بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 37 hadith
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسیلمہ کذاب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آیا اور کہنے لگا: اگر محمؐد اپنے بعد مجھے جانشین بنائیں تو میں اُن کا پیرو ہوں گا اور وہ مدینہ میں اپنی فوج کے بہت سے لوگوں کے ساتھ آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپؐ آکر مسیلمہ کے سامنے جبکہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا تھا، کھڑے ہوگئے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا بھی مانگے، میں تمہیں یہ بھی نہ دوں اور تو ہرگز اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکے گا، جو تیرے لئے مقدر ہے اور اگر تو پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو اللہ تمہاری جڑ کاٹ دے گا اور میں تمہیں وہی شخص دیکھ رہا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں بہت کچھ دکھایا گیا ہے اور یہ ثابتؓ ہیں جو میری طرف سے تمہیں جواب دیں گے اور یہ کہہ کر آپؐ اس کو چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا کہ تم کو میں وہی شخص دیکھ رہا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں وہ کچھ دکھایا گیا جو دکھایا گیا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے مجھ سے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اس اثنا میں مَیں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے۔ ان کی کیفیت نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔ پھر مجھے خواب میں وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں۔ چنانچہ میں نے ان پر پھونکا اور وہ اُڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹے شخص سمجھے جو میرے بعد ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ایک عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ۔
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ ؑ کے لئے ہارون ؑ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ مد نظر رہے کہ حضور ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی بشارت دی ہے اور ان کو نبی اللہ کے لفظ سے ذکر کیا ہے (مسلم کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ذکر الدجال و صفتہ و ما معہ 5214)
مصعب بن سعد نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ تبوک جانے کے لئے نکلے اور حضرت علیؓ کو (مدینہ میں) اپنا قائمقام مقرر کیا۔ حضرت علیؓ نے کہا کیا آپؐ مجھے بچوں اور عورتوں میں پیچھے چھوڑ کر جاتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کیا آپؓ خوش نہیں ہوتے کہ آپؓ کا مقام مجھ سے وہی ہے جو ہارونؑ کا موسیٰؑ سے تھا۔ مگر یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا تھا …… اور لوگ غزوہ تبوک کے لیے نکلے۔ راوی کہتے ہیں حضرت علیؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا، کیا میں بھی آپؐ کے ساتھ نکلوں؟ راوی کہتے ہیں اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں فرمایا نہیں۔ تو حضرت علیؓ رو دئیے۔ اس پر آپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا میرے ہاں تیری منزلت وہی ہے جو موسیٰؑ کے ہاں ہارون کی تھی البتہ تو نبی نہیں ہے۔
حضرت سعد بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ تبوک کے لیے نکلے اور حضرت علیؓ کو اپنے بعد جانشین بنایا۔ حضرت علیؓ نے آپؐ سے کہا یا رسول اللہ! آپؐ (غزوہ کے لیے) نکلے ہیں اور مجھے پیچھے چھوڑ دیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ میرے ہاں تیری منزلت وہی ہے جو موسیٰؑ کے ہاں ہارونؑ کی تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ابو حازم نے کہا کہ میں حضرت ابو ہریرہؓ کے ساتھ پانچ سال بیٹھتا رہا اور میں نے ان سے سنا وہ نبی ﷺ سے یہ روایت بیان کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کی نگرانی نبی کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی فوت ہو جاتا تو ایک اور نبی اس کا جانشین ہوتا اور دیکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں مگر خلفاء ضرور ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے پوچھا پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا جو پہلے ہو اس کی بیعت پہلے پوری کرو۔ پھر اس کے بعد جو ہو، اُن کا حق انہیں دو۔ کیونکہ اللہ بھی ان سے ضرور پوچھے گا اس (رعیت) کے بارے میں جس کی نگرانی اس نے ان کے سپرد کی۔
ابی حازم سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوہریرہؓ کا پانچ سال ہم نشین رہا۔ میں نے ان کو نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے سنا آپؐ نے فرمایا بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی فوت ہوتا تو اس کا جانشین نبی ہوتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میرے بعد خلفاء ہوں گے اور ایک وقت میں ایک سے زیادہ ہوں گے۔ انہوں نے عرض کی تو پھر آپؐ ہمیں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا پہلے کی بیعت سے وفاداری کرو اور پھر پہلے کی اور ان کے حق انہیں دو کیونکہ اللہ ان سے ان کے بارہ میں پوچھے گا جن کا اس نے انہیں نگران بنایا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا تم سے پہلے بنی اسرائیل کی سرداری اور حکومت انبیاء کے سپرد ہوتی تھی۔ جب بھی کوئی نبی فوت ہوتا تو اس کا قائم مقام دوسرا نبی بھیج دیا جاتا (جو اپنے احکام جاری کرتا) لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں (جو اپنے احکام جاری کرے) بلکہ میرے بعد (میرے ہی احکام کی پیروی کرنے والے) خلفاء ہوں گے اور فساد کے زمانہ میں بعض اوقات ایک سے زیادہ لوگ خلافت کا دعویٰ کرنے والے ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا ایسی صورت میں آپﷺ کا کیا حکم ہے۔ آپﷺ نے فرمایا جس کی پہلے بیعت کرو اس کی بیعت کے عہد کو نبھاؤ اور اسے اس کا حق دو۔ خود خلفاء اللہ تعالیٰ کے حضور ذمہ دار ہیں وہ ان سے ان کے فرائض کے متعلق پوچھے گا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا ہے۔
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔ پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی (جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے) جب یہ دور ختم ہو گا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم و ستم کے دور کو ختم کر دے گا۔ اس کے بعد پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔ یہ فرما کر آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔ پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی (جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے) جب یہ دور ختم ہو گا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم و ستم کے دور کو ختم کر دے گا۔ اس کے بعد پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔ یہ فرما کر آپﷺ خاموش ہو گئے۔