بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ا نہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلادئیے اور ان کو کٹوا دیا۔ اور یہ بویرہ کا باغ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: مَا قَطَعْتُمْ… یعنی جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے یا جنہیں تم نے اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، تو سب اللہ کے حکم سے ہوا اَور اس لئے ہوا کہ تا وہ بد عہدوں کو رسو ا کرے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے کئی بار ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے زُہری سے، زُہری نے مالک بن اوس بن حدثان سے، مالک نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بنو نضیر کی جائیدادیں ان مالوں میں سے تھیں جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر کسی قسم کی مشقت کے عطا کیں۔ یعنی مسلمانوں نے ان کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھیں۔ آپؐ ان میں سے اپنے کنبے کو اس کا سال بھر کا خرچ دے دیا کرتے تھے اور جو باقی رہتا اس کو ہتھیار اور گھوڑوں کے خریدنے میں خرچ کرتے جو اللہ کی راہ میں بطور سازوسامان کے ہوتے۔
محمد بن یوسف (بیکندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: خوبصورتی کے لیے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں اور چہرے کے بال نکالنے والیوں اور دانتوں کے درمیان فاصلہ رکھوانے والیوں، وہ جو اللہ کی پیدائش کو تبدیل کرنے والیاں ہیں، اللہ اُن پر لعنت کرے۔ بنو اسد کی ایک عورت کو یہ خبر پہنچی جسے اُم یعقوب کہتے تھے، وہ آئی اور کہنے لگی: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپؓ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ (حضرت ابن مسعودؓ نے) کہا: مجھے کیا ہے کہ ان پر لعنت نہ کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی۔ اور جو اللہ کی کتاب میں (ملعون قرار دی گئی) ہیں۔ وہ کہنے لگی: جو (قرآن کی) اس جلد میں ہے میں نے بھی پڑھا ہے۔ میں نے تو اس میں وہ بات نہیں پائی جو آپؓ کہتے ہیں۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے) کہا: اگر تم اس کو پڑھتی تو ضرور اسے پاتی۔ کیا تم نے یہ نہیں پڑھا؟ یعنی جو رسول نے تمہیں دیا ہے اس پر عمل کرو اور جس بات سے اس نے تم کو روکا ہے اس سے رُک جاؤ۔ وہ کہنے لگی: ہاں (یہ ضرور پڑھا ہے۔ حضرت عبداللہؓ نے) کہا: تو پھر رسول اللہؐ نے اس سے روکا ہے۔ وہ کہنے لگی: میں آپؓ کی بیوی کو دیکھتی ہوں وہ ایسا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا: جاؤ اور دیکھو۔ وہ گئی اور اس نے دیکھا مگر اپنے مطلب کی بات کچھ نہ دیکھی۔ تو (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے) کہا: اگر وہ ایسی ہوتی تو ہمارے ساتھ نہ رہ سکتی۔
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن(بن مہدی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی۔ انہوںنے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے منصور کی اس حدیث کا ذکر کیا جو انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں پیوند لگانے والی پر لعنت کی ہے۔ (عبدالرحمٰن بن عابس نے) کہا: میں نے یہ حدیث ایک عورت سے سنی جسے اُمّ یعقوب کہتے تھے۔ اس نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے منصور کی حدیث کی طرح ہی حدیث بیان کی۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر یعنی ابن عیاش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین (بن عبدالرحمٰن) سے، حصین نے عمرو بن میمون سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے جانشین کو پہلے مہاجرین کے متعلق یہ وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے لیے ان کا حق پہچانیں اور اپنے جانشین کو اُن انصار کے متعلق کہ جو گھر میں آباد اور ایمان سنبھالے ہوئے تھے، پیشتر اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرتے، یہ وصیت کرتا ہوں کہ ان میں سے جو نیک ہو اس کی قدردانی کرے اور جو بُرا ہو اُس سے درگزر کرے۔
(تشریح)یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ فضیل بن غزوان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوحازم اشجعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یارسول اللہؐ! مجھے سخت بھوک لگی ہے۔ آپؐ نے اپنی ازواج سے کہلا بھیجا مگر ان کے پاس کچھ نہ پایا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اسے مہمان ٹھہرائے۔ اللہ اُس پر رحم کرے گا۔ ایک انصاری شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں (اسے مہمان ٹھہراؤں گا۔) وہ اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی بیوی سے کہا: رسول اللہ ﷺ کا مہمان ہے اس سے کوئی چیز چھپانہ رکھنا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرے پاس صرف بچوں کی خوراک ہے۔ اس نے کہا: جب بچے شام کا کھانا مانگیں تو اُن کو سُلا دینا اور تم آنا اور دیا بجھا دینا اور آج رات ہم خالی پیٹ رہیں گے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر صبح کو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ عزوجل فلاں مرد اور فلاں عورت سے بہت خوش ہوا، یا فرمایا: بہت ہنسا۔ اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل کی: وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ … یعنی اور وہ اپنے نفسوں پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں گو اُنہیں خود بھوک ہی ہو۔
(تشریح)(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: حسن بن محمد بن علی نے مجھے بتایا کہ انہوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے جو حضرت علیؓ کے منشی تھے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذکر کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور زبیرؓ اور مقدادؓ کو بھیجا۔ آپؐ نے فرمایا: چلے جاؤ۔ جب روضہ خاخ میں پہنچو وہاں اُونٹ پر سوار ایک عورت ہوگی، اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے لو۔ ہمیں ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے لے گئے جب روضہ خاخ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عورت شتر سوار ہے۔ ہم نے کہا: وہ خط نکالو۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا: تمہیں وہ خط نکالنا ہوگا ورنہ ہم کپڑے اُتار دیں گے۔ (یہ سُن کر) اس نے اپنے جُوڑے سے وہ خط نکالا اور ہم وہ خط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو اُس میں یہ تھا: حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے چند مشرکوں کے نام۔ وہ اُن کو نبی ﷺ کی کسی بات کے متعلق خبر دے رہا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: حاطب یہ کیا؟ حاطبؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے متعلق جلدی نہ کیجئے، میں قریش کا ایک آدمی تھا اور میں ان میں سے نہ تھا۔ اور آپؐ کے ساتھ جو مہاجر ہیں ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے اُن گھر والوں اور اپنی اُن جائیدادوں کو جو مکہ میں ہیں بچاتے ہیں۔ میں نے یہ چاہا کہ اگر میرا اُن میں کوئی رشتہ نہیں تو میں ان پر کوئی احسان ہی کر دوں تا کہ وہ اس وجہ سے میرے رشتہ داروں کی حمایت کریں۔ اور میں نے یہ کسی کفر اور نہ ہی اپنے دین سے پھر جانے کی وجہ سے کیا۔ نبیﷺنے یہ سن کر فرمایا: اس نے تم سے سچ سچ بیان کر دیا ہے۔ حضرت عمر ؓنے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں اس کی گردن اڑا دوں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ بدر میں موجود تھا اور تمہیں کیا معلوم شاید اللہ عز و جل نے بدر والوں کو جھانک کر دیکھا ہو اور فرمایا ہے: جو تم چاہو کرو میں نے پردہ پوشی فرما کر تم سے درگزر کردیا۔عمرو(بن دینار) نے کہا: اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ… یعنی اے مومنو! تم میرے دشمنوں کو اَور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔ (سفیان بن عیینہ نے) کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آیت حدیث میں ہے یا عمرو (بن دینار) نے ہی اس (آیت) کو پڑھا۔علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان سے (حضرت حاطبؓ کے) واقعہ کے متعلق پوچھا گیا۔ کیا یہ آیت اس کے متعلق نازل ہوئی تھی؟ لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ… تم میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔ سفیان نے کہا: لوگوں کی روایت میں ایسا ہی ہے۔ میں نے عمرو (بن دینار) سے (سُن کر) یہی یاد رکھا۔ میں نے اس سے ایک حرف نہیں چھوڑا اور میں اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتا کہ اس نے اس حدیث کو یاد رکھا ہو۔
(تشریح)اسحاق (بن منصور) نے مجھے بتایا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا کہ ہمیں ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ (انہوں نے کہا:) مجھے عروہ (بن زبیر) نے خبردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ جو مؤمن عورتیں آپؐ کے پاس ہجرت کر کے آتیں اس آیت سے آپؐ ان کا امتحان لیتے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ… عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: جس مؤمن عورت نے اس شرط کا اقرار کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: میں نے تجھ سے بیعت لے لی۔ یہ زبان سے فرماتے اور ہرگز نہیں، اللہ کی قسم ہرگز نہیں، آپؐ کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو بیعت کے وقت نہیں چھوا۔ آپؐ ان سے بیعت صرف یہ کہہ کر ہی لیتے تھے کہ میں نے تم سے اس اقرار پر بیعت لے لی۔(زُہری کے بھتیجے کی طرح) یونس، معمر اور عبدالرحمٰن بن اسحاق نے بھی زُہری سے یہی روایت کی۔ اور اسحاق بن راشد نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عروہ اور عَمرہ سے نقل کیا۔
(تشریح)ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے حضرت اُم عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی۔ آپؐ نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور آپؐ نے ہمیں بَین کرنے سے روکا تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بولی: فلاں عورت نے (بَین کرنے میں) میری مدد کی تھی۔میں چاہتی ہوں کہ میں بھی اس کے عوض میں (اس کے ساتھ بَین) کرلوں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کچھ نہیں فرمایا۔ وہ چلی گئی اور پھر لوٹ آئی اور آپؐ نے اس سے بیعت لی۔