بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
ہمیں آدم (بن ابی ایاس) نے بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ منصور نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے قول فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ کی بابت پوچھا۔ انہوں نے کہا: اس کی کوئی توبہ نہیں۔ اور اللہ عزوجل کے قول لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت زمانہ جاہلیت سے متعلق ہے۔
(تشریح)عمربن حفص بن غیاث نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا۔ مسلم (بن صبیح) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مسروق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کہتے تھے: پانچ نشانیاں تو گزرچکی ہیں: دھواں، چاند کا پھٹنا، رومیوں کا مغلوب ہونا، سخت گرفت اور ہلاکت۔ یعنی آیت فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا (میں جو ہلاکت کی پیشگو ئی ہے۔ )
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے بھائی (عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، سعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ یعلیٰ (بن عبید) نے ہمیں خبردی کہ سفیان (بن دینار) عُصفری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: آیت لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ سے یہ مراد ہے کہ وہ تجھے مکہ میں واپس لے جائے گا۔
(تشریح)سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: (عبدالرحمٰن) بن ابزیٰ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباسؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول وَ مَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ اور اس کے قول وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ … کی بابت پوچھا گیا۔ پھر میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا: ہم نے اللہ کے شریک بھی ٹھہرائے ہیں اور ناحق اس نفس کو بھی قتل کیا ہے جس کو اللہ نے حرام یعنی قابل عزت ٹھہرایا ہے اور بے حیائی کے کام بھی کئے ہیں۔ اس پر اللہ نے یہ وحی کی۔ یعنی مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور (ایمان کے مطابق) نیک عمل کئے تو اللہ تعالیٰ ان کی بدیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی پردہ پوش معاف کرنے والا اور نیکی کا بدلہ رحمت سے دینے والا ہے۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ (عثمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے منصور سے، منصور نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے مجھے کہا کہ میں حضرت ابن عباسؓ سے ان دو آیتوں کی بابت پوچھوں۔ یعنی (ایک یہ آیت) وَ مَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس آیت کو کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ (دونوں آیتیں اپنی اپنی جگہ پر برقرار ہیں۔) دوسری آیت یہ ہے: وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آیت مشرکوں کی نسبت نازل ہوئی تھی۔
(تشریح)عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن مرہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ نازل ہوئی تو نبیﷺ صفا پہاڑی پر چڑھے اور بلند آواز سے پکارنے لگے: اے بنی فہر! اے بنی عدی! اسی طرح آپؐ نے قریش کے چند خاندانوں کا نام لیا اور وہ جمع ہوگئے، جو آدمی خود نہ آسکتا تھا وہ اپنی جگہ دوسرا آدمی بھیج دیتا کہ دیکھیں کیا معاملہ ہے۔ ابولہب اور قریش آئے۔ آپؐ نے فرمایا: بھلا بتلاؤ تو سہی اگر میں تم کو یہ خبردوں کہ کچھ سوار اس وادی میں ہیں جو تم پر چھاپہ مارنا چاہتے ہیں کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپؐ کی نسبت ہمارا تجربہ یہی ہے کہ آپؐ راستباز ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر میں ایک سخت عذاب آنے سے قبل تمہیں آگاہ کرتا ہوں۔ ابولہب نے یہ سن کر کہا: سارا دن تمہیں گھاٹا ہی رہے، کیا اس غرض کے لئے تم نے ہمیں اکٹھا کیا ہے۔ اس لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوں اور وہ خود بھی تباہ ہو، نہ اس کا مال اسے کاری آیا نہ وہ جو اُس نے کمایا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی،کہا:سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھے بتایاکہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: جب اللہ نے وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ کا ارشاد نازل فرمایا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے قریش کے لوگو! یا کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا: اللہ سے اپنی جانوں کا سوداکر لو۔ اللہ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ اے بنی عبدمناف! اللہ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ اے عباس بن عبد المطلب! اللہ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ اے صفیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی! میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ اور اے فاطمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی! تم جو چاہو میرے مال میں سے لے لو مگر اللہ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ اور ابوالیمان کےسوا اصبغ (بن فرج) نے (عبداللہ) بن وہب سے، انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے یہی حدیث روایت کی۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب ابوطالب کے فوت ہونے کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے اور آپؐ نے ان کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابوامیہ بن مغیرہ کو پایا۔ آپؐ نے فرمایا: چچا ! لَاالٰہَ اِلَّا اللہ کہیں۔ یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ میں اس کے ذریعے سے آپ کے لئے اللہ کے ہاں تقاضا کروں گا۔ ابوجہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا: کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے روگردانی کریں گے؟ رسول اللہ ﷺ یہ کلمہ ان کے سامنے پیش کرتے رہے اور وہ دونوں اپنی وہ بات بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب نے آخری بات جو اُن سے کہی وہ یہ تھی کہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہی۔ اور انہوں نے لَاالٰہَ اِلَّا اللہ کہنے سے انکار کیا۔ حضرت مسیّبؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ کی قسم!) میں اس وقت تک آپ کے لئے ضرور استغفار کرتا رہوں گا جب تک کہ آپ کی نسبت میں روک نہ دیا جاؤں۔ پھر اللہ نے یہ وحی نازل کی: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ… یعنی نبی اور ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں شایاں نہیں کہ مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں (یعنی ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کیا جائے۔) اور ابوطالب کی نسبت اللہ نے یہ آیت نازل کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: تو جس کو پسند کرے ہدایت نہیں دے سکتا لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دیتاہے۔حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: اُولِي الْقُوَّةِ سے یہ مراد ہے کہ آدمیوں کی کوئی مضبوط ٹولی ان چابیوں کو نہیں اٹھا سکتی تھی۔ لَتَنُوْٓاُسے مراد ہے کہ یقیناً وہ بوجھل ہوتیں۔ فٰرِغًا یعنی موسیٰ کی یاد کے سوا (ان کی ماں کا دل) ہر خیال سے خالی ہوگیا تھا۔ الْفَرِحِيْنَ کے معنی ہیں خوش و خرم، اتراتے ہوئے۔قُصِّيْهِ سے مراد ہے اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ ہو سکتا ہے کہ لفظ قَصَّ کلام کرنے کے معنوں میں بھی ہو۔ جیسے فرمایا: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ یعنی ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں۔ عَنْ جُنُبٍ سے مراد ہے دور سے۔ عَنْ جَنَابَةٍ کے بھی یہی معنی ہیں۔اور اسی طرح عَنِ اجْتِنَابٍ بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔یعنی بچ کر دور رہتے ہوئے۔ يَبْطِشُ وَيَبْطُشُ (قراءت میں) دونوں طرح پڑھا جاتا ہے۔ (یعنی وہ سختی سے پکڑتا ہے۔) يَاْتَمِرُوْنَ کے معنی ہیں وہ مشورہ کر رہے ہیں۔ الْعُدْوَانُ، الْعَدَاءُ اور التَّعَدِّي ایک ہی معنوں میں ہیں (یعنی حد سے بڑھنا۔) اٰنَسَ یعنی اس نے دیکھا، محسوس کیا۔ الْجِذْوَةُ کے معنی ہیں جلتی لکڑی کا موٹا ٹکڑا جس میں آگ تو ہو لیکن اس سے شعلہ نہ نکلے۔ اور الشِّهَابُ وہ ہے جس میں شعلہ ہو۔ اور سانپ کئی قسم کے ہوتے ہیں، (ان میں سے ایک قسم الْجَانُّ کہلاتی ہے) یعنی پتلا باریک سانپ۔ اور (دوسری قسم الْأَفَاعِي یعنی) اژدہا، اور (تیسری قسم الْأَسَاوِدُ یعنی) کالے ناگ۔ رِدْءًا کے معنی ہیں مددگار۔ حضرت ابن عباسؓ نے يُصَدِّقُنِي (قاف کی پیش سے) پڑھا ہے یعنی وہ میری تصدیق کرتا ہے۔ اور حضرت ابن عباسؓ کے سوا اوروں نے کہا: سَنَشُدُّ کے معنی ہیں ہم تمہاری مدد کریں گے۔ جب کبھی تم نے کسی کو مضبوط کیا تو (عربی محاورہ کے مطابق)گویا تم نے اس کا ایک بازو زیادہ کر دیا۔ مَقْبُوحِيْنَ کے معنی ہیں ہلاک شدہ۔ وَصَّلْنَا سے مراد ہے ہم نے کھول کر بیان کیا اور اسے پورا کیا۔ يُجْبٰى کے معنی ہیں کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔ بَطِرَتْ یعنی وہ متکبر ہو گئی۔ فِيْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا میں أُمّ سے مراد ہے أُمّ الْقُرٰی (یعنی مکہ) اور جو اس کے ارد گرد آباد ہے۔ تُكِنُّ کے معنی ہیں وہ چھپاتی ہے۔ أَكْنَنْتُ الشَّيْءَ یعنی میں نے اسے چھپا لیا۔ اوركَنَنْتُهُ کے معنی بھی یہی ہیں۔ اور کبھی (اس کے معنی) أَظْهَرْتُهُ بھی ہوتے ہیں (یعنی میں نے اس کو ظاہر کر دیا۔) وَيْكَاَنَّ اللّٰهَ کا فقرہ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ کی طرح ہے یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ کے معنی ہیں جس کے لیے چاہتا ہے رزق کی کشائش کرتا ہے۔ اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی کرتا ہے۔
(تشریح)