بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا، (کہا:) منصور اور اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ کوئی شخص کندہ قبیلے میں باتیں کر رہا تھا، وہ کہنے لگا: قیامت کے روز دُھواں آئے گا اَور وہ منافقوں کی شنوائی اور بینائی بے کار کردے گا اور اس سے مومن کو بھی زکام ہوجائے گا۔ ہم یہ سن کر گھبرا گئے اور میں حضرت ابن مسعودؓ کے پاس آیا اور وہ تکیہ لگائے ہوئے تھے یہ سن کر انہیں غصہ آیا اور بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔ جس کو علم ہو،چاہیئے کہ وہ بیان کرے اور جسے علم نہ ہو کہنا چاہیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے اور یہ بھی علم کی علامت ہے کہ جو بات نہیں جانتا اس کی نسبت کہے کہ میں نہیں جانتا کیونکہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے فرمایا ہے: کہہ کہ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ اور ہوا یہ تھا کہ قریش نے اسلام قبول کرنے میں دیر کی تو نبی ﷺ نے ان کے خلاف دعا کی۔ عرض کیا: اے اللہ! ان کو مغلوب کرنے کے لئے میری مدد ایسے سات سالوں سے فرما جو یوسف کے سات سالوں جیسے ہوں۔ چنانچہ قحط نے انہیں ایسا پکڑا کہ وہ اس میں ہلاک ہوئے اور اُنہوں نے اس میں مردار اور ہڈیاں کھائیں اور آسمان اور زمین کے درمیان کی فضا آدمی کو دھوئیں کی طرح دکھائی دیتی تھی۔ تب ابوسفیان آپؐ کے پاس آیا اور اس نے کہا: محمدؐ! آپؐ آئے تھے صلہ رحمی کا ہمیں حکم دینے اور حالت یہ ہے کہ آپؐ کی قوم ہلاک ہوگئی ہے۔ پس اللہ سے دعا کریں۔ تو آپؐ نے یہ آیت پڑھی:فَارْتَقِبْ يَوْمَ… یعنی اس روز کا انتظار کر جب آسمان ایک کھلا کھلا دُھواں لائے گا… ہم عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے مگر تم پھر وہی (کرتوتیں) کرنے لگ جاؤ گے۔ تو کیا آخرت کا عذاب جب آئے گا تو اُن سے ہٹا دیا جائے گا۔ اس کے بعد قریش پھر اسی طرح انکار کرنے لگے اور یہی وہ (انکار) ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى یعنی جس روز ہم بہت بڑی گرفت میں پکڑیں گے۔ اس سے مراد غزوہ بدر ہے اور لِزَامًا سے بھی یہی غزوہ بدر مراد ہے۔ الٓمّٓۚ۰۰غُلِبَتِ الرُّوْمُ۰۰ اور یہ روم کا واقعہ بھی گزر چکا ہے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ محمد بن عبداللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا، کہا:میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ ثمامہ (بن عبداللہ بن انس) نے بتایا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ہم یہی سمجھتے ہیں کہ یہ آیت انس بن نضرؓ سے متعلق اتری: مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ… یعنی مومنوں میں سے ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچا کردیا ہے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ یونس (بن یزید) نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے روایت ہے انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ بھی ایسا نہیں جو فطرت پر پیدا نہ ہوتا ہو مگر اس کے ماں باپ ہی اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ وہ اسی طرح فطرت پر پیدا ہوتا ہے جس طرح چوپایا پورے کا پورا صحیح سالم جَنتا ہے کہیں تم اُن میں کوئی کان کٹا بھی دیکھتے ہو؟ یہ کہہ کر (حضرت ابوہریرہؓ یہ) آیت پڑھا کرتے تھے: فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ… یعنی یہ وہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔اللہ کی اس پیدائش میں تبدیلی نہ کی جائے یہی وہ دین ہے جو صحیح اور پائیدار ہے۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، انہوں نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے رو ایت کی کہ انہوں نے کہا: جب آیت اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍنازل ہوئی یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کی ظلم سے آمیزش نہیں کی، تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر شاق گزرا اور وہ کہنے لگے: ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے ایمان کو ظلم سے آمیختہ نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس سے یہ مراد نہیں ہے۔ کیا تم لقمان کی بات نہیں سنتے جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہی۔ یعنی شرک ہی بہت بڑا ظلم ہے۔
(تشریح)اسحاق (بن راہویہ) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے جریر (بن عبدالحمید) سے، جریر نے ابوحیان (يحيٰ بن سعید) سے، انہوں نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے لئے باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص سامنے سے آیا اور کہنے لگا: یارسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ، اس کے ملائکہ، اس کے رسولوں اور اس کی ملاقات پر یقین رکھے اور اس بات پر یقین کرے کہ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندگی ہے۔ اس نے کہا: (یا رسول اللہ!) اسلام کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اور نماز سنوار کر ادا کرے اور زکوٰۃ دے جو فرض کی گئی ہے اور رمضان میں روزے رکھے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! احسان کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر یہ نہیں کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو پھر اتنا تو ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! وہ گھڑی کب ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: جس شخص سے اس کی بابت پوچھا جارہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا مگر میں تمہیں اس کی علامتیں بتائے دیتا ہوں۔ جب عورت اپنے مالک کو جنے گی تو یہ اس کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن (آوارہ گرد) لوگوں کے سردار ہوں گے۔ یہ بات بھی اس کی علامتوں میں سے ہے۔ اس گھڑی کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔(پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی) اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ١ۚ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ… پھر اس کے بعد وہ شخص واپس چلا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے میرے پاس واپس لے آؤ۔ صحابہ اسے واپس بلانے کے لئے گئے مگر انہوں نے کچھ نہ دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ جبرائیل ہیں جو اس لئے آئے تھے کہ لوگوں کو ان کا دین سکھائیں۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا، کہا کہ عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے مجھ سے بیان کیا۔ ان کے باپ نے انہیں بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیب کی چابیاں پانچ ہیں۔ یہ کہہ کر آپؐ نے پھر یہ آیت پڑھی: اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ… یعنی اللہ ہی کو اس گھڑی کا علم ہے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کبھی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ …یعنی کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اور علی (بن عبد اللہ) نے ہمیں بتایا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ابولزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے…وہی جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ سفیان سے پوچھا گیا: (آپ نے یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے) روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ نہیں تو پھر اور کہاں سے؟ ابومعاویہ نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے کہا: اعمش نے ابوصالح سے نقل کیا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے یہ آیت یوں پڑھی:قُرَّاتِ أَعْيُنٍ۔
اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ اعمش سے روایت ہے کہ (انہوں نے کہا:) ابوصالح نےہم سے بیان کیا۔ انہوں نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کررکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے، نہ کسی انسان کے دل پہ اس کا خیال گزرا ہے۔ وہ نعمتیں ایسا ذخیرہ ہیں کہ ان کے مقابل پر جو نعمتیں تمہیں معلوم ہیں ان کا کیا ذکر۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ… کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے جو ان اعمال کا بدلہ ہو گا جو وہ (دنیا میں) کرتے تھے۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے مجھے بتایا کہ محمد بن فلیح نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ (فلیح بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال نے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپؐ نے فرمایا: کوئی بھی ایسا مومن نہیں مگر میں دنیا و آخرت میں اس کے ساتھ تمام لوگوں سے بڑھ کر تعلق رکھنے والا ہوں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى … یعنی نبی مومنوں سے زیادہ قریب ہے بنسبت ان کی اپنی جانوں کے۔ اور مومن جو جائیداد بھی چھوڑ جائے تو اس کے خاندان کے لوگ اس کے وارث ہوں گے جو بھی وہ ہوں؛ اور اگر وہ قرضہ یا کسمپرس بال بچے چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا سرپرست ہوں گا۔
(تشریح)معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن مختار نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا, کہا: سالم نے مجھے بتایا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت زید بن حارثہؓ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، ہم انہیں زید بن محمدؐ ہی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىِٕهِمْ … یعنی ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کرکے پکارو یہی بات اللہ کے نزدیک درست ہے۔