بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 35 hadith
حضرت ابوھریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ مسیح عیسیٰ بن مریم انصاف کرنے والے حکم بن کر اور عادل امام بن کر نازل ہوں گے۔ وہ خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب توڑیں گے۔ ایک ہی پکار ہو گی پس اسے قبول کرو یا اس پر رسول اللہﷺ کا سلام بھیجو۔ میں اس کے بارہ میں بتا رہا ہوں وہ میری تصدیق کرے گا۔ جب اس کی وفات کا وقت آئے ، کہا میری طرف سے اسے سلام پہنچاؤ۔
عبد اللہ بن حارث بن جزء الزبیدی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ مشرق کی طرف سے نکلیں گے جو مہدی کے لیے تیاری کریں گے یعنی اس کے غلبہ کے لیے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معاملہ سختی میں بڑھتا جائے گا اور دنیا صرف تنزل میں اور لوگ حرص و بخل میں اور قیامت قائم نہیں ہوگی مگر بدترین لوگوں پر اور المہدی صرف عیسیٰ ابن مریم ہے۔
(حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا) معاملات شدت اختیار کرتے جائیں گے دنیا پر ادبار چھا جائے گا لوگ بخیل ہو جائیں گے شریر لوگ قیامت کا منظر دیکھیں گے۔ ایسے ہی نازک حالات میں اللہ تعالیٰ کا مامور ظاہر ہو گا۔ عیسیٰؑ کے سوا اور کوئی مہدی نہیں (یعنی مسیحؑ ہی مہدی ہوں گے کیونکہ مہدی کا کوئی الگ وجود نہیں ہے)۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مہدی کا مجھ سے قریبی تعلق ہو گا اس کی پیشانی روشن اور ناک بلند ہو گی (یعنی کشادہ پیشانی اور کھڑی ناک والا ہو گا) وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ اس سے پہلے ظلم و تعدی سے اٹی پڑی تھی۔ وہ سات برس مالک رہے گا۔
نوٹ:۔
غالباً رسالہ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کی اشاعت کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے دعویٰ کی وضاحت کی ہے اور ایک کھلا موقف پیش کیا ہے۔ یہ رسالہ 1901ء میں شائع ہوا تھا۔
حضرت محمد بن علیؓ (یعنی حضرت امام باقرؓ) نے فرمایا (پیشگوئی کے مطابق) ہمارے مہدی کی صداقت کے دو نشان ایسے ہیں کہ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے وہ کسی کی صداقت کے لئے اس طرح ظاہر نہیں ہوئے۔ اول یہ کہ اس کی بعثت کے وقت رمضان میں چاند گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ (یعنی تیرہ 13 رمضان) کو چاند گرہن لگے گا اور سورج گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ (یعنی اٹھائیس 28 رمضان) کو سورج گرہن لگے گا اور یہ دو نشان اس رنگ میں پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔
نوٹ:۔
یہ دونوں نشان 1894ء میں ظاہر ہو چکے ہیں۔
صاحب جواہر الا سرار لکھتے ہیں کہ اربعین میں یہ روایت بیان ہوئی ہے کہ) آنحضرتﷺ نے فرمایا مہدی ایک ایسے گاؤں سے مبعوث ہو گا جس کا نام ’’کدعہ‘‘ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق میں نشان دکھائے گا۔ اور بدری صحابہؓ کی طرح مختلف علاقوں کے رہنے والے تین سو تیرہ 313 جلیل القدر صحابہ اسے عنایت فرمائے گا۔ جن کے نام اور پتے ایک مستند کتاب میں درج ہوں گے۔
نوٹ:۔
کدعہ میں غالباً قادیان کی طرف اشارہ ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا مہدی ایک ایسے گاؤں سے مبعوث ہو گا جس کا نام ’’کدعہ‘‘ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق میں نشان دکھائے گا۔ اور بدری صحابہ کی طرح مختلف علاقوں کے رہنے والے تین سو تیرہ 313 جلیل القدر صحابہ اسے عنایت فرمائے گا۔ جن کے نام اور پتے ایک مستند کتاب میں درج ہوں گے۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ماوراء النہر (ترکستان) کے علاقہ سے ایک شخص مبعوث ہو گا جسے الحارث بن حراث کے لقب سے پکارا جائے گا اس کے مقدمہ الجیش کے سردار کا نام منصور ہو گا۔ وہ آل محمدﷺ کے لئے تمکنت حاصل کرنے کا ذریعہ ہو گا۔ جس طرح قریش کے ذریعہ رسول اللہﷺ کو تمکنت حاصل ہوئی۔ ہر مومن پر اس کی مدد کرنا یا اس کی پکار کا جواب دینا فرض ہے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمﷺ سے دریافت کیا کہ رمضان کے بعد میں کس مہینہ میں روزے رکھا کروں؟ حضورﷺ نے فرمایا اگر ماہ رمضان کے بعد تم روزے رکھنا چاہو تو محرم کے مہینہ میں رکھا کرو کیونکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بابرکت مہینہ ہے اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم (یعنی بنی اسرائیل) کو ظالم حکمران سے نجات دی اور آئندہ بھی اسی ماہ ایک دوسری قوم (یعنی مسیح موعود پر ایمان لانے والوں) کو ایسے ہی ظالم حکمران سے نجات دے گا۔
نوٹ:۔
قَوْلُهُ (فِيهِ يَوْمٌ تَابَ اللَّهُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ) هُمْ قَوْمُ مُوسَى بَنُو إِسْرَائِيلَ نَجَّاهُمُ اللَّهُ مِنْ فِرْعَوْنَ وَأَغْرَقَهُ
(تحفة الاحوذی بشرح جامع ترمذی ، مولفہ محمد عبد الرحمان المبارکفوری، زیر روایت ’’ أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ‘‘(کتاب الصَّوْمِ بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ المحرم 741) جلد 3 صفحہ 305)
راوی کے اس قول (فِيهِ يَوْمٌ تَابَ اللَّهُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ) سے موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل مراد ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرعون سے نجات دی اور فرعون کو غرق کیا۔