بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا: یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے مجھے بتلایا کہ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے کہ مجھے حضرت ابوبکر نے اس حج میں قربانی کے دن مؤذنوں کے ساتھ بھیجا تا کہ ہم منی میں یہ اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ ہی کوئی ننگا اس گھر کا طواف کرے۔ حمید بن عبدالرحمن کہتے تھے کہ پھر رسول الله ﷺ نے حضرت علی کو ان کے پیچھے روانہ کیا اور ان سے فرمایا کہ وہ سورۂ برآءة بلند آواز سے سنائیں۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے کہ حضرت علیؓ نے بھی قربانی کے دن منی میں ہمارے ساتھ اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی ننگا اس گھر کا طواف کرے گا۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) said: ‘Abū Bakr (r.a) sent me to that Ḥajj as one of the announcers on the day of Sacrifice, to announce at Miná that after this year, no idol worshipper may perform Ḥajj, and no naked person may make circuits of the Kaʿbah.’ Ḥumaid ibn ʿAbd al Raḥmān said that then the Messenger of Allāh (sa) sent ʿAlī (r.a) after them and ordered him to announce the declaration of barāʾah. Abū Hurairah (r.a) said: ‘ʿAlī (r.a) announced with us to the people gathered at Miná on the day of Sacrifice, that after this year no idol worshipper may perform Ḥajj, and no naked person may make circuits of the Kaʿbah.’
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا کہا: ابوالموالی کے بیٹے نے کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔ کہا: میں حضرت جابر بن عبداللہ کے پاس گیا اور وہ ایک ہی کپڑے میں لیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر پاس رکھی ہوئی تھی۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے کہا: ابو عبداللہ! آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کی چادر رکھی ہوئی ہے۔ کہا: ہاں۔ میں نے چاہا کہ آپ جیسے ناواقف مجھے دیکھیں۔ میں نے نبی ﷺ کو اس طرح پڑھتے دیکھا۔
(تشریح)Muḥammad ibn al-Munkadir narrated: ‘I entered upon Jābir ibn ʿAbd Allāh and he was praying wrapped in a cloth while his cloak was placed [near him]. When he finished, we asked: “O Abū ʿAbd Allāh, you are praying while your cloak is placed [nearby]?” He replied: “Yes, I wanted ignorant people like you to see me. I saw the Prophet (sa) praying like this”.’
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: اسماعیل بن علیہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر پر حملہ کیا اور ہم نے اس کے قریب جا کر صبح کی نماز بھی جبکہ ابھی اندھیر ہی تھا۔ پھر نبی اللہ ﷺ سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ بھی سوار ہوئے اور میں حضرت ابوطلحہ کے ساتھ پیچھے سوار تھا۔ نبی اللہ ﷺ نے خیبر کی گلی میں گھوڑا دوڑایا اور میرا گھٹنا نبی اللہ ﷺ کی ران کے ساتھ چھو رہا تھا۔ پھر آپ نے اپنی ران سے کپڑا ہٹا دیا یہاں تک کہ میں نبی اللہ ﷺ کے ران کی سفیدی دیکھتا تھا۔ جب آپ گاؤں میں داخل ہوئے اور فرمایا: اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ خیبر ویران ہو گیا۔ ہم جب کسی قوم کے آنگن میں ڈیرہ ڈالتے ہیں تو پھر ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جن کو (قبل از وقت عذاب الہی سے) ڈرایا گیا ہو۔ یہ آپ نے تین بار کہا۔ (حضرت انس کہتے تھے کہ لوگ اپنے کاموں کے لئے باہر نکلے تو انہوں نے کہا: محمد (آ گیا)۔ اور عبدالعزیز کہتے تھے کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے (محمد کے ساتھ) خمیس کا لفظ بھی کہا تھا یعنی فوج۔ (حضرت انس) کہتے تھے کہ ہم نے اسے لڑ کر فتح کیا تھا۔ اور قیدیوں کو اکٹھا کیا گیا تو دحیہ کلبی آئے اور کہا: نبی اللہ! مجھے ان قیدیوں میں سے ایک لونڈی دیجئے۔ فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو۔ انہوں نے حیی کی بیٹی صفیہ لی۔ اس پر ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: نبی اللہ! آپ نے دحیہ کو قریظہ اور نضیر کی سردار صفیہ بنت حیی دی ہے۔ وہ تو صرف آپ کے ہی لائق ہے۔ فرمایا: اسے بمعہ صفیہ بلا لاؤ۔ وہ صفیہ کو لے آئے۔ جب نبی ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ان قیدیوں میں سے اس کے سوائے کوئی اور لونڈی تم لے لو۔ حضرت انس کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے حضرت صفیہ کو آزاد کر دیا اور پھر ان سے شادی کی۔ اس پر حضرت ثابت نے (حضرت انس) سے پوچھا کہ ابوحمزہ! (آنحضرت ﷺ) نے کیا مہر دیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے اسی کو آزاد کر دیا تھا اور اس سے شادی کر لی۔ آخر جب آپ ابھی راستے میں ہی تھے تو حضرت ام سلیم نے حضرت صفیہ کو آپ کی خاطر آراستہ کیا اور رات کو آپ کے پاس انہیں بھیج دیا تو نبی ﷺ صبح کو دولہا تھے اور آپ نے فرمایا: جس کے پاس کوئی چیز ہو وہ اسے لے آئے اور آپ نے چمڑے کا دستر خوان بچھا دیا تو کوئی شخص تو کھجور میں لانے لگا اور کوئی گھی۔ (عبد العزیز نے) کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے ستو کا بھی ذکر کیا تھا۔ کہتے تھے: پھر انہوں نے ان سب کو آپس میں ملا کر گوندھ دیا اور یہی رسول اللہ ﷺ کا ولیمہ تھا۔
(تشریح)Anas (r.a) narrated: ‘The Messenger of Allāh (sa) went to the Battle of Khaibar, and we prayed the Fajr Prayer there while it was still dark. Then the Prophet of Allāh (sa) rode [his mount], and Abū Ṭalḥah (r.a) also rode, and I was behind Abū Ṭalḥah (r.a). The Prophet of Allāh (sa) made his mount gallop through the streets of Khaibar and my knee was touching the thigh of the Prophet of Allāh (sa). Then, he raised his izār from his thigh so much so that I could see the whiteness of the Prophet of Allāh’s thigh. When he entered the town, he said: “Allāh is the Greatest, Khaibar is ruined. When we descend into the courtyard of a people, it shall be an evil morning to those who were warned.” He said this three times.’ Anas (r.a) added that: ‘The people went about their business and said, “It is Muḥammad”.’ ʿAbd al-ʿAzīz [a narrator] said that some of our companions added ‘and the khamīs [army.]’ ‘So we took it [Khaibar] by force and the prisoners were rounded up. Then Diḥyah came and said: “O Prophet of Allāh, give me a female slave from among the prisoners.” He replied: “Go and take a female slave”, and he took Ṣafiyyah (r.a), daughter of Ḥuyayy. Then a man came unto the Prophet (sa) and said: “O Prophet of Allāh, you have given Ṣafiyyah (r.a), daughter of Ḥuyayy to Diḥyah, and she is the chief of the tribe of Quraiẓah and al-Naḍīr. She is not fitting for anyone besides you.” He replied: “Tell him to bring her back.” He brought her back, and when the Prophet (sa) recognised her, he said: “Take a different female-slave from the prisoners other than her”.’ He [Anas (r.a)] adds: ‘Then the Prophet (sa) freed her and married her. Then Thābit said to him: “O father of Ḥamzah! What did he give her by way of dowry?” He said: “Herself, as he freed her and married her.” When he was still on the way, Umm Sulaim (r.a) got her ready for him and guided her to him at night. As the Prophet (sa) was a groom he said: “Whosoever has anything [food] with him should bring it.” He spread a sheet and one man started bringing dates and another started bringing butter.’ He [ʿAbd al-ʿAzīz] adds that: ‘I think he mentioned parched grain.’ ‘Then they mixed it all up and this was the walīmah of the Messenger of Allāh (sa).’
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا: عروہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھتے اور آپ کے ساتھ بعض مومن عورتیں بھی اپنی اوڑھنیوں میں منہ لیٹے ہوئے نماز پڑھتیں۔ پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں۔ انہیں کوئی بھی نہ پہچانتا۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) said: ‘The Messenger of Allāh (sa) would pray Fajr and the women from among the believers would pray with him wrapped in their cloaks. Then they would return to their homes without anyone recognising them.’
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن شہاب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش تھے۔ آپ نے اس کے نقشوں کو ایک نظر دیکھا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: میری اس دھاری دار لوئی کو انہوں ابرم کے پاس لے جاؤ اور ابو جہم کی انجانی لوئی لے آؤ۔ کیونکہ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے بے توجہ کر دیا۔ اور ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے نقل کیا۔ ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اس کے بیل بوٹے دیکھتا تھا اور میں نماز میں تھا اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ میری توجہ نہ بٹائے۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated: ‘The Prophet (sa) prayed in a shawl which had a pattern on it, and he glanced at the pattern once. When he had finished [his Prayer] he said: “Take this shawl (khamīṣah) of mine to Abū Jahm and bring me the anbijāniyyah of Abū Jahm, because this one has distracted me from my Prayer”.’ ʿĀʾishah (r.a) [also] narrated that the Prophet (sa) said: ‘I was looking at its pattern while I was in Prayer and I fear that it may put me in trial [by distracting me].’
ہم سے ابو معمر عبد اللہ بن عمرو نے بیان کیا۔ کہا: عبد الوارث نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز ابن صہیب نے حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ حضرت عائشہؓ کا ایک پردہ تھا جس پر تصویریں تھیں۔ انہوں نے اس سے اپنے گھر کے ایک طرف پردہ کیا ہوا تھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: اپنے اس پردہ کو ہم سے ہٹا دو کیونکہ اس کی تصویریں میری نماز میں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔
(تشریح)Anas (r.a) narrated: ‘There was a curtain belonging to ʿĀʾishah (r.a) with which she would cover one side of her house. The Prophet (sa) said: “Move this curtain of yours away from us because its pictures continue to appear [in front of me] in my Prayer”.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے یزید سے۔ یزید نے ابوالخیر سے۔ ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کو ایک ریشم کا فراک (یا) کوٹ ہدیہ دیا گیا۔ آپ نے اسے پہنا اور اس میں نماز پڑھی۔ پھر فارغ ہوئے تو اسے جلدی سے اُتار دیا جیسے کہ آپ اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ اور فرمایا کہ یہ متقیوں کے لائق نہیں ہے۔
(تشریح)ʿUqbah ibn ʿĀmir narrated: ‘A silk garment (farrūj) was gifted to the Prophet (sa). He put it on and prayed in it. When he finished, he took it off forcefully, displaying strong disapproval and saying: “This does not behove the righteous”.’
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا کہ عمر بن ابی زائدہ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے عون بن ابی حجیفہ سے۔ عون نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چمڑے کے ایک سرخ خیمہ میں دیکھا اور حضرت بلال کو دیکھا کہ انہوں نے وہ پانی لیا جس سے رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تھا اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس وضو کے پانی کے لیے لپک رہے ہیں۔ جس شخص کو اُس میں سے کچھ مل جاتا وہ اُسے اپنے بدن پر ملتا اور جس کو کچھ نہ ملتا وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری سے ہی کچھ لے لیتا۔ پھر میں نے حضرت بلال کو دیکھا کہ انہوں نے ایک برچھی لی، اور اُسے زمین میں گاڑ دیا اور نبی ﷺ ایک سرخ جوڑے میں آستین چڑھائے ہوئے نکلے اور اس برچھی کی طرف منہ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چار پاؤں کو دیکھا کہ وہ اُس برچھی کے سامنے سے گزرتے تھے۔
(تشریح)Abū Juḥaifah narrated: ‘I saw the Messenger of Allāh (sa) in a red leather cloak. I saw Bilāl (r.a) taking the water which the Messenger of Allāh (sa) had used for ablution, and I saw people hurrying to get some of that water. Whoever managed to get some, rubbed it [on himself] and whoever could not get any of it took some of the moisture from the hand of his companion. Then I saw Bilāl (r.a) take a javelin and plant it [in the ground], and the Prophet (sa) came out in a red cloak, [with his sleeves] rolled up, and led the people in Prayer praying two rakaʿāt facing the javelin. I saw the people and animals passing by in front of the javelin.’
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ کہا: ابو حازم (بن دینار) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لوگوں نے حضرت سہل بن سعد سے پوچھا: (رسول اللہ ﷺ کا) منبر کس چیز کا تھا؟ انہوں نے کہا: لوگوں میں اب کوئی باقی نہیں رہا جو مجھ سے زیادہ (اس کے متعلق) جاننے والا ہو۔ وہ غابہ کے جھاؤ کا تھا۔ فلاں عورت کے فلاں غلام نے اُسے رسول اللہ ﷺ کے لئے بنایا تھا۔ جب وہ بنایا گیا اور رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے۔ آپ قبلہ رخ ہوئے اور تکبیر کہی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ نے تلاوت کی اور رکوع کیا۔ اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے رکوع کیا۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور پیچھے ہٹے اور زمین پر سجدہ کیا۔ پھر منبر پر واپس آگئے۔ پھر رکوع کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا۔ پھر پیچھے ہٹے اور زمین پر سجدہ کیا اور یہ ہے اس کا قصہ۔ ابوعبداللہ (بخاری) نے کہا کہ علی بن عبداللہ کہتے تھے کہ احمد بن قبل نے مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو (علی بن عبداللہ) نے کہا: اس سے میری مراد صرف یہی تھی کہ نبی ﷺ لوگوں سے اونچے تھے۔ اس حدیث سے پایا جاتا ہے کہ کوئی حرج نہیں کہ امام لوگوں سے اونچا ہو۔ (علی بن عبداللہ) کہتے تھے: میں نے کہا: سفیان بن عیینہ سے اس حدیث کے متعلق بہت پوچھا جاتا تھا۔ کیا آپ نے ان سے نہیں سنا؟ کہا: نہیں۔
Abū Ḥāzim narrated: ‘People asked Sahl ibn Saʿd: “What was the pulpit [of the Messenger of Allāh (sa)] made of?” He said: “There is no one among the living more knowledgeable about it than myself. It was crafted of a tamarisk tree sourced from al-Ghābah [a place a few miles away from Madīnah]. So-and-so, the freed slave of so-and-so, made it for the Messenger of Allāh (sa). When it was made and put in its place, the Messenger of Allāh (sa) ascended it, faced the Qiblah and called out Allāhu Akbar. The people stood behind him. Then he recited and went into rukūʿ and people went into rukūʿ behind him. Then he raised his head, then stepped back and went into sujūd on the ground. Then he returned to the pulpit, then went into rukūʿ, raised his head, then stepped back and went into sujūd on the ground. This is the account of it [i.e. the pulpit]”.’ Abū ʿAbd Allāh [al-Bukhārī] said that ʿAlī ibn ʿAbd Allāh said: ‘Aḥmad ibn Ḥanbal (rh) asked me about this ḥadīth, so I said: “What I mean by this is that the Prophet (sa) was on a higher level than the people, so there is no harm in the imām being elevated above the congregation according to this ḥadīth”.’ He [ʿAlī ibn ʿAbd Allāh] said: ‘So I said, “Sufyān ibn ʿUyainah was frequently questioned about this, did you not hear it from him?” He replied: “No”.’
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا: حمید طویل نے حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھوڑے سے گر پڑے۔ اور آپ کی پنڈلی یا کندھا چھل گیا۔ اور آپ نے ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی۔ آپ اپنے بالا خانہ میں بیٹھ گئے۔ اس کی سیڑھی (کھجور کے تنوں کی) تھی۔ تو آپ کے صحابہ آپ کے پاس آپ کی عیادت کرنے کے لئے آئے تو آپ نے بیٹھے ہوئے اُن کو نماز پڑھائی اور وہ کھڑے ہی رہے۔ جب آپ نے اسلام علیکم کہا تو فرمایا: امام تو اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ پس جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب رکوع کرے تو رکوع کرو اور جب سجدہ کرے تو سجدہ کرو اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ اور انتیسویں دن آپ اترے تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تو ایک مہینہ کی قسم کھائی تھی۔ آپ نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
(تشریح)Anas ibn Mālik (r.a) narrated: ‘The Messenger of Allāh (sa) once fell from his horse, injuring either his leg or his shoulder. He took a vow to stay away from his wives for a month, so he secluded himself in the upper chamber [in his house], which had stairs made from date-tree trunks. His Companions came to visit him and he led them seated in Prayer, while they stood. At the conclusion of the Prayer [with taslīm], he said: “The imām has been appointed to be followed. So when he says, ‘Allāhu Akbar’, you should say, ‘Allāhu Akbar’, and when he does rukūʿ, you should do rukūʿ, and when he goes into sujūd, you should do sujūd, and if he prays standing up, you should pray standing up.” He came down [from the upper chamber] after 29 [nights] and people said: “O Messenger of Allāh, you vowed to stay away [from your wives] for a month [i.e. 30 days].” He said: “A month also consists of 29 days”.’