بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے کہا: زُہری نے ہم سے یہ بیان کیا، انہوں نے کہا: ابو ادریس (خولانی) نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت عبادہؓ نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپؐ نے فرمایا: کیا تم مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرتے ہو کہ تم اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور نہ تم زنا کروگے اور نہ چوری کرو گے۔ اور آپؐ نے آیت النساء پڑھی۔ اور سفیان نے (اس حدیث میں) اکثر یوں کہا کہ آپؐ نے یہ آیت پڑھی (پھر فرمایا:) جس نے تم میں سے اس عہد کو پورا کیا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا اور جو اس میں سے کچھ کر بیٹھا اور پھر اسے سزا دے دی گئی تو یہ سزا اُس کے لئے کفارہ ہوگی اور جو اس میں سے کچھ کر بیٹھا اور اللہ نے پردہ پوشی کی تو اللہ کے سپرد ہے اگر اس نے چاہا تو اس کو سزا دے گا اور اگر چاہا تو پردہ پوشی فرما کر درگزر کردے گا۔ عبدالرزاق نے بھی بیان کیا ہے۔ انہوں نے معمر سےاس آیت کے متعلق روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز (دراوردی) نے ہمیں بتایا کہ ثور (بن زید دیلی) نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے ابوالغیث(سالم) سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ (انہوں نے حدیث بیان کی جس میں یہ الفاظ ہیں کہ) ان میں سے کچھ مرد اس تک پہنچ جائیں گے۔
محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہارون بن معروف نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: اور ابن جریج نے مجھے خبر دی کہ حسن بن مسلم نے انہیں بتایا۔ انہوں نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے عید الفطر کے دن نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑھی تو وہ سب ہی اس نماز کو خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے اور اس (کے پڑھنے) کے بعد لوگوں سے مخاطب ہوتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اُترے گویا کہ میں اب بھی آپؐ کو دیکھ رہا ہوں، جب آپؐ اپنے ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے۔ پھر آپؐ ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور مع بلالؓ عورتوں کے پاس آئے اور آپؐ نے یہ آیت پڑھی: يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ …۔آپؐ نے پوری آیت پڑھی۔ پھر جب فارغ ہوئے فرمایا: تم ان شرطوں پر قائم ہو؟ صرف ایک ہی عورت نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ۔ اس کے سوا کسی نے جواب نہیں دیا۔ حسن (بن مسلم) نہیں جانتے کہ وہ کون تھی۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا تو صدقہ دو۔ اور حضرت بلالؓ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور وہ حضرت بلالؓ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے محمد بن جبیر بن مطعم نے اپنے باپ(حضرت جبیر بن مطعم) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ہی وہ مٹانے والا ہوں کہ میرے ذریعہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا اور میں ہی وہ اکٹھا کرنے والا ہوں کہ میرے قدم پر لوگ اکٹھے کئے جائیں گے اور میں ہی وہ (نبی) ہوں جو پیچھے آنے والا تھا۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ (اویسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ثو ر (بن زید) سے، ثور نے ابوالغیث (سالم) سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ا نہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپؐ پر سورة جمعہ نازل کی گئی۔ وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ کے متعلق حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ کون ہیں؟ تو آپؐ نے اس کا ان کو جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے تین بار پوچھا اور اس وقت ہم میں سلمان فارسیؓ تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمانؓ پر رکھا اور فرمایا: اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہو تو ان میں سے کچھ مرد یا فرمایا ایک مرد اُس تک پہنچ جائیں گے۔
حفص بن عمر نے مجھ سے بیان کیا کہ خالد بن عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ حصین(بن عبدالرحمٰن) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سالم بن ابی جعد سے اور ابو سفیان سے روایت کی۔ ان دونوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جمعہ کے دن غلہ لئے ہوئے ایک قافلہ سامنے سے آیا اور اس وقت ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ یہ دیکھ کر لوگ اُٹھ بھاگے سوائے بارہ آدمیوں کے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً… یعنی اور جب وہ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
(تشریح)عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل (بن یونس) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں تھا تو میں نے عبداللہ بن اُبَيّ کو یہ کہتے سنا: جو رسول اللہ کے پاس ہیں ان کو خرچ نہ دو۔ وہ آپؐ کے پاس سے تتر بتر ہوجائیں گے۔ اور اگر ہم اس غزوہ سے لوٹے تو جو زیادہ معزز ہوگا وہ ذلیل کو ضرور اس سے نکال دے گا۔ میں نے اپنے چچا (حضرت سعد بن عبادہؓ) سے یا حضرت عمرؓ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے مجھے بلایا اور میں نے آپؐ سے بیان کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن اُبَيّ اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ انہوں نے یہ نہیں کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا سمجھا اور اُسے سچا قرار دیا۔ مجھے اس سے اتنا فکر ہوا کہ ایسا فکر کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں اپنے گھر میں بیٹھ رہا۔ مجھے میرے چچا نے کہا: تمہیں کیا سوجھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جھوٹا سمجھا اور تم سے ناراض ہوگئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ… یعنی جب منافق تیرے پاس آتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور آپؐ نے (یہ آیت) پڑھی۔ پھر فرمایا: زید! اللہ نے تجھے سچا قرار دیا۔
(تشریح)آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل (بن یونس) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق (سبیعی) سے، ابواسحاق نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اپنے چچا کے ساتھ تھا۔ میں نے عبداللہ بن اُبَيّ بن سلول کو یہ کہتے سنا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان کو مت کچھ خرچ دو تاکہ وہ تتر بتر ہوجائیں۔ اور اس نے یہ بھی کہا: اگر ہم مدینہ کو لوٹے تو جو زیادہ معزز ہے وہ ضرور ذلیل کو اس سے نکال دے گا۔ میں نے اپنے چچا سے اس کا ذکر کیا اور میرے چچا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن اُبَيّ اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔انہوں نے قسمیں کھائیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سچا سمجھا اور مجھے جھوٹا ٹھہرایا۔ مجھے اس سے اتنا فکر ہوا کہ ایسا فکر مجھے کبھی نہیں ہوا۔ میں اپنے گھر میں بیٹھ رہا۔ پھر اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل کیں: اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ… تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور آپؐ نے میرے سامنے یہ آیات پڑھیں اور فرمایا: اللہ نے تمہیں سچا قرار دیا ہے۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے روایت کی، کہا:میں نے محمد بن کعب قرظی سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جب عبداللہ بن اُبَيّ نے کہا کہ جو رسول اللہ کے پاس ہیں انہیں خرچ مت دو اور یہ بھی کہا کہ اگر ہم مدینہ کو لوٹے تو (ویسا کریں گے۔) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر کر دی تو انصار نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن اُبَيّ نے قسم کھالی کہ اس نے ایسا نہیں کہا۔ میں اپنے گھر کو لوٹا اور سو رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے تمہیں سچا قرار دیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی: هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا یعنی یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ خرچ نہ کرو۔ اور ابن ابی زائدہ نے بھی (اس حدیث کو) بیان کیا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عمرو (بن مرہ) سے، عمرو نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے حضرت زید بن ارقمؓ سے، حضرت زیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ زُہَیر بن معاویہ نے ہمیں بتایا۔ ابواسحاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت زید بن ارقمؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے جس میں لوگوں کو سخت تکلیف پہنچی۔ عبداللہ بن اُبَيّ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جو رسول اللہ کے پا س ہیں انہیں خرچ مت دو، وہ آپؐ کے آس پاس سے تتر بتر ہوجائیں گے۔ اور کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو جو زیادہ معزز ہے وہ ذلیل کو وہاں سے ضرور نکال دے گا۔ میں (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ کو خبر کردی۔ آپؐ نے عبداللہ بن اُبَيّ کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا۔ اس نے بڑے زور سے قسم کھائی کہ اس نے ایسا نہیں کہا۔ لوگ کہنے لگے: زیدؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا ہے۔ان کے ایسا کہنے سے مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ آخر اللہ عزوجل نے میری تصدیق میں یہ وحی نازل کی: اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ یعنی جب تیرے پاس منافق آتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا تاکہ ان کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں۔ انہوں نے اپنے سر تان لئے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ۔ کہا: اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ بڑے خوبصورت مرد تھے۔