بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 35 hadith
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ پر سورة جمعہ نازل کی گئی۔ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے متعلق ابوہریرہؓ کہتے تھے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! یہ کون ہیں؟ آپ نے اس کا ان کو جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے تین بار پوچھا اور اس وقت ہم میں سلمان فارسی تھے رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھا اور فرمایا اگر ایمان ثریا کہ پاس بھی ہو تو ان میں سے کچھ مرد یا فرمایا ایک مرد اس تک پہنچ جائیں گے۔
حضرت ابو قتادہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا علامات دو سو سال کے بعد ظاہر ہوں گی۔
حضرت حذیفہ بن یمانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک ہزار دو سو چالیس (1240) کے بعد اللہ تعالیٰ مہدی کو مبعوث فرمائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب آپؐ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔ جب آپؐ نے وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ پڑھی تو ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟ نبی ﷺ نے اسے جواب نہ دیا یہاں تک کہ اس نے ایک یا دو یا تین مرتبہ آپؐ سے پوچھا وہ (حضرت ابو ہریرہؓ) بیان کرتے ہیں اور ہم میں سلمان فارسیؓ بھی تھے۔ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمانؓ فارسی پر رکھا اور فرمایا اگر ایمان ثریا پر بھی ہو تو ان میں سے کچھ جوانمرد اسے پا لیں گے۔
حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) نے بیان کیا کہ ایک دن نبیﷺ لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے مسیح دجال کا ذکر کیا۔ اور فرمایا اللہ کانا نہیں۔ دیکھو ہوشیار رہنا۔ مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہے۔ اس کی آنکھ جیسے پھولا ہوا انگور کا دانہ ہوتا ہے۔ اور آج رات خواب میں مَیں نے دیکھا کہ کعبہ کے پاس ہوں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گندم گوں شخص ہے ایسا ہی خوبصورت جیسے گندمی رنگ کے لوگ نظر آتے ہیں۔ اس کے بال کندھوں تک پہنچے تھے۔ بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی۔ اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ دو آدمیوں کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ مسیح ابن مریم ہیں۔ پھر میں نے اس کے پیچھے ایک اور شخص چھوٹے گنگھریالے بالوں والا داہنی آنکھ سے کانا، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت مشابہ تھا۔ وہ بھی ایک شخص کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا چکر لگا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا مسیح دجال ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کعبہ مکرمہ کے پاس ہوں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گندمی رنگ کا خوبصورت آدمی ہے زلفیں کندھوں تک پہنچ رہی ہیں، بال سیدھے شفاف ہیں جن سے پانی کے قطرے ٹپکتے نظر آتے ہیں وہ اپنے ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے میں نے پوچھا یہ کون ہے۔ لوگوں نے بتایا مسیح ابن مریم ہے۔ پھر میں نے ان کے پیچھے ایک اور آدمی دیکھا۔ گھنگھریالے بال، سخت جلد، دائیں آنکھ کانی، ابن قطن سے ملتی جلتی شکل ہے اور ایک آدمی کے دونوں کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے کعبہ کے گرد گھوم رہا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ مسیح الدجال ہے۔ (خواب میں حضورﷺ کو جو نظارہ دکھایا گیا اس میں طواف کعبہ سے مراد یہ ہے کہ مسیح بیت اللہ کی حفاظت اور اس کی شان کو بلند کرنے کے لئے کوشاں ہوں گے اور دجال کعبہ کی تخریب کے درپے ہو گا)۔
نوٹ:۔
نیز دیکھیں حدیث 954، 955، 956 ان احادیث پر مجموعی نظر ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے نبی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اور امت محمدیہﷺ میں آنے والے مسیح موعود علیہ السلام کے حلیہ اور شکل میں اختلاف ہے اس لئے دونوں کی شخصیتیں بھی الگ الگ ہونی چاہئیں کیونکہ ایک شخص کے دو حلیے نہیں ہو سکتے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے اور اس ــــ یعنی عیسیٰ علیہ السلام ــــ کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ جب تم اس کو دیکھو تو اسے پہچان لینا کہ وہ درمیانے قد کا ہو گا۔ سرخ و سفید رنگ، سیدھے بال اس کے سر سے بغیر پانی استعمال کئے قطرے گر رہے ہوں گے (یعنی اس کے بال چمک کی وجہ سے تر تر لگتے ہوں گے)۔ (وہ مبعوث ہو کر) صلیب کو توڑے گا (یعنی صلیبی عقیدے کا ابطال کرے گا) خنزیر قتل کرے گا (یعنی خبیث النفس لوگوں کی ہلاکت کا موجب ہو گا) پس اس کے ذریعہ صلیبی غلبہ کا انسداد اور خنزیر صفت لوگوں کا قلع قمع ہو گا۔ جزیہ ختم کرے گا (یعنی اس کا زمانہ مذہبی جنگوں کے خاتمہ کا زمانہ ہو گا)۔ اس کے زمانے میں اسلام کے سوا اللہ تعالیٰ باقی ادیان کو روحانی لحاظ سے بھی اور شوکت کے لحاظ سے بھی مٹا دے گا اور جھوٹے مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ چالیس سال تک مسیح دنیا میں رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انبیاء کا باہمی تعلق علاتی بھائیوں کا سا ہے جن کا دین ایک اور مائیں الگ الگ ہوں۔ میرا لوگوں میں سے عیسیٰ بن مریمؑ سے سب سے قریبی تعلق ہے کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں (اس قرب روحانی کی وجہ سے میرا مثیل بن کر وہ ضرور نازل ہو گا) جب تم دیکھو تو اس حلیے سے اسے پہچان لینا کہ وہ درمیانے قد کا ہو گا۔ سرخ و سفید رنگ، سیدھے بال اس کے سر سے بغیر پانی استعمال کئے قطرے گر رہے ہوں گے یعنی اس کے بال چمک کی وجہ سے تر تر لگتے ہوں گے۔ وہ مبعوث ہو کر صلیب کو توڑے گا یعنی صلیبی عقیدے کا ابطال کرے گا خنزیر کو قتل کرے گا یعنی خبیث النفس لوگوں کی ہلاکت کا موجب ہو گا پس اس کے ذریعہ صلیبی غلبے کا انسداد اور خنزیر صفت لوگوں کا قلع قمع ہو گا۔ جزیہ ختم کرے گا یعنی اس کا زمانہ مذہبی جنگوں کے خاتمہ کا زمانہ ہو گا۔ اس کے زمانے میں اسلام کے سوا اللہ تعالیٰ باقی ادیان کو روحانی لحاظ سے بھی اور شوکت کے لحاظ سے بھی مٹا دے گا اور جھوٹے مسیح دجال کو ہلاک کرے گا اور ایسا امن و امان کا زمانہ ہو گا کہ اونٹ شیر کے ساتھ، چیتے گائیوں کے ساتھ، بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ اکٹھے چریں گے۔ بچے اور بڑی عمر کے لڑکے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جتنا عرصہ اللہ چاہے گا مسیح دنیا میں رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے اور ان کی تدفین عمل میں لائیں گے۔
نوٹ:۔
وَجَبَ نُزُولُه فِي آخِرِ الزَّمَانِ بِتَعَلُّقِهِ بِبَدَنٍ آخَرَ (عرائس البیان فی حقائق القرآن ، ھاشیہ محی الدین ابن عربی ، تحت الایت بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ … النساء 159 ، جلد 1 صفحہ 262،)
حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے فرمایا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم کا آخری زمانہ میں نزول ان کے دوسرے بدن سے تعلق کی صورت میں واجب ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے عیسیّ اور موسیّٰ اور ابراہیمّ کو دیکھا۔ عیسیّٰ جو تھے تو ان کا رنگ سرخ، گھونگھریالے بال اور سینہ چوڑا رکھتے تھے اور موسیّٰ جو تھے تو وہ گندم گوں، فربہ جسم، سیدھے بالوں والے، جیسے کہ وہ زُطّ کے لوگوں میں سے ہیں۔