بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد)نے ہمیں بتایا، انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ نیز سعید بن مروان نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن عبدالعزیز بن ابی رزمہ نے ہمیں بتایا۔ ابوصالح سلموَیہ نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے مجھے بتایا، عبداللہ نے یونس بن یزید سے، انہوں نے کہا: مجھے ابن شہاب نے خبر دی کہ عروہ بن زبیر نے انہیں بتایا، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ نےفرمایا: پہلے پہل وحی کی جو قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع ہوئی تو وہ نیند کی حالت میں سچی خوابوں کا دیکھنا تھا۔ آپؐ کوئی بھی ایسی خواب نہ دیکھتے تھے جو صبح صادق کے نمودار ہونے کی طرح واقع نہ ہو جاتی ہو۔ پھر اس کے بعد آپؐ کو تنہائی پسند ہوئی اور آپؐ غار حرا میں چلے جایا کرتے تھے اور وہاں عبادت کیا کرتے تھے۔ عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ تَحَنُّث وہ عبادت تھی جو چند گنتی کی راتیں کیا کرتے تھے بغیر اس کے کہ آپؐ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں اور اس غرض کے لئے آپؐ زاد لے لیتے، پھر حضرت خدیجہؓ کے پاس واپس آتے اور اتنا ہی اور زاد لیتے۔ یہاں تک کہ اچانک حق آپؐ کے پاس آیا اور اس وقت آپؐ غار حرا میں تھے۔ آپؐ کے پاس فرشتہ آیا، اس نے کہا: پڑھو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔ فرماتے تھے: اس نے مجھے پکڑا اور اس زور سے بھینچا کہ مجھے سخت تکلیف پہنچی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ اس زور سے بھینچا کہ مجھے سخت تکلیف پہنچی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو میں نے کہا: میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ پھر اس نے مجھے پکڑا اور تیسری بار مجھے اس زور سے بھینچا کہ اپنی انتہائی طاقت مجھ پر خرچ کر دی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ… یعنی پڑھ اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا انسان کو ایک لوتھڑے سے۔ پڑھ اور تیرا ربّ بڑا احسان کرنے والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے سکھایا، انسان کو وہ کچھ سکھلایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیتیں سن کر لو ٹ آئے۔ آپؐ کے کندھے اور گردن کے درمیان کے پٹھے پھڑ پھڑا رہے تھے۔ آپؐ حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے اور کہا: مجھے کمبل اڑھاؤ، کمبل اڑھاؤ، انہوں نے آپؐ کو کپڑا اڑھا یا۔ جب آپؐ کا خوف جاتا رہا تو حضرت خدیجہؓ سے فرمایا: خدیجہؓ!مجھے کیا ہو گیا ہے۔ مجھے تو اپنی جان کا خدشہ ہے اور آپؐ نے حضرت خدیجہؓ کو وہ سارا واقعہ سنایا۔ حضرت خدیجہؓ بولیں: ہرگز نہیں، آپؐ کو خوشخبری ہو۔ اللہ کی قسم، اللہ آپؐ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ کیونکہ آپؐ اللہ کی قسم صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچی بات کہتے ہیں اور عاجز کو سہارا دیتے ہیں اور جس کے پاس نہ ہو اس کے لئے مہیا کرتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی مشکلات میں مدد کرتے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ آپؐ کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں اور وہ حضرت خدیجہؓ کے چچا زاد یعنی جو اُن کے باپ کا حقیقی بھائی تھا اس کے بیٹے تھے اور وہ ایسے شخص تھے جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی لکھنا جانتے تھے او ر انجیل میں سے جو اللہ لکھوانا چاہتا عربی میں لکھا کرتے تھے اور وہ بہت بوڑھے تھے اندھے ہو گئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے کہا: چچا اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے کہا: بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا اس کا حال ان سے بیان کیا۔ ورقہ نے سن کر کہا: یہ تو وہ راز دار ہے جو موسیٰؑ پر نازل کیا گیا تھا، کاش کہ میں اس زمانہ میں جوان ہوتا ، اے کاش کہ میں اس زمانہ میں زندہ رہوں۔ اس کے بعد ورقہ نے ایک اور بات کہی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں کوئی شخص بھی وہ بات لے کر نہیں آیا جو تم لائے ہو مگر ضرور ہی اسے ستایا گیا اور اگر تمہارے زمانہ نے مجھے زندہ پایا تو میں کمر باندھ کر تمہاری مدد کروں گا۔ پھر اس کے بعد ورقہ زیادہ دیر نہیں رہا فوت ہوگیا اور وحی بھی کچھ دیر کے لئے موقوف ہوگئی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افسردہ خاطر ہو گئے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے عروہ سے سنا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: پھر نبی
محمد بن شہاب کہتے تھے۔ مجھے ابوسلمہ (بن عبد الرحمٰن) نے بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپؐ اس وقت وحی کے موقوف ہونے کے متعلق باتیں کررہے تھے آپؐ نے اپنی گفتگو کے اثناء میں فرمایا: ایک بار میں چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی۔ میں نے اپنی نظر جو اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ ہے جو میرے پاس حرا میں آیا تھا وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور لوٹ گیا۔ میں نے کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ۔ انہوں نے آپؐ کو کپڑا اوڑھا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل کیں یعنی اے بارانی کوٹ پہن کر کھڑے ہونے والے، کھڑا ہو جا اور دُور دُور جا کے لوگوں کو ہوشیار کر ، اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر، اور اپنے پاس رہنے والے لوگوں کو پاک کر،اور شرک کو مٹا ڈال۔ابوسلمہ نے کہا: (رُجْز سے مراد) وہ بت ہیں جن کو زمانہ جاہلیت کے لوگ پوجا کرتے تھے۔ کہتے تھے: پھر اس کے بعد وحی لگا تار آنے لگی۔
(تشریح)(یحيٰ) بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا، انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: پہلے پہل جو قسم وحی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوئی وہ اچھی خوابیں تھیں۔ پھر آپؐ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا:اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھ جس نے (سب اشیاء کو ) پیدا کیا(اور جس نے) انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا (پھر ہم کہتے ہیں کہ قرآن کو) پڑھ کر سناتا رہ کیونکہ تیرا ربّ بڑا کریم ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد )مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی ۔ معمر نے زہری سے روایت کی۔ اور لیث (بن سعد) نے کہا: عقیل نے مجھے بتایا: محمد (بن شہاب) نے کہا: عرو ہ نے مجھے خبر دی، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ پہلے پہل جو رسول اللہ ﷺ کو شروع ہوئیں تو وہ سچی خوابیں تھیں۔ آپؐ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھ جس نے (سب اشیاء کو ) پیدا کیا(اور جس نے) انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا(پھر ہم کہتے ہیں کہ قرآن کو) پڑھ کر سناتا رہ کیونکہ تیرا ربّ بڑا کریم ہے۔وہ ربّ جس نے قلم کے ساتھ علم سکھایا (ہے اور آئندہ بھی سکھائے گا۔)
(تشریح)یحيٰ (بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے معمر سے،معمر نے عبدالکریم جزری سے، عبدالکریم نے عکرمہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: ابوجہل نے کہا: اگر میں محمد(ﷺ) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ پایا تو میں اس کی گردن کچل ڈالوں گا۔ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اس کو پکڑ لیتے۔ (عبدالرزاق کی طرح) عمرو بن خالد نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ انہوں نے عبیداللہ (بن عمر و رَقی) سے، عبیداللہ نے عبدالکریم سے روایت کیا۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا،(انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، اُنہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُبَیّ (بن کعبؓ) سے فرمایا: اللہ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ سورة پڑھوں۔ حضرت اُبَیّ بن کعبؓ نے پوچھا: اللہ نے میرا نام لیا تھا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ وہ یہ سن کر رو پڑے۔
حسان بن حسان نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا، انہوں نے قتادہ سے،قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُبَیؓ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں۔ حضرت اُبَیؓ نے کہا: کیا اللہ نے آپؐ سے میرا نام لیا تھا؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے تمہارا نام لے کر مجھے فرمایا۔ یہ سن کر حضرت اُبَیؓ رونے لگے۔ قتادہ کہتے تھے اور مجھے یہ بتایا گیا کہ آپؐ نے ان کیلئے یہ سورة پڑھی: لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے یعنی اہلِ کتاب (اپنے کفر سے باز رہنے والے) نہ تھے۔
احمد بن ابی داؤد ابوجعفر منادی نے ہم سے بیان کیا کہ روح (بن عبادہ) نے ہمیں بتایا کہ سعید بن ابی عروبہ نے ہمیں بتایا،انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُبَیّ بن کعبؓ سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں۔ حضرت اُبَیؓ نے کہا: کیا اللہ نے میرا نام لے کر آپؐ سے فرمایا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت اُبَیؓ نے کہا: کیا رب العالمین کے پاس میرا بھی ذکر کیا گیا تھا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ یہ سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہوتے ہیں۔ کسی شخص کے لئے اجر کا موجب اور کسی شخص کے لئے پردہ پوشی کا موجب اور کسی شخص کے لئے گناہ کا موجب۔ جس کو تو ثواب ملتا ہے وہ شخص ہے جس نے اللہ کی راہ میں ان کو باندھے رکھا اور چراگاہ یا باغ میں ان کی رسی لمبی کردی تو انہوں نے رسی کی لمبائی میں جو کچھ اس چراگاہ یا باغ سے چرا تو اس قدر اس کے لئے نیکیاں ہوں گی۔ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک دو میل کودتے پھاندتے بھاگ جائیں تو ان کے قدموں کے نشان ان کی لید یہ بھی اس شخص کے لئے نیکی کا موجب ہو گی اور اگر وہ کسی ندی سے گزریں اور پانی پئیں اور وہ پانی نہ پلانا چاہتا ہو تو یہ بھی اس کے لئے نیکیوں کا موجب ہو گا۔ اس لئے یہ گھوڑے ایسے شخص کے لئے ثواب کا موجب ہیں اور ایک وہ شخص ہے جس نے ان کو روپیہ کمانے یا مانگنے سے بچنے کے لئے باندھا اور اللہ کے اس حق کو نہ بھولا جو کہ ان کی گردنوں میں ہے اور نہ اس حق کو جو ان کی پیٹھوں میں ہے تو یہ گھوڑے اس کے لئے پردہ پوشی کا موجب ہوں گے اور وہ شخص جس نے ان کو فخر اور دکھلاوے اور ضد بضدی مقابلہ کرنے کی وجہ سے باندھا تو وہ اس کے لئے عذاب کا موجب ہوں گے۔ اور رسول اللہ ﷺ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا:ان کے متعلق سوائے اس اکیلی آیت کے جو سب پر حاوی ہے مجھ پر اور کچھ نازل نہیں ہوا۔ یعنی پھر جس نے ایک ذرہ کے برابر (بھی) نیکی کی ہو گی وہ اس (کے نتیجہ) کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ایک ذرہ کے برابر بھی بدی کی ہو گی وہ اس (کے نتیجہ) کو دیکھ لے گا۔