بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
احمد بن اسحاق سُلمی نے ہم سے بیان کیا کہ یعلیٰ (بن عبید) نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن سیاہ نے حبیب بن ابی ثابت سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ میں ابووائل (شقیق بن سلمہ) کے پاس ان سے کچھ پوچھنے آیا تو انہوں نے کہا: ہم صفین میں تھے، تو ایک شخص نے کہا: کیا تم ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھتے جن کو کتاب اللہ پر عمل کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے۔حضرت علیؓ نے کہا: ہاں (دیکھتا ہوں)۔ حضرت سہل بن حنیفؓ نے کہا:اپنے آپ کو ہی غلطی پر سمجھو (اپنے نفسوں پر اتنا اعتماد نہ کیا کرو) کیونکہ میں حدیبیہ کے دن یعنی اس صلح میں جو کہ نبی ﷺ اور مشرکوں کے درمیان تھی اپنے تئیں دیکھ چکا ہوں۔ اگر ہم لڑنا مناسب سمجھتے تو ہم ضرور لڑتے۔ حضرت عمرؓ بھی آئے اور کہنے لگے: کیا ہم حق پر نہیں اور وہ باطل پر نہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول آگ میں نہیں ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں، ضرور۔ حضرت عمرؓ نے کہا: پھر ہم اپنے دین کے متعلق یہ ذلت کیوں قبول کریں اور یونہی ایسے وقت میں واپس ہو جائیں کہ ابھی اللہ نے ہمارے درمیان فیصلہ نہیں کیا۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا: خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ (یہ سن کر) حضرت عمر بن خطابؓ غصے سے بھرے لوٹ گئے اور صبر نہیں کیا کہ جھٹ حضرت ابوبکرؓ کے پاس چلے گئے اور کہنے لگے: ابوبکرؓ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ انہوں نے کہا: خطاب کے بیٹے! وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور اللہ ان کو ہرگزضائع نہیں کرے گا۔ پھر سورۂ فتح نازل ہوئی۔
(تشریح)عبداللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا کہ حر می بن عمارہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: آگ میں ڈالے جائیں گے اور وہ کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ وہ اپنا قدم اس میں رکھے گا۔ پھر وہ کہے گی بس بس۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ ورقاء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: (اللہ تعالیٰ نے) آپؐ کو حکم دیا ہے کہ تمام نمازوں کے پیچھے تسبیح کیا کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے قول وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ سے یہی مراد ہے۔
یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے ہم سے بیان کیا کہ نافع بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: قریب تھا کہ دو بہتر آدمی ہلاک ہوجاتے، یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جب آپؐ کے پاس بنو تمیم کا قافلہ آیا اپنی آوازوں کو بلند کیا۔ ان دونوں میں سے ایک نے اقرع بن حابسؓ کو جو بنی مجاشع کے خاندان میں سے تھے سردار بنانے کا مشورہ دیا اور دوسرے نے کسی دوسرے شخص کے متعلق مشورہ دیا۔ نافع کہتے تھے: مجھے اس کا نام یاد نہیں رہا۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا: تم نے ہمیشہ میری مخالفت ہی کرنی چاہی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میں نے آپؓ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔ اور اس وجہ سے ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں۔ اللہ نے (یہ) وحی نازل کی: اے مومنو! اپنی آواز اُونچی نہ کیا کرو۔ حضرت ابن زبیرؓ کہتے تھے: پھر اس آیت کے بعد حضرت عمرؓ اتنی آہستہ بات کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض وقت سن بھی نہیں سکتے تھے، یہاں تک کہ آپؐ ان سے پوچھتے۔ اور (حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے) اپنے نانا یعنی حضرت ابوبکرؓ کے متعلق ایسا (آہستہ بات کرنے سے متعلق) نہیں کہا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ ازہر بن سعد نے ہمیں بتایا۔ ابن عون نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: موسیٰ بن انس نے مجھے بتایا۔ موسیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ثابت بن قیسؓ کو غیر حاضر پایا۔ ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ! میں آپؐ کو ان کا پتہ لائے دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ ان کے پاس آیا اور ان کو اپنے گھر میں سر اوندھا کئے بیٹھے ہوئے پایا۔ اس نے ان سے پوچھا: آپؓ کا کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگے: بہت ہی بُرا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز بلند کیا کرتا تھا۔ اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ اب آگ والوں میں سے ہے۔ یہ سن کر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپؐ کو بتایا کہ وہ ایسا ایسا کہتے تھے۔ موسیٰ (بن انس) کہتے تھے: پھر وہ شخص دوبارہ ان کے پاس بڑی بشارت لے کر گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے پاس جاؤ، اسے کہو تم دوزخیوں میں سے نہیں ہو بلکہ تم جنتیوں میں سے ہو۔
حسن بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حجاج (بن محمد اعور) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی، کہا: مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اُن کو بتایا کہ بنی تمیم کا ایک قافلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور حضرت ابوبکرؓ نے کہا: قعقاع بن معبد کو امیر بنائیں اور حضرت عمرؓ نے کہا: نہیں، بلکہ اقرع بن حابسؓ کو امیر بنائیں۔ (یہ سن کر) حضرت ابوبکرؓ نے کہا: تم میری مخالفت ہی کرنا چاہتے ہو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میں نے آپؓ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا اور دونوں آپس میں جھگڑ پڑے۔ یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوئیں تو اس بارہ میں یہ آیت آخر تک نازل ہوئی: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ۔
محمد بن موسیٰ قطان نے ہمیں بتایا کہ ہم سے ابوسفیان حِمْیری سعید بن یحيٰ بن مہدی نے بیان کیا کہ ہمیں عوف (اعرابی) نے بتایا۔ عوف نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے مرفوعاً روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اور ابو سفیان اس حدیث کو اکثر موقوف بیان کرتے تھے کہ جہنم سے پوچھا جائے گا: کیا تُو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟ آخر ربّ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا اور وہ کہے گی بس بس۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمام (بن منبہ) سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت اور آگ کا آپس میں جھگڑا ہوا۔ آگ کہنے لگی: میرے لئے وہی لوگ منتخب کئے گئے ہیں جو متکبر اور جابر ہیں اور جنت نے کہا: کیا وجہ ہے کہ مجھ میں سوائے کمزور، ادنیٰ اور حقیر لوگوں کے اور کوئی داخل نہیں ہوتا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت سے کہا: تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہوں رحم کرتا ہوں اور آگ سے کہا: تم تو صرف ایک سزا ہو۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہوں تیرے ذریعہ سزا دیتا ہوں۔ اور ان میں سے ہر ایک کو اتنے ملیں گے جس سے وہ بھر جائے گا۔ آگ جو ہوگی تو وہ بھرنے کی نہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنا پاؤں رکھے گا تو وہ کہے گی: بس بس بس۔ تب جاکر وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے میں سمٹ جائے گا۔ اور اللہ عزوجل اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم کرنے کا نہیں۔ اور جنت جو ہے تو اللہ عزوجل اس کے لئے اور خلقت پیدا کرے گا۔
(تشریح)اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے جریر (بن عبدالحمید) سے، جریر نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے، قیس نے حضرت جریر بن عبداللہ (بجلیؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: تم بھی عنقریب اپنے ربّ کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس کو دیکھ رہے ہو ۔ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے سے پہلے کی نماز اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز کے ادا کرنے میں ایسے بے بس نہ ہوجاؤ (کہ تم سے جاتی رہے) تو ضرور کوشش کرو (کہ وہ جانے نہ پائے۔) پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے تُو اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے، محمد بن عبدالرحمٰن نے عروہ (بن زبیر) سے، عروہ نے حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ سے، حضرت زینبؓ نے حضرت اُم سلمہؓ سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: لوگوں کے پیچھے رہ کر اس حالت میں تم طواف کرو کہ تم سوار ہو۔ چنانچہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے ایک طرف نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ وَ الطُّوْرِ۰۰ وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ پڑھ رہے تھے۔