بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
عبید بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: بعاث کی جنگ ایسی تھی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بطور پیش خیمہ بنایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آئے تو یہ حالت تھی کہ مدینہ والوں کی جمعیت پراگندہ ہوچکی تھی اور ان کے سردار کچھ مارے جاچکے تھے اور کچھ زخمی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیش خیمہ بنایا تا کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔
(عبداللہ) بن وہب کہتے تھے کہ عمرو (بن حارث) نے بکیر بن اشج سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وادی کے نشیب میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا سنت نہیں ہے بلکہ یہ تو زمانہ جاہلیت کے لوگ دوڑا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم دوڑ کر ہی اس میدان کے پار جائیں گے۔
نعیم بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے، حصین نے عمرو بن میمون سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریا کو دیکھا کہ جس پر بہت سے بند ر اکٹھے ہیں ۔ اس نے زنا کیا تھا۔ ان بندروں نے اس کو سنگسار کیا۔ میں نے بھی اس کو ان بندروں کے ساتھ سنگسار کیا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ (بن ابی یزید) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ انہوں نے کہا: جاہلیت کی خصلتوں میں سے یہ خصلت بھی تھی کہ نسب کا طعنہ مارنا اور میت پر نوحہ کرنا اور عبیداللہ تیسری بات کو بھول گئے اور سفیان نے کہا: لو گ کہتے ہیں: تیسری بات ستاروں کے ذریعہ سے بارش طلب کرنا ہے۔
عبداللہ بن محمد جعفی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ مطرف نے ہم کو خبردی کہ میں نے ابوسفر (سعید بن یحمد) سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: اے لوگو! جو بات میں تم سے کہتا ہوں وہ تم مجھ سے سنو اور جو تم کہتے ہو وہ تم مجھے سناؤ اور یہ نہ ہو کہ تم باہر جاکر کہو کہ ابن عباسؓ نے یہ کہا، ابن عباسؓ نے یہ کہا۔ جو بیت اللہ کا طواف کرے، چاہیے کہ وہ حِجرکے پرے سے طواف کرے اور حِجر کو حطیم نہ کہو۔ حطیم اس کو اس لئے کہتے تھے کہ جاہلیت میں کوئی شخص جو قسم کھاتا وہ اپنا کوڑا یا اپنی جوتی یا اپنا کمان وہاں پھینک دیتا تھا۔
: (عبداللہ بن زبیر مکی) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے کہا: بیان (بن بشر) اور اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں نے کہا: ہم نے قیس سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت خبابؓ (بن ارتّ) سے سنا۔ کہتے تھے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپؐ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پرتکیہ لگائے بیٹھےتھے اور اس زمانہ میں ہم نے مشرکین سے بہت تکلیف اُٹھائی تھی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ آپؐ یہ سن کر بیٹھ گئے۔ آپؐ کا چہرہ سرخ تھا۔ آپؐ نے فرمایا: تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں۔ تب بھی یہ بات ان کو ان کے دین سے نہ پھیرتی اور ان کے سر کی مانگ پر آری رکھ کر دو ٹکڑوں میں چیر دئیے جاتے تب بھی یہ بات ان کو ان کے دین سے نہ پھیرتی۔ اللہ ضرور بالضرور اس کام کو پورا کرے گا۔ یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا اور بجز اللہ کے کسی سے نہیں ڈرے گا۔ بیان نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بڑھائے ہیں:سوائے بھیڑیے کے اپنی بکریوں کے متعلق ۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اسود (بن یزید) سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة النجم پڑھی اور سجدہ کیا کوئی باقی نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، سوائے ایک شخص کے ۔ اس کو میں نے دیکھا کہ اس نے کنکریوں کی ایک مٹھی لی اور اس کو اُٹھا کر اس پر سجدہ کیا اور کہا: میرے لئے یہی کافی ہے۔ پھر میں نے اس شخص کو اس کے بعد دیکھا کہ وہ ایسی حالت میں مارا گیا کہ وہ اللہ کا منکر تھا۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے، عمرو نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے، اس وقت آپؐ کے آس پاس قریش کے کچھ لوگ تھے۔ عقبہ بن ابی مُعَیْط اونٹ کی اوجھڑی لے کر آیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر پھینک دیا۔ آپؐ نے اپنا سر نہیں اُٹھایا۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام آئیں اور انہوں نے اس کو آپؐ کی پیٹھ سے اُٹھالیا اور جس نے یہ کیا تھا اس کے لئے بددعا کرنے لگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! قریش کے ان بڑے بڑے لوگوں سے سمجھ۔ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف یا فرمایا: اُبَیّ بن خلف۔ شعبہ نے یہ شک کیا۔ پھر میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ بدر کی جنگ میں مارے گئے اور کنوئیں میں ڈال دئیے گئے۔ بجز امیہ بن خلف یا اُبَیّ کے، اس کے جوڑوں کی ہڈیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تھیں۔ اس لئے اسے کنوئیں میں نہ ڈالا گیا۔
عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا کہ منصور سے روایت ہے کہ سعید بن جبیر نے مجھ سے بیان کیا یا کہا کہ حکم (بن عتیبہ) نے سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓنے مجھے بتایا اور کہا کہ حضرت ابن عباسؓ سے ان دو آیتوں کے متعلق پوچھو کہ ان کا کیا مطلب ہے؟ (۱) اس نفس کو مت قتل کرو جس کو اللہ نے معزز قرار دیا ہے۔ (۲) جو کسی مومن کو عمداً قتل کرے گا۔ چنانچہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: جب وہ آیت جو سورة الفرقان میں ہے، نازل ہوئی )یعنی رحمٰن کے بندے… وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ہو ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے گا، گناہ کی سزا پائے گا) مکہ کے مشرک لوگ کہنے لگے: ہم نے تو اس نفس کو بھی مارا ہے جس کو اللہ نے قابل عزت قرار دیا ہے اور اللہ کے ساتھ اور معبود بھی پکارتے رہے اور ہم نے بدکاریاں بھی کیں۔ (تو ہمیں ایمان لانے سے کیا فائدہ؟) اس پر اللہ نے یہ وحی نازل کی: سوائے اس کے جو توبہ کرے اور ایمان لائے… تو یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے اور وہ آیت جو سور ة النساء میں ہے، اس سے وہ شخص مراد ہے کہ جس نے اسلام اور اس کے شرعی احکام کو سمجھ لیا اور پھر قتل کیا تو اس کی سزا جہنم ہوگی۔ (حضرت عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ نے کہا:) میں نے حضرت ابن عباسؓ کا یہ قول مجاہد سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: (دوسری آیت میں بھی یہی استثناء ہے یعنی) سوائے اس کے جو پشیمان ہو…