حضرت ثوبان ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا میری امت کی دو جماعتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ فتنہ و فساد کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔ ایک وہ جماعت ہے جو ملک ہند میں جنگ لڑے گی اور دوسری جماعت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی مددگاروں کی ہو گی۔
(كنز العمال، حرف القاف، كتاب القيامة ــ من قسم الأقوال، الباب الأول: في أمور تقع قبلها، الفصل الرابع فی ذکر اشراط الساعۃ ، نزول عيسى على نبينا وعليه الصلاة والسلام38845)
(الجامع الصغير فی احادیث البشیر النذیر (للسیوطی)، حرف الھمزہ،روایت نمبر 1620)
روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا میری امت ایک مبارک امت ہے۔ یہ نہیں معلوم ہو سکے گا کہ اس کا اول زمانہ بہتر ہے یا آخری (یعنی دونوں زمانے شان و شوکت والے ہوں گے)۔
(كنز العمال حرف الفاء، تابع كتاب الفضائل من قسم الأفعال ،الباب السابع: في فضائل هذه الأمة المرحومة 34451)
روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا میری امت ایک مبارک امت ہے۔ یہ نہیں معلوم ہو سکے گا کہ اس کا اول زمانہ بہتر ہے یا آخری یعنی دونوں زمانے شان و شوکت والے ہوں گے۔
(مسند الإمام أحمد بن حنبل ،تتمة مسند الأَنصار،باب وَمِنْ حَدِيثِ ثَوْبَانَ22759)
حضرت ثوبان ؓ جو رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک دفعہ فرمایا میری امت کی دو جماعتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ فتنہ و فساد کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔ ایک وہ جماعت ہے جو ملک ہند میں جنگ لڑے گی اور دوسری جماعت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی مدد گاروں کی ہو گی۔
(حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا) میری امت کی دو جماعتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ فتنہ و فساد کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔ ایک وہ جماعت ہے جو ملک ہند میں جنگ لڑے گی اور دوسری جماعت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی مدد گاروں کی ہو گی۔