بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
محمد بن ابی یعقوب ابوعبداللہ کرمانی نے مجھے بتایاکہ حسان بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یونس نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے زُہری سے، زہری نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو بھسم کررہا تھا اور میں نے عمرو (بن عامر) کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا اور وہ پہلا شخص ہے جس نے سائبہ بنانے کی رسم جاری کی ۔
(تشریح)آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ سعد بن ابراہیم نے ہم کو خبر دی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے سنا۔ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کسی بندے کو نہیں چاہیئے کہ وہ یوں کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ مغیرہ بن نعمان نے ہمیں خبردی، اُنہوں نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: اے لوگو ! تم اللہ کے پاس اکٹھے کئے جاؤ گےننگے پاؤں، ننگے بدن ، بے ختنہ۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: جیسے ہم نے پہلی پیدائش کو شروع کیا اسی طرح ہم اس کو دوبارہ پیدا کریں گے۔ ہمارے ذمہ یہ ایک وعدہ ہے۔ ہم ضرور ایسا کرنے والے ہیں۔ یہ آیت پڑھ کر آپؐ نے فرمایا: سنو! تمام مخلوقات میں سےقیامت کے دن جس کو پہلے پہل لباسپہنایا جائے گا وہ ابراہیمؑ ہیں۔ سنو ! اورمیری امت میں سے کچھ آدمی لائے جائیں گے، پھر انہیں بائیں جانب لے جائیں گے۔ اس وقت میں کہوں گا: اے میرے ربّ! یہ تو میرے ساتھی ہیں،(یہ تو میرے ساتھی ہیں ۔) جواب دیا جائے گا: تو نہیں جانتا کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کیا نئی باتیں کیں، تو میں اسی طرح کہوں گا جس طرح اس نیک بندے نے کہا تھا: اور میں ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان میں رہا جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تُو ہی ان کا دیکھنے بھالنے والا تھا۔ اِس پر جواب دیا جائے گا:یہ لوگ تو جب سے تُو ان سے جدا ہوا،اپنی ایڑیوں کے بل پھرےرہے ۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا، سفیان نے ہمیں بتایا کہ مغیرہ بن نعمان نے ہم سے بیان کیا کہا: سعید بن جبیر نے مجھے بتایا: اُنہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے،حضرت ابن عباس ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپؐ نے فرمایا: تم اکٹھے کئے جاؤ گے اور بعض لوگوں کو پکڑ کر بائیں جانب لے جائیں گے اور میں اسی طرح کہوں گا جس طرح اُس نیک بندے نے کہا تھا: اور جب تک میں ان میں (موجود) رہا، میں ان کا نگران رہا،مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تُو ہی اُن پر نگران تھا (میں نہ تھا) اور تو ہر چیز پر نگران ہے ۔ اگر تو اُنہیں عذاب دینا چاہےتو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو اُنہیں بخشنا چاہے تو تُو بہت غالب (اور) بڑی حکمتوں والا (خدا) ہے ۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے، اُنہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیب کی چابیاں پانچ ہیں (اور یہ آیت پڑھی:) قیامت (یا کسی قوم کے آخری فیصلہ) کا علم اللہ ہی کو ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور رحموں میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا عمل کرے گا۔ اور نہ کوئی شخص جانتا ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ اللہ ہی یقیناً جاننے والا (اور) خبر رکھنے والا ہے۔
(تشریح)۴۶۲۸: ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے حضرت جابر (بن عبداللہ انصاری) ؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب آیت قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا …نازل ہوئی، رسول اللہ ﷺ نے کہا: میں تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں۔ پھر اللہ نے فرمایا:اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ. آپؐ نے کہا: میں تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں۔ (اللہ نے پھر فرمایا:) اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّ يُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ (اس سے) ہلکا ہے یا فرمایا یہ (اس سے) آسان ہے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ (بن حجاج) سے، شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے، سلیمان نے ابراہیم (نخعی) سے، اُنہوں نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) ؓسے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب آیت وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ نازل ہوئی۔ آپؐ کے صحابہ نے کہا: اور ہم میں سے کون ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو؟ تب یہ آیت نازل ہوئی: اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌشرک بہت بڑا گناہ ہے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔ (عبدالرحمٰن) بن مہدی نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالعالیہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: تمہارے نبی کے چچا زاد بھائی یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کسی بندے کو نہیں چاہیئے کہ وہ یوں کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا۔ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے اُنہیں خبردی، کہا: سلیمان احول نے مجھ سے بیان کیا کہ مجاہد نے اُن کو بتایا کہ اُنہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا: کیا سورۃ صٓ میں سجدہ ہے؟ اُنہوں نے کہا: ہاں، یہ کہہ کر اُنہوں نے یہ آیت پڑھی:وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ … فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ۔ پھر اُنہوں نے کہا: حضرت داؤدؑ بھی اُنہیں میں سے ہیں۔ یزید بن ہارون، محمد بن عبید اور سہل بن یوسف نے عوام (بن حوشب) سے، عوام نے مجاہد سے روایت کرتے ہوئے یہ زائد بیان کیا۔ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا: تو اُنہوں نے کہا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُنہی لوگوں میں سے ہیں جن کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے۔
(تشریح)عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا کہ یزید بن ابی حبیب سے روایت ہے کہ عطاء (بن ابی رباح) نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپؐ نے فرمایا: اللہ اِن یہودیوں کو ہلاک کرے جب اللہ نے اُن پر ان جانوروں کی چربیاں حرام کیں تو اُنہوں نے اُن چربیوں کو گلا یا اور اُن کو بیچا اور اِس طرح اُن کو کھایا۔ او ر ابوعاصم (نبیل) نے اِس سند کو یوں نقل کیا، کہا: عبدالحمید(بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا کہ یزید (بن ابی حبیب) نے ہمیں بتایا: عطاء نے مجھ کو یہ لکھا کہ میں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ وہ نبیﷺ سے روایت کرتے تھے۔
(تشریح)