بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے اور وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکارمیں سے نکل جاتا ہے ۔
حضرت ابن ابی اوفٰی ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاخوارج جہنم کے کُتے ہیں ۔
حضرت ابو امامہ ؓ نے بیان کیا کہ بدترین مقتول جو آسمان کی چھت کے نیچے مارے گئے وہ دوزخیوں کے کُتے ہیں اور بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا۔ یہ لوگ مسلمان تھے پھر یہ کافر ہوگئے۔ میں نے کہا اے ابو امامہ ؓ ! آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں مَیں نے یہ رسول اللہ
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جِعرانہ کے مقام میں تھے۔آپؐ سونا و مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے اور وہ (مال) بلالؓ کی جھولی میں تھا ۔ ایک آدمی نے کہا ، اے محمد !ؐ عدل سے کام لیجئے کہ آپؐ نے عدل سے کام نہیں لیا۔ آپؐ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے ! اگر مَیں نے عدل نہ کیاتو میرے علاوہ کون عدل کرے گا۔حضرت عمر ؓ نے فرمایا یا رسول ؐاللہ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن ماردوں ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ اپنے ان ساتھیوں میں سے ہے جو قرآن پڑھیں گے اوروہ ان کے حلق سے نہیں اترے گا ۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار میں سے نکل جاتا ہے ۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاایسے نوجوان پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ جب کبھی ایک گروہ خروج کرے گاوہ کاٹ دیا جائے گا ۔حضرت ابن عمرؓ نے کہا مَیں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا کہ جب کبھی ایک سینگ ٭نکلے گاوہ کاٹا جائے گا بیس 20مرتبہ سے زیادہ یہاں تک کہ ان کی سمت میں سے (ہی) دجّال خروج کرے گا ۔
حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺکی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپؐ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا تم اپنے ربّ کو دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو ۔دیکھنے والوں کا ہجوم اس کو دیکھنے میں روک نہیں بنے گا۔ اگر تم استطاعت رکھتے ہو تو سورج کے طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے کی نمازیں ادا کرنے میں( کوئی چیز )تمہیں مغلوب نہ کردے تو ایسا کرو اور پھر آپ ؐنے یہ آیت پڑھی:وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ٭ (ترجمہ)اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ(اس کی) تسبیح کر۔ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب سے پہلے بھی۔
حضرت ابو سعید ؓ نے بیان کیا کہ ہم نے کہایارسولؐ اللہ ! کیا ہم اپنے ربّ کو دیکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا کیا دوپہر کے وقت جب کہ بادل نہ ہو ، سورج کے دیکھنے میں کوئی جمگھٹا کرتے ہو؟ صحابہؓ نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں چودھویں کے چاند کو دیکھنے کے لئے ، جب کہ کوئی بادل نہ ہو، کوئی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے ؟ صحابہ ؓنے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تمہیں اپنے ربّ کو دیکھنے کے لئے اس سے زیادہ کوئی مشقت برداشت نہ کرنی ہوگی جتنی ان دونوں کو دیکھنے میں ۔
حضرت ابو رزینؓ نے بیان کیا کہ مَیں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اللہ کو دیکھیں گے ؟ اُس کی مخلوق میں اس کا کوئی نمونہ ہے۔آپؐ نے فرمایا اے ابو رزین ! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا ہی نہیں دیکھ رہا ہوتا ۔ مَیں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ ؐنے فرمایااللہ سب سے عظیم ہے۔ یہ اس کی مخلوق میں ایک نشان ہے۔