بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں بتایا۔ عبدالوہاب بن عبدالمجید نے ہم سے بیان کیا کہ( عبداللہ) بن عون نے ہمیں بتایا، قاسم (بن محمد بن ابی بکر) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓنے حضرت عائشہؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور پھر اُنہوں نے یہی بات بیان کی (جو اوپر گزر چکی ہے) مگر اُنہوں نے بھولی بسری کے الفاظ ذکر نہیں کئے
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: حسان بن ثابتؓ آئے ان کے پاس آنے کی اجازت مانگنے لگے (مسروق کہتے تھے کہ) میں نے کہا: کیا آپؓ اُنہیں اجازت دیں گی؟ فرمانے لگیں: کیا اُنہیں بڑا عذاب پہنچ نہیں گیا؟ سفیان کہتے تھے: (حضرت عائشہؓ کی( اس سے مراد حسانؓ کی بینائی کا چلا جانا تھا (حسان کو اجازت دی گئی) اُنہوں نےآ کر شعر پڑھے (جن میں سے ایک شعر یہ ہے:) یعنی نہایت پاکدامن ہیں، نہایت باوقار ہیں کسی عیب کا بھی شبہ اُن پر نہیں جاتا اور بے خبر عورتوں کے گوشت سے بھوکی رہتی ہیں (یعنی غیبت نہیں کرتیں) (یہ شعر سن کر حضرت عائشہؓ) فرمانے لگیں: مگر آپ تو ایسے نہیں ۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔ ابوعدی کے بیٹے نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: حضرت حسان بن ثابتؓ حضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور ان کی تعریف میں شعر کہے اور کہا: نہایت پاکدامن ہیں، نہایت باوقار ہیں کسی عیب کا بھی شبہ ان پر نہیں جاتا اور بے خبر عورتوں کے گوشت سے بھوکی رہتی ہیں (یعنی غیبت نہیں کرتیں)حضرت عائشہؓ نے (یہ شعر سن کر) فرمایا: آپ تو ایسے نہیں۔ میں نے کہا: آپ ایسے شخص کو اپنے پاس آنے دیتی ہیں بحالیکہ اللہ نے یہ وحی نازل کی ہے: یعنی اور وہ شخص جس نے اُن میں سے اس بہتان میں بڑا حصہ لیا ۔فرمانے لگیں:اور اندھا پن سے زیادہ سخت اور کیا سزا ہو گی اور فرمایا کہ یہ (حسانؓ) رسول اللہ ﷺ کی طرف سے (کفار کو) جواب دیا کرتے تھے۔
(تشریح)اور ابواُسامہ نے کہا: ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔ فرماتی تھیں: جب میری بابت چہ میگوئیاں ہوئیں اور مجھے اس کا علم بھی نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ میری نسبت (لوگوں سے) خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور آپؐ نے کلمۂ شہادت پڑھا اور پھر اللہ کی وہ حمد و ثنا کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اما بعد ایسے لوگوں کے بارہ میں مجھے مشورہ دو جنہوں نے میری بیوی پر تہمت لگائی ہے، اور اللہ کی قسم مجھے اپنی بیوی کی نسبت کسی بُری بات کا علم نہیں اور ان لوگوں نے ایسے شخص سے متعلق اتہام باندھا ہے کہ جس کی بابت بخدا مجھے کبھی کوئی بُری بات معلوم نہیں ہوئی اوروہ میرے گھر میں کبھی داخل نہیں ہوا مگر اس وقت کہ میں موجود ہوتا اور جب بھی میں کسی سفر میں گیا ہوں وہ میرے ساتھ ضرور جاتا۔یہ سن کر حضرت سعد بن معاذؓ کھڑے ہوگئے اور اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ ہم ان کی گردنیں اُڑا دیں۔ اور بنوخزرج میں سے ایک شخص اُٹھا، اور حسان بن ثابتؓ کی ماں اس شخص کی قوم میں سے تھی۔ وہ (حضرت سعدؓ سے) کہنے لگا: تم نے غلط کہا ہے۔ دیکھو اللہ کی قسم! اگروہ لوگ اوس میں سے ہوتے تو تم کبھی پسند نہ کرتے کہ اُن کی گردنیں اُڑائی جائیں۔ غرض (اس تو تو مَیں مَیں میں) نوبت یہاں تک پہنچی کہ قریب تھا کہ مسجد میں ہی بنی اوس اور بنی خزرج کی آپس میں لڑائی ہو جاتی (حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں)اور مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ جب اس دن شام ہوئی میں اپنی کسی حاجت کے لئے باہر گئی اور میرے ساتھ مسطح کی ماں تھی اس نے ٹھوکر کھائی اور کہنے لگی: مسطح کا ستیا ناس ہو۔ میں نے کہا: اماں تم اپنے بیٹے کو بُرا بھلا کہتی ہو۔اس پر وہ خاموش ہو گئی پھر اس نے دوسری بار ٹھوکر کھائی اور کہنے لگی: مسطح کا ستیاناس ہو،میں نے اُس سے کہا: اماں تم اپنے بیٹے کو بُرا بھلا کہتی ہو۔پھر اس نے تیسری بار ٹھوکر کھا ئی اور کہنے لگی: مسطح کا ستیا ناس ہو۔میں نے اسے جھڑ کا۔ وہ کہنے لگی: بخدا میں تمہاری ہی وجہ سے اس کو گالی دیتی ہوں۔ میں نے پوچھا: میرے لئے کس وجہ سے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: مسطح کی ماں نے سارا قصہ مجھ سے کھول کر بیان کیا۔ میں نے کہا: کیا حقیقت میں یہ بات ہوئی ہے؟ کہنے لگی: ہاں، اللہ کی قسم۔ یہ سن کر میں اپنے گھر کو واپس ہوگئی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جس ضرورت کے لئے میں نکلی تھی وہ مجھے بالکل نہ رہی نہ تھوڑی نہ بہت اور مجھے بخار ہو گیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: مجھے میرے باپ کے گھر میں بھیج دیں۔ آپؐ نے میرے ساتھ ایک لڑکا بھیجا۔میں گھر میں داخل ہوئی اور میں نے اُم رومان کو (مکان کے) نچلے حصے میں پایا اور حضرت ابو بکرؓ اس وقت گھر کے بالا خانہ میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ میری ماں بولی: بیٹی کیسے آئی ہو؟ میں نے اُنہیں بتایا اور وہ قصہ ان سے ذکر کیا، کیا دیکھتی ہوں کہ اس بات نے انہیں اتنی تکلیف نہ دی جتنی کہ مجھے اس سے تکلیف ہوئی تھی۔ وہ کہنے لگیں: بیٹی!یہ بات معمولی سمجھو، پرواہ نہ کرو۔ کیونکہ اللہ کی قسم کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کوئی خوبصورت عورت کسی شخص کے پاس ہو جس سے وہ مَحبت رکھتا ہو اس کی سوکنیں بھی ہوں مگر وہ اس سے حسد نہ کرتی ہوں اور اس کے متعلق باتیں نہ بنائی گئی ہوں ۔ مجھے تعجب ہوا کہ اس بات نے اُن پر اتنا اثر نہیں کیا جتنا کہ مجھ پر کیا تھا۔ میں نے کہا: کیا میرے باپ کو بھی اس بات کا علم ہو چکا ہے؟ اُنہوں نےکہا: ہاں۔ میں نے کہا: اور رسول اللہ ﷺ کو بھی؟ اُنہوں نے کہا: ہاں رسول اللہ ﷺ کو بھی۔میرے آنسو جاری ہو گئے اور میں رونے لگی۔حضرت ابوبکرؓ نے میری آواز سنی اور وہ گھر کے بالا خانہ میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ سن کر وہ اُترے اور میری ماں سے کہا: اسے کیا ہوا ہے؟ بولیں: جو اس کی نسبت چرچا ہوا ہے اس کی خبر اس کو پہنچ گئی ہے۔ تو حضرت ابو بکرؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ کہنے لگے: بیٹی! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ضرور اپنے گھر کو لوٹ جاؤ۔ میں لوٹ گئی اور رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں آئے اور میری خادمہ سے میری بابت پوچھا۔ اس نے کہا: ہرگز نہیں،اللہ کی قسم! مجھے اس کے کسی عیب کا علم نہیں ہوا سوا اس کے کہ وہ سو جایا کرتی ہے اور بکری آکر اس کا خمیر یا آٹا کھا جاتی ہے اور آپؐ کے صحابہ میں سے کسی نے اس خادمہ کو ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ ﷺ سے سچ سچ بیان کرو۔ یہاں تک کہ اس وجہ سے اس کے لئے بھی آفات بکنے لگے۔ وہ کہنے لگی:اللہ ہی کی ذات پاک ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے اس (حضرت عائشہؓ) میں کوئی عیب معلوم نہیں ہوا مگر اتنا ہی جو سنار خالص کندن کئے ہوئے سونے میں جانتا ہے اور یہ بات اس شخص کو بھی پہنچی کہ جس کی نسبت کہی گئی تھی۔ وہ سن کر کہنے لگا: اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک ہے۔بخدا! میں نے کبھی کسی عورت کا پہلو ننگا نہیں کیا۔حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں:اور وہ اللہ کی راہ میں شہیدہوا۔انہوں نے کہا: اور میرے ماں باپ میرے پاس صبح آئے اور وہیں رہے۔یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے۔ آپؐ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے اور اس کے بعد آئے اور میرے ماں باپ میرے دونوں طرف دائیں بائیں بیٹھے تھے۔ آپؐ نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور پھر فرمایا: اما بعد! عائشہؓ اگر تو نے کسی بُرائی کا ارتکاب کیا ہے یا فرمایا: تو نے کوئی گناہ کر لیا ہے تو اللہ کی طرف رجوع کرو کیونکہ اللہ اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے۔ کہتی تھیں: اس وقت ایک انصاری عورت بھی آ گئی تھی اور وہ دروازے پر بیٹھی تھی۔ میں نے کہا:کیا آپؐ اس عورت سے نہیں شرماتے کہ ایسی بات کا ذکر کر رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے وعظ و نصیحت کی ۔ میں نے اپنے باپ کی طرف مڑکر دیکھا اور (ان سے) کہا: آپؓ انہیں جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کیا کہوں؟ پھر میں اپنی ماں کی طرف متوجہ ہوئی اور میں نے کہا: اُنہیں جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کیا جواب دوں؟ جب اُنہوں نے آپؐ کو جواب نہ دیا تو میں نے کلمۂ شہادت پڑھا اور اللہ کی وہ حمد و ثنا کی جس کا وہ حق دار ہے اور میں نے کہا: اما بعد اللہ کی قسم ! اگر میں آپ سے کہوں کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اور اللہ عزوجل شاہد ہے کہ میں یقیناً سچی ہوں تو میری یہ بات آپ کے نزدیک مجھے کوئی نفع دینے کی نہیں۔ آپ نے جو کہنا تھا کہہ ہی دیا ہے۔ آپ کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے اور اگر میں کہوں کہ میں نے کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں نے نہیں کیا تو آپ ضرور کہیں گے کہ اس نے اپنے متعلق اقرار کرلیا ہے اور بخدا میں اپنی اور آپ کی مثال سوا اس کے نہیں پاتی اور میں نے حضرت یعقوبؑ کا نام یاد کرنے کی کوشش کی مگر یاد نہ کرسکی آخر میں نے کہا: سوائے حضرت یوسفؑ کے باپ کے جب انہوں نے کہا تھا: صبر کرنا ہی اچھا ہے۔اور اللہ ہی سے مدد مانگی جائے اس بات میں جو تم بیان کر رہے ہو اور رسول اللہ ﷺ پر اسی گھڑی وحی نازلہونا شروع ہوئی اور ہم خاموش ہوگئے۔ جب آپؐ سے وحی کی حالت جاتی رہی اور میں آپؐ کے چہرے پر خوشی دیکھ رہی تھی اور آپؐ اپنی پیشانی پونچھ رہے تھے اور یہ فرمانے لگے: عائشہؓ! تمہیں بشارت ہو اللہ نے تمہاری بریت نازل کر دی ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں اور میں نہایت ہی غصے میں تھی جو کبھی ہوئی۔ میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا: اٹھ کر آنحضرت ﷺ کے پاس جاؤ (اور شکریہ ادا کرو) میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کے پاس اٹھ کر نہیں جاؤں گی۔ اور نہ ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور نہ تمہارا شکریہ لیکن میں اس اللہ کی شکر گزار ہوں جس نے میری بریت نازل کی۔ تم نے ایسی بات سنی اور اس کا انکار نہیں کیا اور نہ اس کے خلاف کہا اور حضرت عائشہؓ کہا کرتی تھیں: زینب بنت جحشؓ (رسول اللہ ﷺ کی زوجہ) جو تھیں اللہ نے ان کو دینداری کی وجہ سے بچالیا اور اُنہوں نے سوا بھلی بات کے اور کچھ نہیں کہا اور جو اُن کی بہن حمنہ تھیں وہ ہلاک ہو گئی اُن لوگوں کے ساتھ جو ہلاک ہوئے اور جو اس بات کا چرچا کرتے تھے، وہ مسطح، حسان بن ثابت اور منافق عبداللہ بن اُبَيّ تھے۔ اور یہ عبداللہ ہی وہ شخص تھا جو اس واقعہ کی نسبت کُرید کُرید کر پوچھا اور اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے اس واقعہ کو بناتا تھا اور چرچا کرنے والے لوگوں میں سے اسی شخص نے اس بات میں بڑا حصہ لیا اور حمنہ بھی باتیں کرتی تھیں۔حضرت عائشہ ؓ نے کہا: حضرت ابوبکرؓ نے قسم کھائی کہ وہ مسطح کو کبھی بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ اس لئے اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل کی: وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ: اور تم میں سے فضل اور کشائش والے رشتہ داروں اور مسکینوں سے نیک سلوک کرنے میں کوتاہی نہ کریں…۔ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ سے مراد حضرت ابوبکرؓ ہیں اور اُولِي الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِيْنَ سے مسطح مراد ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس قول تک کہ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں پردہ پوشی سے نوازے اور اللہ بہت ہی پردہ پوش اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ آخر حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیت سن کر کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم ! اے ہمارے ربّ! ہم ضرور پسند کرتے ہیں کہ تو پردہ پوشی فرما کر ہم سے درگزر کر اور حضرت ابوبکرؓ نے جو احسان مسطح پر کیا کرتے تھے وہ دوبارہ شروع کردیا (یعنی وہ وظیفہ خوراک وغیرہ جو وہ اسے دیا کرتے تھے۔ )
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا۔ یونس بن محمد بغدادی نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان(بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نےقتادہ سے روایت کی، (قتادہ نے کہا:) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیاکہ ایک شخص نے کہا:یا نبی اللہ! کیا روز قیامت کافر اپنے منہ کے بل لے جایا جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا: کیا وہ جس نے اس کو دنیا میں ٹانگوں پر چلایا ہے قادر نہیں ہے کہ قیامت کے روز اسے منہ کے بل چلائے۔ قتادہ نے کہا: کیوں نہیں ضرور (وہ قادر ہے) ہمارے رب کی عزت کی قسم ۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: منصور (بن معتمر)اور سلیمان (اعمش) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے ابومیسرہ (عمرو بن شرحبیل) سے، ابومیسرہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ (دوسری سند میں سفیان ثوری نے) کہا اور واصل (بن حیان اسدی کوفی) نے بھی مجھے بتایا۔ انہوں نے ابووائل (شقیق بن سلمہ) سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے پوچھا یا (کہا کہ) رسول اللہﷺسے پوچھا گیا: اللہ کے نزدیک کونسا گناہ بہت بڑا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کا شریک بناؤ بحالیکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا ؟ آپؐ نے فرمایا: پھر یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مارڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے پوچھا: پھر (اس کے بعد) کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے تھے کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے قول کی تصدیق میں نازل ہوئی ہے: اور وہ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی جان کو جسے اللہ نے حفاظت بخشی ہو قتل کرتے ہیں سوائے (شرعی) حق کے۔ اور نہ زنا کرتے ہیں۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ان کو خبردی، کہا: قاسم بن ابی بزہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ کیا اس شخص کی بھی کوئی توبہ ہے جس نے مومن کو عمداً مارڈالا۔ میں نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ تو سعید نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ کے سامنے یہی آیت پڑھی تھی جس طرح آپ نے میرے سامنے پڑھی ہے تو انہوں نے کہا یہ مکی آیت ہے۔ ایک مدنی آیت نے یہ آیت منسوخ کردی ہے۔ یعنی وہ آیت جو سورۃ النساء میں ہے(یعنی وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ…)