بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے خبر دی۔ مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: ان کے متعلق مجھ پر کچھ نازل نہیں کیا گیا سوائے اس اکیلی آیت کے جو جامع ہے۔یعنی پھر جس نے ایک ذرہ کے برابر (بھی) نیکی کی ہو گی وہ اس (کے نتیجہ) کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ایک ذرہ کے برابر بھی بدی کی ہو گی وہ اس (کے نتیجہ) کو دیکھ لے گا۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا کہ شیبان (بن عبدالرحمٰن) نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو(معراج میں) آسمان پر لے جایا گیا، آپؐ نے فرمایا: تو میں ایک ندی پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ کوثر ہے۔
خالد بن یزید کاہلی نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے ابوعبیدہ سے، ابوعبیدہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی،ابو عبیدہ نے کہا میں نے حضرت عائشہؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول یعنی (اے نبی ؐ!) یقیناً ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے، کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا: یہ ایک دریا ہے جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ۔ اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتی ہیں جس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں۔ اس حدیث کو زکریا، ابوالاحوص اور مطرف نے ابواسحاق سے روایت کیا۔
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا کہ ابوبشر نے ہم سے بیان کیا، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کوثر کے متعلق کہا کہ یہ وہ بھلائی ہے جو اللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ ابوبشر کہتے تھے: میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ جنت میں ایک دریا ہوگا ۔ سعید نے کہا: وہ دریا جو جنت میں ہوگا وہ بھی اس بھلائی سے ہے جو اللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ۔
(تشریح)حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ بیان فرماتی ہیں کہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ کے نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بھی نماز نہیں پڑھی مگر آپؐ اس میں یہ کہا کرتے تھے: پاک ذات ہے تو اے ہمارے ربّ اور اپنی حمد کے ساتھ، اے اللہ پردہ پوشی فرما کر مجھ سے درگزر فرما۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر )سے، منصور نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ بیان فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں یہ بہت کہا کرتے تھے۔ یعنی پاک ذات ہے تو اے ہمارے ربّ اور اپنی حمد کے ساتھ۔ اے اللہ پردہ پوشی فرما کر مجھ سے درگزر فرما۔ قرآن شریف سے آپؐ نے استنباط کیا۔
(تشریح)عبداللہ بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن (بن مہدی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے حبیب بن ابی ثابت سے، حبیب نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول یعنی جب اللہ کی مدد اور کامل غلبہ آ جائے گا، کے متعلق پوچھا تو اُنہوں نے کہا: اس سے مراد شہروں اور محلات کا فتح کیا جانا ہے۔ حضرت عمر ؓنے (مجھ سے) کہا: ابنِ عباسؓ تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہے یا مثال ہے جو آپؐ کے لئے بیان کی گئی جس میں آپؐ کو آپؐ کی وفات کی خبر دی گئی ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ مجھے ان بڑی عمر کے صحابہ کے ساتھ (گھر میں) بلایا کرتے تھے جو بدر میں شریک تھے ان میں سے کسی نے اپنے نفس میں بُرا منایا اور کہا: آپؓ اس کو ہمارے ساتھ کیوں بلاتے ہیں؟ حالانکہ ہمارے بھی اس جیسے بیٹے ہیں حضرت عمر ؓنے فرمایا: یہ اس حیثیت کا ہے جو تم جانتے ہو حضرت عمر ؓنے ایک دن بلایا اور حضرت ابن عباسؓ کو بھی ان کے ساتھ اندر بلایا۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپؓ نے جو مجھے اس دن بلایا تو محض اس لئے کہ ان کو دکھلائیں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ تم اللہ تعالیٰ کے اس قول یعنی ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آجائے‘‘ کے متعلق کیا سمجھتے ہو؟ تو ان میں سے بعض نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی حمد بیان کریں اور اس سے مغفرت کی دعا کریں، جب ہمیں نصرت اور فتح ہو اور ان میں سے بعض خاموش رہے اور کچھ نہ کہا۔ پھر انہوں نے مجھے فرمایا: ابن عباسؓ کیا تم بھی اسی طرح کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی وفات مراد ہے جس سے اللہ نے آپؐ کو آگاہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اللہ کی نصرت اور فتح آ جائے تو یہ تمہاری وفات کی علامت ہے۔ اس لئے تو اپنے ربّ کی حمد سے تسبیح بیان کر اور اس سے مغفرت مانگ کیونکہ وہ تواّب ہے۔ حضرت عمر ؓنے یہ سن کر فرمایا: میں بھی اس سے یہی سمجھتا ہوں جو تم کہتے ہو۔
(تشریح)یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا: اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن مرہ نے ہمیں بتایا۔ عمرو نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ جب یہ آیت وَاَنْذِرْعَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ یعنی اور تو اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا یعنی اپنے قبیلہ میں سے چنیدہ کو، نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر گئے اور صفا پر چڑھے اور یَا صَبَاحَاہ زور سے پکارا۔ لوگوں نے کہا: یہ کون ہے؟ اور سن کر سب آپؐ کے پاس جمع ہوگئے۔ آپؐ نے فرمایا: بتاؤ تو سہی اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ کچھ سوار اس پہاڑ کے دامن سے نکل کر حملہ کریں گے کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ انہوں نے کہا: ہم نےآپ کے متعلق کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب کے آنے سےپیشتر ہی آگاہ کیے دیتا ہوں۔ ابولہب نے کہا: تم پر تباہی! صرف اسی لئے تم نے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ پھر اُٹھ کر چل دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: تَبَّتْ يَدَاۤ… یعنی ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہو گئے اور وہ خود بھی تباہ ہو گیا۔ اعمش نے اس دن یوں پڑھا: وَقَدْ تَبَّ یعنی وہ خود بھی تباہ ہو گیا۔
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں خبردی کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے عمرو بن مرہ سے، عمرو نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف نکلے اور پہاڑ پر چڑھ گئے اور (بلند آواز سے) یا صباحاہ پکارنے لگے۔ یہ سن کر قریش آپؐ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے یہ کہوں کہ دشمن تم پر صبح کو یا شام کو چھاپا مارنے والا ہے کیا تم مجھ کو سچا سمجھو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم کو سخت عذاب کے آنے سے پیشتر ہی ڈرائے دیتا ہوں۔ ابولہب نے یہ سن کر کہا: کیا اس لئے تم نے ہمیں اکٹھا کیا تھا ؟ تم پر تباہی۔ تب اللہ عز وجل نے یہ سورۃ آخر تک نازل کی تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ۔