بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا سے مراد حدیبیہ ہے۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ معاویہ بن قرہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مُغفلؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن سورۂ فتح پڑھی اور آپؐ نے اس کو ترجیع سے پڑھا۔ حضرت معاویہؓ نے کہا: اگر میں چاہوں کہ نبی
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں خبردی۔ زیاد (بن علاقہ) نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت مغیرہؓ (بن شعبہ) سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ(نماز میں) اتنا کھڑے ہوئے کہ آپؐ کے پاؤں سوج گئے۔ آپؐ سے کہا گیا: اللہ نے آپؐ کو پہلے بھی گناہوں سے محفوظ ۱ رکھا ہے اور بعد میں بھی۔ آپؐ نے فرمایا: پھر کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے حضرت جابر (انصاریؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو (۱۴۰۰) آدمی تھے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ شبابہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے عقبہ بن صہبان سے سنا۔ وہ حضرت عبداللہ بن مغفل مزنیؓ سے روایت کرتے تھے: میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جو درخت کے نیچے موجود تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں پھینکنے سے روکا۔
اور (اسی سند کے ساتھ) عقبہ بن صہبان سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل مزنیؓ سے نہانے کی جگہ میں پیشاب کرنے کے متعلق سنا (کہ آپ نے اس کو منع فرمایا۔)
محمد بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے خالد (حذاء) سے، خالد نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی۔
حسن بن عبدالعزیز نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن یحيٰ نے ہمیں بتایا کہ حیوہ (بن شریح) نے ہمیں خبر دی۔ حیوہ نے ابوالاسود (محمد بن عبدالرحمٰن) سے روایت کی۔ انہوں نے عروہ سے سنا۔ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ رات کو (نماز میں) اتنا کھڑا رہتے تھے کہ آپؐ کے پاؤں پھٹ جاتے۔ یہ دیکھ کر حضرت عائشہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے آپؐ کو پہلے بھی گناہوں سے محفوظ رکھا ہے اور بعد میں بھی۔ آپؐ نے فرمایا: کیا مجھے پسند نہیں کہ شکر گزار بندہ ہو جاؤں۔ جب آپؐ کا جسم فربہ ہوا تو آپؐ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ جب رکوع کرنا چاہتے اٹھ کھڑے ہوتے اور کچھ (قرآن مجید) پڑھ کر رکوع کرتے۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال بن ابی ہلال سے، ہلال نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ یہ آیت جو قرآن مجید میں ہے، یعنی اے نبی! ہم نے تجھے (اپنی صفات کے لیے) گواہ اور (مومنوں کے لیے) بشارت دینے والا اور (کافروں کے لیے) ہوشیار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: (یہ) تورات میں یوں ہے: اے وہ نبی! ہم نے تمہیں اَن پڑھ لوگوں کے لئے بطور ایک شاہد اور خوشخبری دینے والا اور (کافروں کے لیے) ہوشیار کرنے والا اور پشت پناہ بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ ہے اور میرا رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ نہ تو بدخُو ہے اور نہ سخت دل۔ نہ بازاروں میں شوروشر کرنے والا۔ اور نہ ایسا ہے کہ جو بدی کا بدلہ بدی سے دے۔ بلکہ معاف کرتا ہے اور درگزر کرتا ہے اور اللہ اسے دنیا سے اس وقت تک نہیں اٹھائے گا جب تک اس کے ذریعہ ٹیڑھی اُمت کو درست نہ کرلے۔ یعنی وہ یہ اقرار نہ کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ اس کلمہ کے ذریعہ اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور غفلت میں لپٹے ہوئے دلوں کو کھول دے گا۔
(تشریح)عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص (قرآن) پڑھ رہا تھا اور اس کا ایک گھوڑا گھر میں بندھا ہوا تھا، وہ بدکنے لگا۔ یہ دیکھ کر وہ شخص باہر نکلا اور دیکھا بھالا مگر کچھ نہ دیکھا اور وہ گھوڑا بدکتا رہا۔ جب صبح ہوئی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: یہی وہ سکینت کی حالت ہے جو قرآن پڑھنے کی وجہ سے (آہستہ آہستہ) نازل ہوتی ہے۔
(تشریح)