بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
: یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ عمر (بن محمد بن زید) نے مجھ سے بیان کیا کہ سالم نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے ان کو بتایا، کہا: میں نے حضرت عمرؓ سے جس بات کے متعلق بھی کبھی یہ کہتے سنا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ یوں ہوگی تو وہ ضرور ویسی ہوتی۔ ایک بار حضرت عمرؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک خوبصورت شخص گزرا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میرا گمان یقیناً غلط ہوگا اگر یہ شخص اپنے اس دین پر نہ ہوا جس پر کہ جاہلیت میں تھا یا کہا کہ یہ شخص ان کا کاہن ہوا کرتا تھا۔ اس شخص کو میرے پاس لے آؤ۔ چنانچہ وہ اس کو بلا کر حضرت عمرؓ کے پاس لے آئے۔ حضرت عمرؓ نے اس کو وہی بات کہی تو اس نے کہا: میں نے کبھی ایسا دن نہیں دیکھا کہ جس میں کسی مسلمان شخص کو ایسی بات پیش آئی ہو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم نے مجھے ضرور ہی اپنا حال بتانا ہوگا۔ اس نے کہا کہ میں زمانہ جاہلیت میں ان کا کاہن ہوا کرتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: عجیب سے عجیب وہ بات بتا جو تمہاری جِنّی تمہارے پاس لائی ہو۔ اس نے کہا: ایک بار میں بازار میں تھا، وہ میرے پاس ایسی حالت میں آئی کہ میں نے اس میں گھبراہٹ معلوم کی، کہنے لگی کہ کیا تم نے جِنّوں کو نہیں دیکھا کہ ان کو دھتکار ا گیا ہے، وہ کس قدر پریشان اور مایوس ہیں اور اپنی اونٹنیوں اور پالانوں کے گدوں سے جاملے ہیں؟ حضرت عمرؓ نے کہا: سچ ہے ایک بار میں بھی ان کے بتوں کے پاس سویا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک شخص گائے کا بچھڑا لے کر آیا، اس نے اس کو ذبح کیا اور پھر ایک آواز دینے والے نے اس کو اس زور سے چلا کر کہا کہ میں نے کبھی کسی پکار نے والے کو نہیں سنا کہ جس کی آواز اس سے بڑھ کر ہو۔ وہ کہتا تھا: ارے بے حیا دشمن! بامراد کرنے والی ایک بات ہے، ایک خوش بیان شخص ہے جو لَا اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ کہہ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی لوگ جلدی سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ میں نے کہا: میں تو (اس جگہ سے) نہیں جانے کا جب تک کہ یہ نہ معلوم کرلوں یہ آواز کہاں سے آئی ہے۔ اس کے بعد پھر وہ پکارا: ارے بےحیا دشمن! بامراد کرنے والی بات ہے، ایک خوش بیان شخص ہے جو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ رہا ہے۔ یہ سن کر میں بھی کھڑا ہوگیا۔ ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ لوگ کہنے لگے کہ یہ نبی ہیں۔
عبداللہ بن عبد الوہاب نے مجھے بتایا کہ بشر بن مفضل نے ہم سے بیان کیا۔ سعید بن ابی عروبہ نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کی کہ اہل مکہ نے رسول اللہ
عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم نے ابومعمر سے، ابومعمر نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: چاند پھٹ گیا تھا۔
(تشریح)عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ (محمد بن میمون) نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے ابومعمر سے، ابومعمر نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: چاند پھٹا اور اس وقت ہم منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھے۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو گواہ رہو۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کی طرف گیا۔ ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: چاند مکہ میں پھٹا اور ابراہیم نخعی کی طرح محمد بن مسلم نے بھی ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے ابومعمر سے، ابومعمر نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے یہ حدیث روایت کی۔
عبداللہ بن محمد جعفی نے ہمیں بتایا کہ ہشام نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے کہ (انہوں نے کہا:) عروہ بن زبیر نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے ان کو بتایا کہ حضرت مِسور بن مخرمہؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوثؓ دونوں نے ان سے کہا: تم کو اپنے ماموں حضرت عثمانؓ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ کے بارے میں گفتگو کرنے سے کیا بات روک رہی ہے اور جو کچھ ولید نے کیا تھا اس کے متعلق لوگوں میں بہت کچھ چہ میگوئیاں ہورہی تھیں۔ عبیداللہ کہتے تھے: حضرت عثمانؓ جب نماز کے لئے نکلے، میں ان سے ملنے کیلئے کھڑا ہوا۔ میں نے ان سے کہا: مجھے آپ سے ایک کام ہے اور وہ ایک خیر خواہی ہے۔ حضرت عثمانؓ نے یہ سن کر کہا: بھلے آدمی میں تم سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ یہ سن کر میں واپس آگیا۔ جب میں نماز پڑھ چکا تو میں مِسْور اور ابن عبدیغوث کے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے انہیں بتایا جو کچھ کہ میں نے حضرت عثمانؓ سے کہا اور حضرت عثمانؓ نے جو مجھےکہا۔ ان دونوں نے کہا: جو فرض تمہارے ذمہ تھا وہ تم ادا کر چکے۔ ابھی میں ان کے پاس بیٹھا ہوا ہی تھا کہ اتنے میں حضرت عثمانؓ کا ایلچی میرے پاس آیا۔ ان دونوں نے مجھے کہا: اللہ نے تمہیں آزمایا ہے۔ میں چل پڑا اور حضرت عثمانؓ کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا: تمہاری وہ خیر خواہی کی بات کیا ہے جس کا تم نے ابھی ذکر کیا تھا؟ عبیداللہ کہتے تھے: میں نے کلمہ شہادت پڑھ کر کہا: دیکھو! اللہ نے محمد ﷺ کو مبعوث کیا اور ان پر کتاب اتاری اور آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں کو قبول کیا اور اللہ پر ایمان لائے اور آپ نے پہلی دو ہجرتیں کیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے اور آپؐ کی راست روی کا مشاہدہ کیا۔ بات یہ ہے کہ لوگ ولید بن عقبہ کے معاملہ میں بہت کچھ کہہ چکے ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ اس کو شرعی سزا دیں۔ حضرت عثمانؓ نے یہ سن کر مجھ سے کہا: میرے بھتیجے! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا ہے؟ عبیداللہ کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں، مگر مجھے آنحضرت ﷺ کے علم سے وہ کچھ پہنچ چکا ہے جو ایک کنواری کو بھی اس کے پردے میں معلوم ہو چکا ہے۔ عبیداللہ کہتے تھے: تب حضرت عثمانؓ نے کلمہ شہادت پڑھا اور کہا: بے شک اللہ نے محمد ﷺ کو برحق مبعوث کیا اور ان پر کتاب اتاری اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو قبول کیا اور جو دین محمد ﷺ کو دے کر بھیجا گیااس پر میں ایمان لایا اور جیسا تم نے کہا ہے، میں نے پہلی دو ہجرتیں بھی کیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا اور آپ کی بیعت کی اور بخدا میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ آپ سے کوئی دغا کیا۔ یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت ابوبکرؓکو خلیفہ بنایا۔ بخدا میں نے ان کی بھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان سے کوئی دغا کیا۔ پھر اس کے بعد حضرت عمرؓ کو خلیفہ بنایا گیا۔ بخدا میں نے ان کی بھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان سے دغا کیا۔ اس کے بعد مجھے خلیفہ بنایا گیا۔ پھر کیا تم پر میری (اطاعت) ایسی ضروری نہیں جیسے ان کی مجھ پر تھی؟ عبیداللہ نے کہا: کیوں نہیں؟ حضرت عثمانؓ نے فرمایا: تو پھر یہ کیا باتیں ہیں جو تمہارے متعلق مجھے پہنچتی ہیں اور وہ بات جو تم نے ولید بن عقبہ کے متعلق ذکر کی ہے اس کے متعلق جو واجب ہے وہ ہم انشاء اللہ ضرور کریں گے۔ عبیداللہ کہتے تھے: چنانچہ حضرت عثمانؓ نے ولید کو چالیس کوڑے لگوائے اور حضرت علیؓ کو اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا اور وہی اس کو کوڑے مار رہے تھے۔ یونس اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ روایت کئے: پھر کیا میرا تم پر ویسا حق نہیں جیسا ان کا تھا۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ سے مراد وہ (معاملہ) ہے جس سے تم شدید آزمائے گئے۔ اور لفظ اَلْبَلَاءُ آزمائش میں ڈالنے اور خالص بنانے کے معانی میں بھی آیا ہے۔ مَنْ بَلَوْتُہُ وَمَحَّـصْتُہُ کے معنی ہیں کہ جو کچھ اس کے اندر تھا میں نےاسے باہر نکال لیا۔ یَبْلُوْ کے معانی ہیں وہ جانچتا ہے۔ مُبْتَلِیْکُمْ کے معانی ہیں تمہیں آزمانے والا۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول بَلَاءٌ عَظِیْمٌ نعماء سے متعلق ہے اور یہ أَبْلَیْتُہُ سے ہے۔اور وہ (یعنی لفظ ابتلاء) اِبْتَلَیْتُہُ سے ہے۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ حضرت امّ حبیبہؓ اور حضرت امّ سلمہؓ نے ایک گرجا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔ اس میں تصویریں تھیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: (اہل کتاب) لوگوں کا یہ طریق تھا کہ جب ان میں سے کوئی نیک شخص وفات پا جاتا تو اس کی قبر پر عبادت خانہ بنا دیتے اور اس میں ایسی تصویریں بناتے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن ساری مخلوقات سے بد ترین ہوں گے۔
حمیدی نے ہم سے کہا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن سعید سعیدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت امّ خالدؓ بنت خالد سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں حبشیوں کے ملک سے آئی تو اس وقت میں کم عمر بچی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نقش دار چادر اُڑھائی۔ اس پر بیل بوٹے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان بیل بوٹوں پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگے اور یہ فرماتے تھے: سناہ، سناہ ! حمیدی نے کہا: اس کے معنی ہیں: یہ بہت ہی خوبصورت ہے۔
یحيٰ بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان (اعمش) سے، سلیمان نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کو ہم السلام علیکم کہتے جبکہ آپؐ نماز پڑھ رہے ہوتے آپؐ ہمیں جواب دیتے۔ جب ہم نجاشی سے لوٹے ہم نے آپؐ کو السلام علیکم کہا تو آپؐ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپؐ کو السلام علیکم کہا کرتے تھے اور آپؐ ہمیں جواب دیا کرتے تھے آپؐ نے فرمایا: نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔ (اعمش کہتے تھے:) میں نے ابراہیم (نخعی) سے پوچھا: آپ کس طرح کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں اپنے دل میں ہی جواب دے دیا کرتا ہوں۔