بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ (سلیمان بن طرخان) سے سنا، وہ کہتے تھے: ابومجلز نے ہمیں بتایا کہ قیس بن عباد سے روایت ہے۔ قیس نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے (سن کر) نقل کیا کہ اُنہوں نے کہا: میں سب سے پہلا ہوں گا جو قیامت کے روز رحمٰن کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لئے دو زانوں ہوکر بیٹھوں گا۔ قیس نے کہا: اور آیت هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اُنہوں نے کہا: یہ وہی لوگ ہیں جو جنگ بدر کے دن مقابلے کے لئے میدان میں نکلے تھے۔ (ایک طرف) حضرت علیؓ اور حضرت حمزہؓ اور حضرت عبیدہؓ (دوسری طرف) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن کثیر نے ہمیں بتایا ، انہوں نے حصین بن عبد الرحمٰن سے، حصین نے ابو وائل سے، ابو وائل نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہؓ کی ماں حضرت اُمِّ رومانؓ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں جب عائشہؓ متہم کی گئیں تو بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ان کو خبر دی کہ ابوملیکہ کے بیٹے نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہؓ کو یہ آیت یوں پڑھتے سنا: إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ یعنی جب تم اپنی زبانوں سے یہ بات گھڑتے تھے۔
(تشریح)اسحاق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن یوسف فریابی نے ہمیں بتایا،(کہا:) اوزاعی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: زُہری نے مجھے بتایا۔حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ عویمرؓ (بن حارث بن زید بن حارثہ عجلانی) عاصمؓ بن عدی کے پاس آئے اور وہ بنو عجلان قبیلے کے سردار تھےاور اُنہوں نے (عاصمؓ سے) پوچھا: تم ایسے شخص کی نسبت کیا کہتے ہو جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے۔ کیا وہ اسے مار ڈالے؟ اور پھر تم لوگ اس مارنے والے کو بھی قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں میرے لئے پوچھو۔ عاصمؓ نبیﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! (پھر یہ واقعہ بتایا) تو رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کے سوالات ناپسند فرمائے۔ پھر عویمرؓ نے عاصمؓ سے پوچھا تو اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایسے سوالات ناپسند کئے ہیں اور ان کو معیوب سمجھا ہے عویمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں رکوں گا نہیں جب تک رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت نہ کر لوں۔ چنانچہ عویمرؓ آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے تو کیا وہ اس مرد کو مار ڈالے، تو پھر آپ لوگ اس قاتل کو مار ڈالیں گے یا وہ کیا کرے؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے لئے قرآن نازل فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو لعان (لعنت کی بددعا) کرنے کا وہی حکم دیا جو اللہ نے اپنی کتاب میں بتایا ہے۔ عویمرؓ نے اپنی بیوی سے لعان کیا۔ پھر کہنے لگے: یا رسول اللہ ! اگر میں اسے روکے رکھوں تو میں اس پر ظلم کروں گا۔ اس لئے انہوں نے اس کو طلاق دے دی۔ پھر ان دونوں (کے واقعہ) کے بعد جو بھی لعان کرنے والے ہوئے ان کے لئے یہی طریقہ ٹھہر گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھتے رہو اگر وہ عورت ایسا بچہ جنے جو سانولے رنگ کا، سیاہ آنکھوں والا، بڑے سرین والا، موٹی پنڈلیوں والا ہو تو میں عویمرؓ کی نسبت یہی سمجھوں گا کہ اس نے اس عورت کی نسبت سچ ہی کہا ہے۔ لیکن اگر وہ ایسا بچہ جنے جو گہرے سرخ رنگ کا ہو جیسے چھوٹا گرگٹ ہوتا ہے تو میں عویمرؓ کی نسبت یہ سمجھوں گا کہ اس نے اس عورت کے خلاف جھوٹ بولا ہے۔ چنانچہ اس عورت نے ایسے حلیہ کے مطابق بچہ جنا جیسا رسول اللہ ﷺنے عویمؓر کو سچا سمجھنے کے لئے بیان فرمایا تھا۔ اس کے بعد وہ بچہ اپنی ماں ہی کی طرف منسوب ہوتا تھا۔
سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے مجھ سے بیان کیا کہ فلیح نے ہم سے بیان کیا اُنہوں نے زہری سے، زہری نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! بھلا بتائیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مردکو دیکھے تو کیا وہ اسے مار ڈالے اور پھر آپ لوگ قاتل کو مار ڈالیں گے یا وہ کیا کرے۔ چنانچہ اللہ نے ان دونوں کی نسبت وحی نازل کی جو قرآن میں مذکور ہے یعنی لعان کرنے کی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: ان دونوں نے لعان کیا اور میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا اور پھر وہ اس عورت سے الگ ہو گیا۔ اس کے بعد یہی طریق ہو گیا کہ لعان کرنے والوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جاتا۔ اور وہ حاملہ تھی۔ اس شخص نے اس کے حمل سے انکار کردیا (کہ یہ میرا نہیں) اور اس عورت کا بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ پھر وراثت میں بھی یہی طریق جاری ہوا کہ بچہ ماں کا وارث ہوتا اور ماں اس کی جائیداد سے اتنے حصے کی وراث ہوتی جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ (محمد) بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام بن حسان سے روایت کی کہ عکرمہ نے ہمیں بتایا۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ہلالؓ بن امیہ نے نبی کریم ﷺ کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء سے بدکاری کرنے کی تہمت لگائی۔ نبی ﷺنے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے۔ یہ سن کر اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس غیر مرد کو دیکھے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈنے چلا جائے؟ نبی ﷺ یہی فرماتے رہے: شہادت لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے۔ ہلالؓ نے کہا: اسی ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے میں یقیناً سچا ہوں اور اللہ ضرور ایسی وحی نازل کرے گا جو میری پیٹھ کو اس سزا سے بَری کردے گی۔ پھر جبرائیل آئے اور آپؐ پر یہ آیات نازل کیں وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ …اور قراءت کرتے ہوئے إِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَتک پہنچے۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ لوٹے اور اس عورت کو بلوا بھیجا اور ہلالؓ بھی آگئے اور انہوں نے قسم کھا کر شہادت دی اور نبی کریم ﷺ فرماتےرہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تو کیا تم میں سے کوئی (اپنی غلطی سے) توبہ کرتا ہے ۔ پھر وہ اٹھی اور اس نے قسم کھا کر شہادت دی۔ جب وہ پانچویں قسم کھانے لگی تو لوگوں نے اس کو ٹھہرایا اور کہنے لگے: دیکھو یہ قسم یقیناً تجھے عذاب میں مبتلاکرے گی۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: اس پروہ جھجکی اور رُک گئی اور ہم سمجھے کہ وہ اپنی بات میں پلٹے گی۔ پھر اس نے خیال کیا کہ میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لئے رسوا نہیں کروں گی اور یہ خیال کر کے اس نے پانچویں قسم بھی کھالی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے دیکھتے رہو اگر یہ ایسا بچہ جنے جو سرمگیں آنکھوں والا، پُر گوشت بھرے سرین والا اور موٹی پنڈلیوں والا ہو تو وہ شریک بن سحماء کا ہے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی بچہ جنا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی شریعت کا جو حکم ہے اگر وہ نہ ہوچکا ہوتا تو پھر میں اس سے ایسا سلوک کرتا کہ وہ یاد کرتی۔
(تشریح)مقدم بن محمد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ میرے چچا قاسم بن یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ (عمری) سے مروی ہےاور قاسم نے عبیداللہ سے سنا۔ وہ نافع سے روایت کرتے تھے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی اور اس عورت کے بچے سے انکار کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو حکم دیا اور انہوں نے اسی طرح لعان کیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ پھر آپؐ نے اس عورت کو بچہ دلانے کا فیصلہ کیا اور اُن دونوں لعان کرنے والوں کو جُدا کردیا۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ بیان فرماتی تھیں: جس شخص نے اس بہتان طرازی میں بڑا حصہ لیا تھا وہ عبداللہ بن اُبَيّ بن سلول تھا۔
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث(بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس (بن یزید) سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر،سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہبن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کی بابت بتایا۔ جب بہتان طرازوں نےاُن کے متعلق جو کہا، کہا اور اللہ نے ان کو اس بہتان سے بَری قرار دیا جو اُنہوں نے باندھا تھا۔ ان میں سے ہر ایک نے اس واقعہ کا ایک حصہ مجھ سے بیان کیا اور ان کا یہ بیان ایک دوسرے کی تصدیق کرتا تھا۔ گو اُن میں سے بعض دوسروں کی نسبت اس واقعہ کو زیادہ یاد رکھتے تھے۔ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے جو مجھ سے بیان کیا یہ ہے کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺجب کسی سفر میں جانے کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ پھر اُن میں سے جس کا قرعہ نکلتا رسول اللہ ﷺاس کو اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ آپؐ نے ایک غزوہ میں جانے کے لئے ہمارے درمیان قرعہ ڈالا تو میرا قرعہ نکلا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئی۔ یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ میں با پردہ ہودج (ڈولی) میں ہی اٹھا کر سوار کی جاتی اور اسی میں اُتاری جاتی۔ ہم اسی طرح سفر میں چلتے رہے۔ جب رسول اللہ ﷺ اپنے اس غزوہ سے فارغ ہو ئے اور واپس آتے ہوئے ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے ایک رات کوچ کرنے کا حکم دیا۔ جب انہوں نے کوچ کا اعلان کیا تو میں بھی اٹھی اور چل کر فوج سے آگے نکل گئی۔ جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی میں اپنے ٹھکانے پر آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرا ہار جو ظفار کے نگینوں کا تھا ٹوٹ کرکہیں گر گیا۔ میں اپنا ہار ڈھونڈنے لگی اور اس کی تلاش نے مجھے روک دیا اور وہ لوگ جو مجھے ہودج اُٹھا کر سوار کیا کرتے تھے آئے اور میرا ہودج اُٹھا کر میرے اونٹ پر اسے کَس دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی اور وہ سمجھ رہے تھے کہ میں ہودج میں ہی ہوں۔ عورتیں ان دنوں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ اُن کے جسم پر اتنا گوشت نہ تھا کہ وہ بھاری ہوتیں۔ تھوڑا سا تو کھانا کھایا کرتی تھیں۔ اُن لوگوں نے جب ہودج کو اٹھایا اس کے ہلکا پن کو غیر معمولی نہ سمجھا اور میں کم سن لڑکی تھی۔ اُنہوں نے اونٹ کو اُٹھایا اور چل دئیے۔ جب ساری فوج گزرگئی تو میں نے اپنا ہار پالیا۔ میں لوگوں کے پڑاؤ کی جگہ پرآئی تو وہاں نہ کوئی بلانے والا تھا نہ جواب دینے والا۔ یہ دیکھ کر میں اپنے ٹھکانے کی طرف چلی گئی جہاں کہ میں تھی اور میں نے خیال کیا عنقریب وہ جب مجھے نہ پائیں گے میرے پاس لوٹ کر آئیں گے۔ اسی اثناء میں کہ میں اپنے ٹھکانے میں بیٹھی تھی چاروناچار میری آنکھ لگی اور میں سوگئی اور صفوانؓ بن معطل سلمی ذکوانی فوج کے پیچھے تھا (تا گری پڑی چیز اُٹھا لے) وہ پچھلی رات کو چلا اور صبح میرے ٹھکانے کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے ایک سوئے ہوئے شخص کا ہیولادیکھا۔ میرے پاس آیا۔ جب ا س نے مجھے دیکھا پہچان لیا اور حجاب سے پہلے اس نے مجھے دیکھا ہوا تھا۔ مجھے پہچاننے پر اِنَّا لِلَّهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْن پڑھا،جس سے میں جاگ پڑی تو میں نے اپنی جلباب (اوپر کی چادر) سے اپنا منہ ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم! اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے اس سے کوئی بات سنی سوائے اِنَّا لِلَّهِ پڑھنے کے ۔ اس نے آکر اپنی اونٹنی بٹھائی اور اس کے اگلے گھٹنے پر اپنا پاؤں رکھا اور میں اس پر سوار ہوگئی۔ مجھے سوار کرکے اونٹنی کو آگے سے پکڑ کر چل پڑا۔ یہاں تک کہ ہم لشکر میں ٹھیک دوپہر کے وقت پہنچے جبکہ گرمی کی شدت کی وجہ سے وہ اُترے ہوئے تھے۔ پھر ہلاک ہوگیا جس نے ہلاک ہونا تھا اور جو شخص اس بہتان کا بانی مبانی ہوا، وہ عبداللہ بن اُبَيّ بن سلول تھا۔ ہم مدینہ میں آئے اور میں تو آنے پر ایک مہینہ بیمار رہی۔ اور لوگ بہتان طرازوں کے بہتان کی نسبت چہ مگوئیاں کرتے رہے۔ مجھے اس کا کچھ بھی علم نہ تھا۔ اور میری بیماری میں جو بات مجھے پریشان کرتی تھی یہ تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ سے وہ شفقت محسوس نہ کرتی تھی جو شفقت آپؐ مجھ سے فرمایا کرتے تھے، جب میں بیمار ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس صرف یونہی آیا کرتے تھے اور السلام علیکم کہہ کر پوچھتے یہ کیسی ہے ؟اور پھر لوٹ جاتے۔ یہ بات تھی جو مجھے تشویش میں ڈالتی اور میں اس شر کو نہ سمجھتی تھی۔آخر جب مجھے بیماری سے افاقہ ہوا اَور حالتِ نقاہت ہی میں تھی تو باہر گئی میرے ساتھ مسطح کی ماں بھی گئی، مناصع کی طرف گئے۔ یہ ہمارے بول براز کرنے کی جگہ تھی اور ہم صرف رات ہی کو باہر(جنگل میں) جایا کرتی تھیں، پیشتر اس کے کہ ہمارے گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنائے جاتے۔ اور اس وقت تک بول براز کرنے کے لئے ہمارا وہی رواج تھا جو پہلے عربوں کا تھا اور بیوت الخلاء سے ہمیں گھن محسوس ہوتی تھی کہ اپنے گھروں میں وہ بنائیں۔ میں اور مسطح کی ماں باہر چلی گئیں اور یہ ابورُحم بن عبد مناف کی بیٹی تھیں اور ان کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خالہ تھی اور اُن کا بیٹا مسطح بن اثاثہ تھا۔ میں اور مسطح کی ماں اپنے گھر کی طرف آرہی تھیں ہم اپنی حاجت سے فارغ ہو گئی تھیں، اتنے میں مسطح کی ماں نے اپنی اوڑھنی میں اُلجھ کر ٹھوکر کھائی، بولیں مسطح کا ستیاناس ہو۔ میں نے اس سے کہا: کیا ہی بُرا کلمہ ہے جو تمنے کہا ہے۔ کیا تم اس شخص کو بُرا کہتی ہو جو بدر میں شریک ہوا تھا۔ کہنے لگیں: اری بھولی بھالی ! کیا تو نے نہیں سنا جو اس نے کہا ہے؟حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: میں نے پوچھا: اس نے کیا کہا ہے؟ پھر مسطح کی ماں نے مجھےبہتان والوں کی بات بتائی۔ میں بیمار تھی اس پر اور زیادہ بیمار ہو گئی۔ جب میں اپنے گھر کو لوٹی اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس ایسے آئے جیسا آتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کی مراد یہ تھی کہ آپؐ نے سلام کیا اور پوچھا: یہ کیسی ہے؟ میں نے کہا: آپؐ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے ماں باپ کے پاس چلی جاؤں ۔کہتی تھیں کہ میں اس وقت یہ چاہتی تھی کہ ان کے پاس جا کر اس خبر کی نسبت یقینی علم حاصل کروں۔ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اجازت دی اور میں اپنے ماں باپ کے پاس آگئی۔ میں نے ماں سے کہا: ماں لوگ کیا باتیں کرتے ہیں۔ بولیں: بیٹی! اسے معمولی بات سمجھو پرواہ نہ کرو۔ بخدا کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کبھی کوئی خوبصورت عورت کسی شخص کے پاس ہو جس سے وہ مَحبت رکھتا ہو اُس کی سوکنیں بھی ہوں کہ وہ اس کے خلاف بہت باتیں نہ بنائیں۔ کہتی تھیں: میں نے (یہ سن کر) کہا: سبحان اللہ تعجب ہے کہ لوگ ایسی باتیں کرتے رہے ہیں۔ کہتی تھیں:میں اس رات روتی رہی یہاں تک کہ صبح ہو گئی نہ میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند آتی۔ صبح بھی روتی رہی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے جب وحی کے اُترنے میں دیر ہوئی تو علی بن ابی طالب اور اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بلایا تا اُن سے اپنی بیوی سے علیحدگی کے بارے میں مشورہ کریں۔کہتیتھیں: اُسامہؓ بن زید نے تو رسول اللہ ﷺ کو وہ مشورہ دیا جو اُنہیں آپؐ کی بیوی کی طہارت و براءت کے متعلق علم تھااور جو اس مَحبت کا تقاضا تھا جو اُنہیں ابوبکرؓ کے خاندان سے تھی، وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ ! (عائشہؓ) آپؐ کی بیوی ہیں اور سوائے بھلائی کے ہمیں اور کچھ علم نہیں اور علی بن ابی طالبؓ بولے: یا رسول اللہ ! آپؐ پر اللہ نے تنگی نہیں رکھی، عائشہؓ کے سوا اَور بہت سی عورتیں ہیں اور اگر آپؐ اس لونڈی (بریرہؓ) سے پوچھیں گے تو وہ آپؐ سے سچ سچ کہے گی۔ کہتی تھیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہؓ کو بلایا اور فرمایا: بریرہؓ کیا تو نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تمہیں شبہ میں ڈالتی ہو۔ بریرہؓ نے کہا: ہرگز نہیں۔اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو راستی کے ساتھ بھیجا ہے میں نے اس کے برخلاف کبھی کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جسے میں نے عیب کی بات سمجھی ہو۔ ہاں وہ کمسن لڑکی ہے اپنے گھر والوں کا آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہے اور گھر کی بکری آتی ہے اور اس کو کھا جاتی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن اُبَيّ بن سلول سے اپنی معذوری کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور اس وقت آپؐ منبر پر تھے اے مسلمانوں کی جماعت! کون اس شخص سے میرا انصاف کرے گا، جس نے میری بیوی کی نسبت مجھے سخت تکلیف دی ہے۔ اللہ کی قسم!میں اپنی بیوی کی نسبت سوائے بھلائی کے اور کوئی علم نہیں رکھتا اور ان لوگوں نے ایک ایسے شخص کا نام لیا ہے جس کے بارے میں بھی میں سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں جانتا اور وہ میری بیوی کے پاس میری موجودگی میں ہی آیا کرتا تھا۔ حضرت سعد بن معاذ انصاریؓ کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں اس شخص سے نپٹوں گا۔ اگر وہ قبیلہ اوس میں سے ہوا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں یعنی خزرج سے ہوا تو پھر جو آپؐ حکم دیں گے ہم آپؐ کا حکم بجا لائیں گے۔ کہتی تھیں: یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہؓ کھڑے ہوئے اور وہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے، اس سے پہلے اچھے بھلے آدمی تھے مگر قومی غیرت نے ان کو اکسایا اور سعدؓ سے کہا: تم نے جھوٹ کہا ہے۔ بخدا تم اس کو نہیں ماروگے اور نہ اس کے مارنے کی تمہیں طاقت ہے۔ اس پر حضرت اُسَید بن حضیرؓ اُٹھے اور وہ حضرت سعد بن معاذؓ کے چچا زاد بھائی تھے حضرت سعد بن عبادہؓ سے کہنے لگے: تم نے جھوٹ کہا ہے۔ اللہ کی قسم ہم اسے ضرور مارڈالیں گے۔ تم بھی منافق ہو جو منافقوں کی طرف سے جھگڑ رہے ہو۔ اس پر دونوں قبیلے اوس اور خزرج ایک دوسرے کے برخلاف بھڑک اُٹھے اور یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ وہ ایک دوسرے سے لڑنے کے لئے آمادہ ہوگئے بحالیکہ رسول اللہ ﷺ ابھی منبر پر ہی کھڑے تھے آپؐ اُن کا جوش دباتے رہے جس پر آخر وہ خاموش ہوگئے اور آپؐ بھی خاموش ہوئے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: میں اس دن بھی اس حالت میں رہی میرے آنسو نہ تھمتے تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی۔ کہتی تھیں: میرے والدین میرے پاس ہی تھے اور جب میں دو راتیں اور ایک دن رو چکی مجھے نیند نہ آئی اور نہ میرے آنسو تھمے تو ماں باپ سمجھنے لگے کہ یہ رونا میرا جگر پارہ پارہ کردے گا۔ کہتی تھیں: اسی اثنا میں کہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے میرے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے اجازت دی وہ بھی آکر بیٹھ گئی میرے ساتھ رونے لگی۔ کہتی تھیں: ہم اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور السلام علیکم کہہ کر بیٹھ گئے۔ کہتی تھیں کہ جب سے کہ افترا کیا گیا اس سے پہلے آپؐ میرے پاس نہ بیٹھے تھے اور آپؐ ایک مہینہ تک منتظر رہے مگر میری نسبت کوئی وحی آپؐ کو نہ ہوئی ۔ کہتی تھیں: جب رسول اللہﷺ بیٹھ گئے تو آپؐ نے کلمۂ شہادت پڑھا اور فرمایا: اما بعد عائشہ! بات یہ ہے کہ تمہاری نسبت مجھے ایسی ایسی بات پہنچی ہے۔ سو اگر تم بَری ہو تو عنقریب اللہ تمہیں ضرور بَری کردے گا اور اگر تم نے کوئی گناہ کرلیا ہے تو پھر اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ کیونکہ جب بندہ اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے اور اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ اُس پر رحم کرتا ہے۔ کہتی تھیں: جب رسول اللہ ﷺ یہ بات ختم کر چکے تو میرے آنسو یک دم رُک گئے۔ ایسے رُکے کہ میں آنسو کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ کرتی تھی۔ میں نے اپنے باپ سے کہا: رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا جواب دیں جو آپؐ نے فرمائی ہے۔ اُنہوں نے کہا: بخدا میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ ﷺسے کیا کہوں۔ میں نے اپنی ماں سے کہا کہ آپ ہی رسول اللہ ﷺ کو جواب دیں۔ وہ بولیں میں بھی نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ ﷺ سے کیا کہوں۔ کہتی تھیں: بحالیکہ میں کمسن لڑکی تھی قرآن کا بھی مجھے زیادہ علم نہ تھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم مجھے علم ہوچکا ہے کہ آپ نے یہ بات سنی ہے اور آپ کے دلوں میں بیٹھ گئی ہے اور اسے سچا سمجھ لیا ہے۔ اس لئے اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بَری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بَری ہوں تو آپ مجھے اس میں بری نہیں سمجھیں گے اور اگر میں آپ سے کسی بات کا اقرار کر لوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بَری ہوں تو اسے آپ سچا سمجھیں گے۔ اللہ کی قسم میں آپ کے لئے کوئی مثال نہیں پاتی مگر وہی بات جو یوسفؑ کے باپ نے کہی تھی ۔اُنہوں نے کہا تھا:فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ١ؕ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۰۰یعنی صبر ہی اچھا ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگی جائے اس بات میں جو آپ لوگ بیان کر رہے ہیں۔ کہتی تھیں: یہ کہہ کر میں نے کروٹ بدل لی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ کہتی تھیں: میں اس وقت جانتی تھی کہ جیسا کہ میں بری ہوں ویسے ہی اللہ مجھے بَری کرے گا۔ لیکن بخدا میں یہ گمان نہ کرتی تھی کہ اللہ میرے بارے میں ایسی وحی نازل کرے گا جو پڑھی جایا کرے گی۔ میری حیثیت میرے نزدیک اس سے ادنیٰ تھی کہ اللہ میری نسبت ایسا کلام فرمائے گا جو پڑھا جائے گا۔ البتہ یہ خواہش رکھتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ (میری نسبت) کوئی خواب دیکھیں جس کے ذریعہ اللہ مجھے بَری قرار دے دے۔ کہتی تھیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ ابھی اس جگہ سے ہٹے نہیں نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا کہ اللہ نے آپؐ پر وحی نازل کی اور اس سے آپؐ کو سخت تکلیف ہونے لگی جو بوقتِ وحی آپؐ کو ہوا کرتی تھی، یہاں تک کہ آپؐ سے موتیوں کی طرح پسینہ ٹپکنے لگتا بحالیکہ سردیوں کے دن ہوتے۔ یہ حالت اس کلام کے بھاری ہونے کی وجہ سے ہوتی جو آپؐ پر نازل کیا جاتا تھا۔ کہتی تھیں: جب رسول اللہ ﷺ سے (وحی کی) وہ حالت جاتی رہی تو آپؐ مسکرا رہے تھے اور پہلی بات جو آپؐ نے کی یہ تھی۔ عائشہؓ! اللہ عز و جل نے تمہیں بری کر دیا ہے۔ یہ سنتے ہی میری ماں بولیں: اٹھو آنحضرت ﷺ کے پاس جاؤ۔ فرماتی تھیں میں نے کہا: بخدا میں تو آپؐ کے پاس اُٹھ کر نہیں جاؤں گی اور اللہ عز وجل کے سوا کسی کا شکریہ نہیں کرتی اور اللہ نے دس آیات مکمل نازل کیں:اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ …۔جب اللہ نے میری بریت میں یہ وحی نازل کی توحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے اور وہ مسطحؓ بن اثاثہ کو اپنے رشتہ دار اور محتاج ہونے کی وجہ سے خرچ دیا کرتے تھے بخدا میں تو مسطحؓ کو کبھی کچھ خرچ نہیں دوں گا بعد اس بات کے جو اس نے عائشہؓ کی نسبت کہی ہے۔ تو اللہ نے یہ وحی نازل کی وَ لَا يَاْتَلِاُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ…یعنی اور تم میں سے جو اہل فضل ہیں اور کشائش رکھتے ہیں وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں سے نیک سلوک میں کوتاہی نہ کریں، چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہارے قصوروں پر پردہ پوشی فرمائے اور تمہیں معاف کرے اور اللہ بہت ہی پردہ پوش اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: نہیں ، اللہ کی قسم!میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری غلطیوں کی پردہ پوشی فرمائے اور مجھ سے درگزر فرمائےاور انہوں نے مسطحؓ کو وہی خرچ دینا شروع کر دیا جو وہ اسے دیا کرتے تھے اور کہنے لگے:اللہ کی قسم! میں اس خرچ کو اس سے کبھی نہیں چھینوں گا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ جحش کی بیٹی زینب ؓسے میرے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ فرماتے تھے: زینبؓ ! تمہیں کیا علم ہے؟ یا فرماتے: تمہاری کیا رائے ہے؟ تو وہ کہتی یا رسول اللہ! میں اپنے کان اور آنکھ محفوظ رکھتی ہوں، سوائے بھلائی کے مجھے کوئی علم نہیں۔حضرت عائشہؓ کہتی تھیں:اور یہ وہی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی بیویوں میں سے اپنے آپ کو مجھ سے بڑا سمجھتی تھیں اور اللہ نے ان کو پرہیز گاری کی وجہ سے بچالیا اور ان کی بہن حمنہ ان کی خاطر مجھ سے لڑنے لگ جایا کرتی تھی اس لئے وہ بھی ان لوگوں کے ساتھ ہلاک ہوگئی جو بہتان باندھنے والوں کے ساتھ ہلاک ہوگئے۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ عمر بن سعید بن ابی حسین سے روایت ہے ، اُنہوں نے کہا: ابوملیکہ کے بیٹے نے مجھ سے بیان کیا، کہا: حضرت ابن عباسؓ نے حضرت عائشہؓ کے پاس ان کے فوت ہونے سے پہلے آنے کی اجازت طلب کی اور وہ نڈھال پڑی تھیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میں ڈرتی ہوں کہ کہیں وہ میری تعریف نہ کریں۔ ان سے کہا گیا: یہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد ہیں اور معزز مسلمانوں میں سے ہیں۔فرمانے لگیں: اُنہیں اجازت دے دو۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: آپ اپنے آپ کو کیسا پاتی ہیں؟فرمانے لگیں:اچھی ہوں اگر متقی ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا:آپؓ انشاء اللہ اچھی ہی ہیں، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ ہیں۔آنحضورؐ نے آپؓ کے سوا کسی کنواری سے نکاح نہیںکیا اور آپؓ کی بریت تو آسمان سے نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباسؓ کے جانے کے بعد حضرت ابن زبیرؓ آئے تو کہنے لگیں: ابن عباسؓ آئے تھے اور اُنہوں نے میری تعریف کی بحالیکہ میں نے آرزو کی تھی کہ کاش میں بھولی بسری رہتی (میری تعریف میں کوئی ذکر نہ ہوتا)