بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: سنو ! اگر کوئی قسم بھی کھائے تو وہ سوائے اللہ کے کسی کی قسم نہ کھائے۔ قریش اپنے باپ دادوں کی قسمیں کھایا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھایا کرو۔
اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے ابواسامہ سے پوچھا: کیا یحيٰ بن مُہَلّب نے تم سے بیان کیا کہ حصین نے عکرمہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ (سورة عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ میں ) جو کَاْسًا دِھَاقًا کے الفاظ ہیں، ان کے معنی ہیں: پے در پے بھرے ہوئے گلاس۔
عکرمہ نے کہا: اورحضرت ابن عباسؓ نے یہ بھی کہا تھا: میں نے اپنے باپ کو زمانہ جاہلیت میں کہتے ہوئے سنا: أَسْقِنَا کَاْسًا دِھَاقًا۔ یعنی ہمیں بھرے ہوئے گلاس پلاؤ۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہایت سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید کا یہ مصرعہ ہے: دیکھو اللہ کے سوا جو بھی چیز ہے وہ ناپائیدار ہے اور امیہ بن ابی صلت تقریباً مسلمان ہی تھا۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی (بن میمون) نے ہمیں بتایا:کہا کہ غیلان بن جریر نے ہم سے بیان کیا کہ ہم حضرت انس بن مالکؓ کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ انصار کے متعلق ہم سے باتیں کیا کرتے تھے اور مجھے کہتے کہ تیری قوم نے فلاں فلاں دن یہ یہ کام کیا اور تیری قوم نے فلاں فلاں دن یہ یہ کام کیا۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہاکہ ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے عمرو (بن حارث) نے بتایا کہ عبدالرحمٰن بن قاسم نے ان سے بیان کیا۔قاسم (بن محمد) جنازہ کے آگے چلا کرتے تھے اورجنازہ دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے اور حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بتلاتے تھے کہ وہ کہتی تھیں: زمانہ جاہلیت کے لوگ جنازہ دیکھ کر اُٹھ کھڑے ہوتے تھے اور وہ اس کو دیکھتے تو کہتے: تو اپنے اہل و عیال میں دوبارہ آئے ویسے کا ویسا جیسا کہ تو تھا۔
عمروبن عباس نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن (بن مہدی) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ مشرک مزدلفہ سے اس وقت تک نہ لوٹتے جب تک کہ سورج ثبیر پہاڑ پر نہ چمکتا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے برخلاف کیا اور سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے لوٹے
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان بن بلال سے، سلیمان نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے، یحيٰ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ کہتی تھیں کہ حضرت ابوبکرؓ کا ایک غلام تھا جو اپنی کمائی سے ان کو دیا کرتا تھا اور حضرت ابوبکرؓ اس کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ کوئی چیز لایا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس سے کچھ کھایا۔ غلام نے ان سے کہا: آپ جانتے ہیں یہ کیسی ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا: یہ کیسی ہے؟ اس نے کہا: میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کے لئے رمالی کی تھی اور میں رمالی کا علم اچھی طرح نہیں جانتا تھا۔ مگر میں نے اس کو دھوکا دیا تھا۔ {وہ مجھ کو ملا۔} اس نے مجھ کو اس کا معاوضہ دیا ہے۔ سو یہ وہی کمائی ہے جس سے آپ نے کھایا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنی انگلی منہ میں ڈالی اور جو کچھ پیٹ میں تھا سب قَے کردیا۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں عبدالوارث نے بتایا۔ قطن ابوالہیثم نے ہم سے بیان کیا کہ ابویزید مدنی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: قسامت جو زمانہ جاہلیت میں پہلے پہل ہوئی وہ ہم بنی ہاشم میں ہوئی۔بنی ہاشم میں سے ایک شخص تھا جس کو ایک قریشی نے جو کہ کسی دوسرے خاندان سے تھا، نوکر رکھا۔ یہ نوکر اس ہاشمی کے ساتھ اس کے اونٹ لے کر چل پڑا۔ بنی ہاشم میں سے ایک شخص اس کے پاس سے گزرا جس کی بوری کا بندھن ٹوٹ گیا تھا۔ اس ہاشمی نے اس نوکر سے کہا: ایک اونٹ کا بندھن دے کر میری مدد کرو تاکہ میں اس سے اپنی بوری کا منہ باندھ لوں۔ یہ اُونٹ کہیں بھاگ نہ جائیں گے۔ چنانچہ اس نے اس کو اُونٹ کا ایک بندھن دے دیا۔ جس سے اس نے اپنی بوری کا منہ باندھا ۔ جب انہوں نے ڈیرے لگائے توسب اونٹ سوائے ایک اونٹ کے باندھے گئے۔ جس شخص نے اس کو نوکر رکھا تھا اس نے پوچھا: اس اونٹ کو کیا ہوا ہے کہ یہ اونٹوں میں سے نہیں باندھاگیا؟ اس نے کہا: اس کا بندھن نہیں ہے۔ اس قریشی نے کہا: پھر اس کا بندھن کہاں ہے؟ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ اس نے اس پر لاٹھی پھینکی جو اس کی موت کا موجب ہوئی۔ اتنے میں اہل یمن میں سے ایک شخص اس کے پاس سے گزرا اور (اس سے) اس نوکر نے پوچھا: کیا تم ہر سال ہی حج کو جایا کرتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں ۔ لیکن کبھی کبھی جاتا بھی ہوں۔ نوکر نے کہا: اگر تو جائے تو کیا میرا یہ پیغام پہنچا دے گا۔ اس نے کہا: ہاں۔ نوکر نے کہا: جب تو حج میں جائے تو یوں پکاریو۔ اے قریش کے لوگو! جب وہ تمہیں جواب دیں تو یوں پکاریو: اے بنی ہاشم کے لوگو! اگر تمہیں جواب دیں تو ابوطالب کے متعلق ان سے دریافت کرو تو اُن کو تم بتلاؤ کہ فلاں نے مجھے ایک بندھن کی وجہ سے مار ڈالا ہے اور وہ نوکر مرگیا۔ جب وہ شخص جس نے اس کو نوکر رکھا تھا (مکہ) پہنچا۔ ابوطالب اس کے پاس آئے اور انہوں نے پوچھا: ہمارے اس ساتھی کو کیا ہوا؟ اس نے کہا: وہ بیمار ہوگیا تھا۔ میں نے اس کی اچھی طرح خدمت کی (آخر مر گیا) تو میں نے اس کو دفن کردیا ہے۔ ابوطالب نے کہا: وہ تم سے اسی سلوک کا مستحق تھا۔ ابوطالب کچھ مدت ٹھہرے۔ پھر وہ شخص جسے اس نوکر نے پیغام پہنچانے کی وصیت کی تھی وہ حج کے موقع پر آن پہنچا۔ اس نے کہا: اے قریش کے لوگو! لوگوں نے کہا: یہ قریش ہیں۔ اس نے کہا: اے بنی ہاشم کے لوگو! لوگوں نے کہا: یہ بنی ہاشم ہیں۔ اس نے کہا: ابوطالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا۔ ابوطالب یہ ہیں۔ اس نے کہا: فلاں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں تم کو یہ پیغام پہنچادوں کہ فلاں شخص نے اس کو ایک بندھن کے بدلے مارڈالا ہے۔ یہ سنتے ہی ابوطالب اس شخص کے پاس آئے اور اس سے کہا: ہم سے تین باتوں میں سے ایک بات اختیار کرلو۔ اگر تم چاہو تو ایک سو اُونٹ ادا کردو۔ کیونکہ تم نے ہمارے ساتھی کو مارڈالا ہے اور اگر تم چاہو تو تمہاری قوم کے پچاس آدمی قسم کھالیں کہ تم نے اس کو قتل نہیں کیا۔ اگر تم یہ نہ مانو تو ہم اس کے بدلے تم کو قتل کردیں گے۔ چنانچہ وہ قریشی اپنی قوم کے پاس آیا۔ لوگوں نے کہا: ہم قسم کھائیں گے۔ یہ سن کر بنی ہاشم کی ایک عورت جو اُن قریشیوں میں سے کسی شخص کی بیوی تھی جس کا ایک لڑکا بھی تھا وہ ابوطالب کے پاس آئی اور کہنے لگی: ابوطالب! میں چاہتی ہوں کہ ان پچاس لوگوں میں جن سے ایک شخص کے بدلے قسمیں لی جائیں گی اس میرے بیٹے کی قسم معاف کردو اور جہاں قسمیں لی جائیں گی وہاں اس کو قسم کھانے کے لئے مجبور نہ کیا جائے۔ چنانچہ ابوطالب نے ایسا ہی کیا۔ پھر ان میں سے ایک اور شخص ابوطالب کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابوطالب آپ نے یہ چاہا ہے کہ سو اونٹ کے بدلہ پچاس آدمی قسم کھائیں۔ اس حساب سے ہر ایک شخص کے حصے دو اونٹ آتے ہیں۔ یہ دو اونٹ لو اور مجھ سے یہ قبول کرو اور مجھے قسم کیلئے اس جگہ مجبور نہ کرو جہاں حکماً قسمیں لی جائیں گی۔ ابوطالب نے ان دو اونٹوں کو منظور کرلیا اور اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسمیں کھائیں۔حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابھی ایک سال نہیں گزرا تھا کہ ان اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک جھپکنے والی آنکھ بھی باقی رہی ہو۔