بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
احمد بن ابی رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ نضر (بن شمیل) نے ہمیں بتایا، ہشام (بن عروہ) سے روایت ہے کہ اُنہوں نے کہا: میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ اُن کے والد(حضرت ابوبکرؓ) اپنی کوئی قسم نہیں توڑتے تھے ، آخر جب اللہ نے قسم کے کفارے کی بابت حکم نازل کیا تو حضرت ابوبکرؓ فرمانے لگے: میں جب بھی کوئی ایسی قسم دیکھوں کہ اس کے سوا (دوسری قسم) میری سمجھ میں اس سے بہتر ہو تو ضرور اللہ کی اجازت کو قبول کرتا ہوں اور وہی بات کرتا ہوں جو بہتر ہوتی ہے۔
(تشریح)اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن بِشر نے ہمیں خبردی کہ عبدالعزیز بن عمر بن عبدالعزیز نے ہم سے بیان کیا، اُنہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔اُنہوں نے کہا: جب شراب کی حرمت کے بارے میں حکم نازل ہوا تو مدینہ میں اس وقت پانچ قسم کی شرابیں تھیں، ان میں انگور کی شراب نہ تھی۔
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے حضرت جابرؓ سے روایت کی، اُنہوں نے کہا: جنگ اُحد کے دن کچھ لوگوں نے صبح شراب پی اور اس دن وہ سب کے سب شہید ہوکر مارے گئے اور یہ واقعہ شراب کی حرمت سے پہلے کا ہے۔
عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (بن عبداللہ الطحان) نے ہمیں بتایا،اُنہوں نے اسماعیل(بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے، قیس نے حضرت عبداللہ (بن مسعو د) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں نکلا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہ ہوتیں۔ ہم نے کہا:کیا ہم اپنے تئیں خَصّی نہ کرڈالیں، تو آپؐ نے ہمیں اس سے روکا۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے ہم کو اجازت دی کہ ہم کپڑا دے کر کسی عورت سے شادی کرلیں اور یہ آیت پڑھی: اے ایماندارو! جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے اُس میں سے پاکیزہ (چیزوں)کو حرام نہ ٹھہراؤ۔
(تشریح)یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عُلَیَّہ (اسماعیل بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن صہیب نے ہم سے بیان کیا، اُنہوں نے کہا:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:ہمارے پاس کوئی شراب نہ ہوتی تھی سوائے اس تمہاری فضیخ (کھجور کی شراب) کے، یہی شراب جس کو تم فضیخ کہتے ہو، میں ایک دفعہ کھڑا ابوطلحہؓ اور فلاں فلاں کو شراب پلا رہا تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور اُس نے کہا: کیا تمہیں خبر پہنچی ہے؟ وہ کہنے لگے،کیا خبر؟ اس نے کہا: شراب حرام کی گئی ہے۔ وہ لوگ کہنے لگے: انسؓ! یہ مٹکے اُنڈیل دو۔ کہتے تھے: پھر اُنہوں نے اُس شخص کے خبر دینے کے بعد نہ اُس شراب سے متعلق پوچھا اور نہ اُس کو دوبارہ پیا۔
اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ اور (عبداللہ) بن ادریس نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوحیان سے،ابوحیان نے (عامر) شعبی سے،شعبی نے (حضرت عبداللہ) بن عمؓر سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس وقت سنا، جبکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر تھے۔ آپؓ فرمارہے تھے : اَمَّا بعد، اے لوگو ! دیکھو شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا اور وہ پانچ چیزوں کی ہوتی ہے۔ انگور کی، کھجور کی، شہد کی، گندم کی اور جَو کی اور شراب وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے۔
(تشریح)ابونعمان (محمد بن فضل )نے ہمیں بتایا کہ حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا کہ ثابت نے ہمیں بتایا:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ شراب جو انڈیلی گئی تھی،فضیخ تھی۔ اور محمد (بن سلام) بیکندی نے ابونعمان سے روایت کرتے ہوئے مجھے یہ زائد بات بتائی، (حضرت انسؓ نے) کہا: میں ابوطلحہؓ کے گھر میں لوگوں کا ساقی تھا۔شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو آپؐ نے ایک منادی سے فرمایا جس نے منادی کی۔ ابوطلحہؓ نے سن کر کہا، باہرجاؤ اور دیکھو کہ یہ کیا آواز ہے؟انسؓ کہتے تھے: میں نکلا اور میں نے کہا:یہ منادی ہے، جو پکار رہا ہے۔ سنو شراب حرام کی گئی ہے۔ ابوطلحہؓ نے مجھ سے کہا:جاؤ اور اس شراب کو اُنڈیل دو،کہتے تھے: شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی۔ کہتے تھے: اُن کی شراب اُن دنوں فضیخ تھی۔ بعض لوگوں نےکہا: کچھ لوگ شہید ہوئے جبکہ یہ (شراب) اُن کے پیٹوں میں تھی، کہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور (نیز) اُنہوں نے نیک کام کیے ہیں توجو کچھ (بھی )وہ کھائیں اُس پر اُنہیں کوئی گناہ نہیں( ہو گا۔)
(تشریح)منذر بن ولید بن عبدالرحمٰن جارودی نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے موسیٰ بن انس سے، موسیٰ نےحضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا خطاب فرمایا کہ میں نے ویسا خطاب کبھی نہیں سنا ۔ آپؐ نے فرمایا:اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں ،تم ہنستے تھوڑا اور روتے بہت۔ اُنہوں نے کہا: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا۔ اُن کے رونے کی آواز سنائی دی۔ ایک شخص نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تمہارا باپ فلاں ہے۔پھر یہ آیت نازل ہوئی:اے مومنو! (اُن) باتوں کے متعلق سوال نہ (کیا ) کرو (جو) اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہارے لیے تکلیف کا موجب بن جائیں نضر (بن شمیل) اور روح بن عبادہ نے بھی شعبہ سے یہ روایت نقل کی۔
فضل بن سہل (بغدادی) نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ابو نضر نے ہمیں بتایا کہ ابو خیثمہ نے ہم سے بیا ن کیا کہ ابو الجویریہ نے ہمیں بتایا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اُنہوں نے کہا: کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے بعض باتیں استہزاء کے طور پر پوچھا کرتے تھے۔ کوئی شخص کہتا: میرا باپ کون ہے؟ اور کوئی شخص جس کی اونٹنی گم ہوئی ہوتی، کہتا: میری اونٹنی کہاں ہے؟ تب اللہ نے اُن کے متعلق یہ آیت نازل کی :اے مومنو! (ان )باتوں کے متعلق سوال نہ (کیا ) کرو (جو) اگر تم پر ظاہرکر دی جائیں تو تمہارے لیے تکلیف کا موجب بن جائیں۔ یہاں تک کہ آپؐ نے پوری آیت تلاوت کی۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بحیرہ وہ (دودھیل جانور) ہے جس کا دودھ معبودانِ باطلہ کے لئے روک لیا جائے اور لوگوں میں سے کوئی بھی اس کو نہ دوہے اور سائبہ وہ جانور ہے جس کو مشرک اپنے معبودوں کی خاطر چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اس پر کچھ نہ لادا جاتا۔ سعید کہتے تھے:اور حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہے۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے سائبہ جانور چھوڑے تھے اور وصیلہ وہ باکرہ اونٹنی ہے جو پہلا مادہ بچہ جنے پھر اس کے بعد دوبارہ مادہ جنے اور وہ ایسی اونٹنیاں بھی اپنے معبودانِ باطلہ کے لئے چھوڑ دیا کرتے تھے، جب وہ یکے بعد دیگرے دو مادہ بچے جنے جن کے درمیان کوئی نر نہ ہو اور حام وہ نر اونٹ ہے جو مادہ پر چند گنتی کی جستیں کرتا۔ جب وہ اپنی جستیں کرچکتا تو اس کو معبودانِ باطلہ کے لئے چھوڑ دیتے اور اس کو باربرداری سے مستثنیٰ کردیتے ۔ پھر اس پر کچھ نہ لادا جاتا اور اس کا نام حام رکھا جاتا۔ اور ابوالیمان نے مجھ سے کہا: شعیب نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ میں نے سعید (بن مسیب)سے سنا، وہ ان سے یہی بات بیان کرتے تھے۔ سعید نے کہا: اور حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا۔ (یعنی عمروبن عامر کا واقعہ) اور (یزید بن عبداللہ) بن الہادنے بھی اِسے روایت کیا ہے۔ انہوں نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے سعید سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے یہ نقل کیاہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔