض پر ملو۔ حضرت انسؓکہتے تھے: مگر ہم نے صبر نہ کیا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عمر بن محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھے بتایا کہ محمد بن جبیر نے کہا: حضرت جبیر بن مطعمؓ نے مجھے بتایا کہ ایک بار وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپؐ کے ساتھ اورلوگ بھی تھے۔ آپؐ حُنَین سے آرہے تھے۔ بدوی لوگ آپؐ سے لپٹ گئے۔ آپؐ سے مانگتے تھے۔ اتنے لپٹے کہ انہوں نے آپؐ کو ایک ببول کے درخت کی طرف ہٹنے کے لئے مجبور کردیا جس کے کانٹوں نے آپؐ کی چادر اُچک لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرگئے اور آپؐ نے فرمایا: میری چادر مجھے دے دو۔ اگر (میرے پاس) ان جنگلی درختوں کی گنتی کے مطابق اونٹ ہوتے تو میں انہیں تم میں بانٹ دیتا اور پھر تم مجھے بخیل نہ پاتے اور نہ جھوٹا اور نہ بزدل۔ طرفہُ: ۲۸۲۱۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحق بن عبداللہ سے، اسحق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جارہا تھا اور آپؐ ایک موٹے حاشیہ کی نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ایک گنوار نے آپؐ کو آپکڑا اور آپؐ کی چادر اس زور سے کھینچی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے کو دیکھا کہ چادر کے کنارے نے اس میں زور سے کھینچے جانے کی وجہ سے نشان ڈال دیا تھا۔ وہ کہنے لگا: اللہ کے اس مال سے جو آپؐ کے پاس ہے مجھے بھی دلوائیں۔ آپؐ نے مڑکر اس کو دیکھا اور ہنسے۔ پھر آپؐ نے اس کو کچھ دینے کے لئے فرمایا۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب حنین کی جنگ ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم میں کچھ لوگوں کو مقدم کیا۔ چنانچہ اقرع بن حابسؓ کو آپؐ نے سو اونٹ دئیے اور عیینہ (بن حصنؓ) کو بھی اتنے ہی دئیے اور کچھ ایسے آدمیوں کو بھی دیا جو شرفائِ عرب میں سے تھے تو اس دن آپؐ نے تقسیم میں ان کو مقدم کیا۔ ایک شخص کہنے لگا: بخدا! یہ تقسیم تو ایسی ہے کہ اس میں انصاف مدنظر نہیں رکھا گیا اور نہ اس سے اللہ کی رضا مندی مقصود ہے۔ میں نے کہا: بخدا! میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ضرور بتائوں گا۔ چنانچہ میں آپؐ کے پاس آیا اور آپؐ کو بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: پھر اور کون انصاف کرے گا اگر اللہ اور اس کے رسول نے انصاف نہ کیا؟ موسیٰ پر اللہ رحم کرے، ان کو اس سے بھی زیادہ دُکھ دیا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔