بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 37 hadith
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے جو بنی اسرائیل ہوئے ہیں ان میں ایسے آدمی ہو چکے ہیں جن سے اللہ کلام کیا کرتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوتے۔ اگر میری امت میں بھی ان میں سے کوئی ایسا ہے تو وہ عمرؓ ہیں۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے علماء (جو ربانی ہیں) بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح (بلند مقام رکھتے) ہیں۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے علماء (جو ربانی ہیں) بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح (بلند مقام رکھتے) ہیں۔
حضرت انس نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے حضرت موسیٰؑ کی طرف وحی کی بنی اسرائیل کو اطلاع دو کہ جو شخص مجھے اس حال میں ملا کہ وہ احمد علیہ سلام سے جھگڑا کرتا تھا میں اسے آگ میں داخل کر دوں گا۔ موسیٰ علیہ سلام نے کہا اے میرے رب! احمد کون ہیں؟ فرمایا میں نے کوئی مخلوق اس سے زیادہ معزز پیدا نہیں کی۔ میں نے اس کا نام اپنے نام کے ساتھ عرش پر لکھ دیا ہوا ہے ، قبل اس کے کہ میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرتا۔ یقیناً جنت میری تمام مخلوق پر حرام ہے جب تک کہ میں انہیں اور ان کی امت کو اس میں داخل نہ کر دوں۔ حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا اس کی امت کون ہے؟ فرمایا حمد کرنے والے، وہ بلندی چڑھتے ہوئے اور نیچے اترتے ہوئے اور ہر حال میں حمد کریں گے، دین کی خدمت کے لیے کمر بستہ ہوں گے اور ان کے پہلو صاف ہوں گے۔ دن کو روزے رکھیں گے اور راتوں کو عبادت کرنے والے ہوں گے۔ میں ان سے تھوڑا عمل بھی قبول کروں گا اور ان کے صرف لا إله إلا الله کہنے والوں کو جنت میں داخل کروں گا۔ حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا مجھے اس امت کا نبی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کا نبی ان میں سے ہو گا۔ عرض کیا مجھے اس نبی کی امت میں سے بنا دے۔ فرمایا تو پہلے ہو چکا اور وہ بعد میں آئیں گے لیکن میں تمہیں اور انہیں دار الجلال میں اکٹھا کر دوں گا۔
حضرت انس نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے حضرت موسیٰؑ کی طرف وحی کی بنی اسرائیل کو اطلاع دو کہ جو شخص مجھے اس حال میں ملا کہ وہ احمد علیہ سلام سے جھگڑا کرتا تھا میں اسے آگ میں داخل کر دوں گا۔ موسیٰ علیہ سلام نے کہا اے میرے رب! احمد کون ہیں؟ فرمایا میں نے کوئی مخلوق اس سے زیادہ معزز پیدا نہیں کی۔ میں نے اس کا نام اپنے نام کے ساتھ عرش پر لکھ دیا ہوا ہے ، قبل اس کے کہ میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرتا۔ یقیناً جنت میری تمام مخلوق پر حرام ہے جب تک کہ میں انہیں اور ان کی امت کو اس میں داخل نہ کردوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا اس کی امت کون ہے؟ فرمایا حمد کرنے والے، وہ بلندی چڑھتے ہوئے اور نیچے اترتے ہوئے اور ہر حال میں حمد کریں گے، دین کی خدمت کے لیے کمر بستہ ہوں گے اور ان کے پہلو صاف ہوں گے۔ دن کو روزے رکھیں گے اور راتوں کو عبادت کرنے والے ہوں گے۔ میں ان سے تھوڑا عمل بھی قبول کروں گا اور ان کے صرف لا إله إلا الله کہنے والوں کو جنت میں داخل کروں گا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا مجھے اس امت کا نبی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کا نبی ان میں سے ہو گا۔ عرض کیا مجھے اس نبی کی امت میں سے بنا دے۔ فرمایا تو پہلے ہو چکا اور وہ بعد میں آئیں گے لیکن میں تمہیں اور انہیں دار الجلال میں اکٹھا کر دوں گا۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک دن حضرت موسیٰؑ کہیں جا رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آواز دی۔ اے موسیٰ! حضرت موسیٰؑ نے آواز سن کر دائیں بائیں دیکھا انہیں کوئی نظر نہ آیا۔ پھر دوسری دفعہ ان کو آواز آئی۔ اے موسیٰ بن عمران! اس پر پھر انہوں نے دوبارہ ادھر ادھر دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ اس سے موسیٰ ؑ ڈر گئے۔ کندھے کا گوشت کانپنے لگا یعنی جسم میں جھرجھری سی محسوس ہوئی کہ نہ معلوم کہاں سے یہ آواز آ رہی ہے۔ تیسری دفعہ پھر آواز آئی۔ اے موسیٰ! میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس پر موسیٰؑ لبیک لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ! اپنا سر اٹھا۔ حضرت موسیٰؑ نے سجدے سے سر اٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ! میں چاہتا ہوں کہ تو میرے عرش کے سایہ کے نیچے آرام کرے جس دن میرے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا۔ اس لئے تم یتیم کے لئے مہربان باپ کی طرح بن جاؤ بیوہ کے لئے محبت کرنے والے خاوند کی طرح ہو جاؤ۔ اے موسیٰ! رحم کر تاکہ تجھ پر رحم کیا جاوے۔ اے موسیٰ! جیسا تو کرے گا ویسا بھرے گا۔ اے موسیٰ! بنی اسرائیل کو بتا دو کہ جو بھی میرے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس نے حضرت احمد علیہ السلام کا انکار کیا ہو گا تو میں اسے دوزخ میں ڈالوں گا۔ خواہ وہ میرے خلیل ابراہیم ہی کیوں نہ ہوں یا میرے کلیم موسیٰ ہی کیوں نہ ہوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا یہ احمد کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ! مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! مخلوق میں سے مجھے اس سے زیادہ پیارا کوئی نہیں لگتا میں نے اس کا نام عرش پر اپنے نام کے ساتھ لکھ دیا ہے۔ میں نے آسمان و زمین، شمس و قمر کے پیدا کرنے سے بیس لاکھ سال پہلے اس کا نام اپنے نام کے ساتھ لکھ دیا تھا۔ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! محمد اور اس کی امت سے پہلے کسی کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دوں گا۔ حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا اس عظمت اور جلال والے نبی کی امت میں کیسے لوگ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ حمد کرنے والے ہوں گے۔ وہ بلندیوں پر چڑھتے اور اترتے اللہ تعالیٰ کی حمد کریں گے، دین کی خدمت کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہیں گے۔ ان کے پہلو پاکیزہ ہوں گے، دن کو روزہ رکھیں گے اور راتیں رہبانیت کی حالت میں گزاریں گے میں ان سے تھوڑا عمل بھی قبول کر لوں گا۔ صرف لا الہ الا اللہ کی شہادت دینے پر ان کو جنت میں لے جاؤں گا۔ حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا۔ اے میرے رب! مجھے اس امت کا نبی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس امت کا نبی اسی امت میں سے ہو گا۔ پھر موسیٰؑ نے کہا مجھے اس امت کا ایک فرد ہی بنا دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیرا زمانہ پہلے ہے، وہ نبی بعد میں آئے گا۔ اس لئے تو اس نبی کا امتی بھی نہیں بن سکتا۔ البتہ اگلے جہاں میں دارالجلال اور جنت الفردوس میں اس نبی کی معیت تجھے عطا کروں گا۔ حضرت انسؓ سے (ایک طویل حدیث میں) روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے (ایک بار اپنے کلام میں) فرمایا کہ بنی اسرائیل کو مطلع کر دو کہ جو شخص مجھے اس حالت میں ملے گا کہ وہ احمد (ﷺ) کا منکر ہو گا تو میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا خواہ کوئی ہو۔ موسیٰؑ نے عرض کیا کہ احمد کون ہیں؟ ارشاد ہوا اے موسیٰ قسم ہے اپنی عزت و جلال کی میں نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو ان سے زیادہ میرے نزدیک مکرم ہو، میں نے ان کا نام عرش پر اپنے نام کے ساتھ آسمان و زمین اور شمس و قمر پیدا کرنے سے بیس لاکھ برس پہلے لکھا تھا۔ قسم ہے اپنی عزت و جلال کی کہ جنت میری تمام مخلوق پر حرام ہے جب تک کہ محمد اور ان کی امت اس میں داخل نہ ہو جاویں (پھر امت کے فضائل کے بعد یہ ہے کہ) موسیٰ ؑ نے عرض کیا کہ اے رب مجھ کو اس امت کا نبی بنا دیجیے۔ ارشاد ہوا اس امت کا نبی اسی میں سے ہوگا۔ عرض کیا کہ تو مجھ کو ان (محمدؐ) کی امت میں سے بنا دیجئے۔ ارشاد ہوا کہ تم پہلے ہو گئے وہ پیچھے ہوں گے۔ البتہ تم کو اور ان کو دار الجلال (جنت) میں جمع کر دوں گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسریٰ (شاہِ ایران) جب ہلاک ہوگا اس کے بعد اور کوئی کسریٰ نہ ہوگا اور جب قیصر (شاہِ روم) ہلاک ہوگا اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا۔ اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور اللہ کی راہ میں ان دونوں کے خزانے خرچ کرو گے۔