بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ ولید بن مسلم نے ہمیں بتایا کہ اوزاعی نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن ابی کثیر نے مجھے بتایا کہ محمد بن ابراہیم تیمی سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے (حضرت عبداللہ) بن عمرو بن العاصؓ سے پوچھا: وہ بدترین سلوک مجھے بتائیں جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے حطیم مقام میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی مُعَیط آیا اور اس نے اپنا کپڑا آپؐ کی گردن میں ڈال کر آپؐ کا گلا زور سے گھونٹا۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ پہنچ گئے اور آکر انہوں نے عقبہ کا کندھا پکڑا اور اسے دھکیل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم ایسے شخص کومارتے ہو جو کہتا ہے: میرا ربّ اللہ ہے؟ عیاش بن ولید کی طرح (محمد) بن اسحاق نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ (انہوں نے کہا:) یحيٰ بن عروہ نے عروہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ اس میں یوں ہے: حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے۔ میں نے کہا: اور عبدہ نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ (عروہ) سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: حضرت عمرو بن العاصؓ سے کہاگیا۔ اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: حضرت عمرو بن العاصؓ نے مجھ سے بیان کیا۔
(تشریح)مجھ سے اسحاق (بن ابراہیم) نے بیان کیا: ہمیں ابواسامہ نے خبردی کہ ہاشم (بن ہاشم) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے حضرت ابواسحاق سعد بن ابی وقاصؓ کو کہتے سنا۔ کوئی اسلام نہیں لایا مگراسی دن جس دن میں مسلمان ہوا اور مسلمان ہونے کے بعد سات دن مجھ پر ایسے گزرے کہ میں کل مسلمانوں کا تیسرا حصہ تھا۔
محمد بن کثیر نے مجھ سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے، قیس نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب سے حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے ہم معزز ہی رہے۔
عبداللہ بن حماد آملی نے مجھے بتایا، کہا: یحيٰ بن معین نے مجھ سے بیان کیا کہ اسماعیل بن مجالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بیان (احمسی) سے، بیان نے وبرہ سے، وبرہ نے ہمام بن حارث سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمار بن یاسرؓنے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا جبکہ آپؐ کے ساتھ کوئی نہ تھا۔ صرف پانچ غلام، دو عورتیں اور حضرت ابوبکرؓ (آپؐ پر ایمان لائے تھے۔)
(تشریح)عبیداللہ بن سعید نے مجھے بتایا کہ ابواسامہ بن اسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر (بن کدام) نے ہمیں بتایا کہ معن بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے مسروق سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنوں کے متعلق جس رات کہ انہوں نے قرآن مجید سنا، کس نے اطلاع دی؟ تو انہوں نے کہا کہ تمہارے والد یعنی حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک درخت نے ان کے متعلق اطلاع دی تھی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن یحيٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے دادا (سعید بن عمرو) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپؐ کے وضو اور قضاءِ حاجت کے لئے چھاگل اٹھاکر لے جایا کرتے تھے۔ ایک بار وہ چھاگل اٹھائے ہوئے جارہے تھے کہ آپؐ نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں ابوہریرہؓ۔ آپؐ نے فرمایا کہ میرے لئے چند پتھر ڈھونڈ لاؤ، جن سے میں استنجا کروں۔ میرے لئے ہڈی نہ لانا اور نہ ہی لید۔ چنانچہ میں آپؐ کے پاس اپنے کپڑے کے کنارے میں چند پتھر اُٹھا لایا اور آپؐ کے پاس رکھ دیئے اور پھر میں ایک طرف ہٹ گیا۔ یہاں تک کہ جب آپؐ فارغ ہوئے تو میں آپؐ کے پاس آیا اور میں نے پوچھا: ہڈی اور لید میں کیا بات ہے؟ (کہ آپؐ نے ان کے لانے سے منع فرمایا ہے) آپؐ نے فرمایا کہ یہ دونوں جنّوں کی خوراک ہیں اور میرے پاس نصیبین کے جنّوں کے نمائندے آئے تھے وہ اچھے جِن تھے۔ انہوں نے مجھ سے زادِ راہ مانگا اور میں نے ان کے لئے اللہ سے یہ دعا کی کہ وہ جس ہڈی یا گوبر کے پاس سے بھی گزریں وہ ضرور اس میں اپنی خوراک پائیں۔
(تشریح)عمرو بن عباس نے مجھے بتایا کہ عبدالرحمٰن بن مہدی نے ہم سے بیان کیا کہ مثنیٰ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرہ سے، ابوجمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سےروایت کی۔ انہوں نے کہا: جب حضرت ابوذرؓ کو نبی کریم ﷺ کی بعثت کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی (اُنیس) سے کہا: اس وادی میں سوار ہوکر جاؤ اور میرے لئے اس شخص کے متعلق پتہ لو جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ اس کے پاس آسمان کی خبریں آتی ہیں۔ اس کی باتیں سن کر میرے پاس آؤ۔ ان کا بھائی روانہ ہوگیا۔ وادی مکہ میں پہنچا اور آپؐ کی باتیں سنیں اور پھر حضرت ابوذرؓ کے پاس واپس آیا اور کہا کہ میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ عمدہ اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور ایسا کلام سناتے ہیں جو شاعری ہرگز نہیں۔ حضرت ابوذرؓ نے کہا: میری خواہش تم نے اچھی طرح پوری نہیں کی جسے میں چاہتا تھا۔ چنانچہ پھر انہوں نے خود زادِ راہ لیا اور اپنی ایک پرانی مشک لے لی جس میں پانی تھا اور مکہ میں پہنچ کر مسجد میں آئے اور نبی ﷺ کو تلاش کیا۔ اور حضرت ابوذرؓ آپ کو نہیں پہچانتے تھے اور ناپسند کیا کہ کسی سے آپؐ کے متعلق پوچھیں۔ یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو حضرت علیؓ نے ان کو دیکھا اور انہوں نے پہچان لیا کہ یہ اجنبی ہے۔جب حضرت ابوذرؓ نے حضرت علیؓ کو دیکھا تو وہ ان کے پیچھے ہولئے اور ان دونوں میں سے کسی نے بھی اپنے ساتھی سے کسی بات کے متعلق نہ پوچھا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ پھر اس کے بعد حضرت ابوذرؓ اپنی مشک اور اپنا زادِ راہ اٹھا کر مسجدکو چلے گئے اور وہ سارا دن وہیں رہے اور نبی ﷺ نے بھی ان کو نہیں دیکھا۔ جب شام ہوئی حضرت ابوذرؓ اپنے لیٹنے کی جگہ میں چلے گئے۔ اتنے میں حضرت علیؓ ان کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے کہا: کیا ابھی تک اس شخص کو اپنے ٹھکانے کا بھی پتہ نہیں چلا۔ یہ کہہ کر حضرت علیؓ نے حضرت ابوذرؓ کو اٹھایا اوران کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی سے کسی بات کے متعلق بھی نہ پوچھتاتھا یہاں تک کہ جب تیسرا دن ہوا تو پھر حضرت علیؓ نے اسی طرح کیا ان کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اور حضرت ابوذرؓ ان کے ساتھ رہے۔ حضرت علیؓ نے کہاکہ کیا تم مجھے یہ نہیں بتاؤ گے کہ کیا بات تمہیں یہاں لائی ہے۔ حضرت ابوذرؓ نے کہا: اگر تم مجھ سے پکا عہد کرو کہ تم میری صحیح صحیح راہنمائی کروگے تو میں تمہیں بتلائے دیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے ان کی بات منظور کرلی۔ تب حضرت ابوذرؓ نے ان کو بتایا۔ حضرت علیؓ نے کہا: جو خبر تمہیں پہنچی ہے وہ سچی ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں ﷺ۔ جب صبح ہو تو میرے پیچھے ہو لینا۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات دیکھی جس سے مجھے تمہارے متعلق خوف ہوگا تو میں ٹھہر جاؤں گا جیسے کہ میں پیشاب کرنے لگا ہوں اور اگر میں چلتا رہوں تو تم میرے پیچھے پیچھے چلے آنا اور جہاں میں داخل ہوں وہاں داخل ہوجانا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ حضرت علیؓ نبی ﷺ کے پاس پہنچ گئے اور وہ بھی ان کے ساتھ اندر چلے گئے اور حضرت ابوذرؓ نے آپؐ کی باتیں سنیں اور وہیں مسلمان ہو گئے۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: اپنی قوم کے پاس واپس جاؤ اور ان کو بتاتے رہو یہاں تک کہ میرے متعلق جو امر الٰہی مقدر ہے اس کی خبر تمہیں پہنچ جائے۔ حضرت ابوذرؓ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں مشرکوں کے درمیان آپؐ کی رسالت کے متعلق چِلّا چِلّا کر اعلان کروں گا۔ یہ کہہ کر وہ نکل گئے اور مسجد میں آئے اور بلند آواز سے پکارا: میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو اتنا مارا کہ زمین پر ان کو لٹادیا۔ حضرت عباسؓ آئے اور حضرت ابوذرؓ کے اوپر اوندھے ہوگئے۔ انہوں نے کہا:تمہارا ستیاناس، کیا تم نہیں جانتے ہو یہ غفار قوم کا ہے اور تمہاری تجارت کا راستہ شام کو وہیں سے ہے؟ یہ کہہ کر حضرت عباسؓ نے حضرت ابوذرؓ کو ان سے چھڑالیا۔ پھر دوسرے دن حضرت ابوذرؓ نے ویسا ہی کیا، اس پر لوگوں نے ان کو پھر مارا اور ان کے خلاف بھڑک اٹھے اور حضرت عباسؓ ان پر اوندھے ہوگئے۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیلؓ سے کوفہ کی مسجد میں سنا۔ کہتے تھے: اللہ کی قسم میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ یہ حالت تھی کہ حضرت عمرؓ مجھے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے باندھا کرتے تھے پیشتر اس کے کہ حضرت عمرؓ خود مسلمان ہوئے اور جو کچھ تم نے حضرت عثمانؓ سے کیا اگر اس وجہ سے اُحد اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو بجا ہو گا۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا، کہا: عمر بن محمد نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میرے دادا زید بن عبداللہ بن عمر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی، کہتے تھے: ایک بار حضرت عمرؓ اپنے گھر میں خوفزدہ بیٹھے تھے کہ اتنے میں ابوعمرو عاص بن وائل سہمی آئے اور وہ ایک نقش دار چادر اور ایک ریشمی حاشیے دار قمیص پہنے ہوئے تھے اور وہ بنو سہم قبیلہ میں سے تھے جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ عاص نے (حضرت عمرؓ سے) کہا: تمہارا یہ کیا حال ہے؟ حضرت عمرؓ نے کہا: تمہاری قوم یہ خیال کرتی ہے کہ اگر میں مسلمان ہوگیا تو وہ مجھے مار ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا: تم تک کوئی نہیں پہنچ سکے گا۔ میں مطمئن ہوگیا جب عاص نے یہ بات کہی ۔ عاص چلے گئے اور لوگوں سے ملے اور یہ حالت تھی کہ وادی (مکہ) ان سے بہہ رہی تھی۔ (بھر پور تھی) عاص نے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس خطاب کے بیٹے کی طرف جارہے ہیں جو بے دین ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا: اس کے پاس نہیں جانا۔ یہ سن کر لوگ واپس ہوگئے۔
علی بن عبداللہ (المدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے عمرو بن دینار سے سنا۔ کہتے تھے: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو لوگ ان کے گھر کے پاس اکٹھے ہوگئے اور کہنے لگے: عمرؓ بے دین ہوگیا ہے۔ اس وقت میں لڑکا تھا۔ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس نے ریشمی چوغہ پہنا ہوا تھاوہ کہنے لگا: اگر عمرؓ نے اپنا دین بدل لیا ہے تو پھر کیا ہوا۔ میں اس کو پنا ہ دیتا ہوں۔ حضرت عبداللہؓ(بن عمر کہتے ہیں:) میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس پر حضرت عمرؓ کے گھر سے ہٹ گئے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: عاص بن وائل۔