بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت اُمِّ کُرْز ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لڑکے کے پیشاب پر پانی بہایاجاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ ایک بدّو نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔کچھ لوگ اس کی طرف لپکے۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا اس کا پیشاب نہ روکو ۔ پھر آپؐ نے ایک ڈول پانی کا منگوایا اور اُس پر بہادیا ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓنے بیان کیاکہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے ۔ اُس نے دعا کی اے اللہ مجھے بخش دے اور محمد(ﷺ ) کو اور کسی کو ہمارے ساتھ نہ بخشنا ۔ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا تو نے (اللہ کی) وسیع (رحمت) کو محدود کر دیا ۔ پھر وہ مڑا اور مسجد کے ایک کونے میں آیا اور ٹانگیں چوڑی کر کے پیشاب کرنے لگا۔ بعد میں _جب اس اعرابی کو سوجھ بوجھ حاصل ہوگئی تو کہنے لگا میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں_آپؐ اُٹھ کر میری طرف آئے_ آپؐ نے نہ تو ڈانٹا اور نہ بُرابھلا کہا بلکہ_ فرمایا یہ مسجد ہے اس میں پیشاب نہیںکیا جاتا۔ یہ تو صرف اللہ کے ذکر کے لئے اور نما ز کے لئے بنائی جاتی ہے ۔ پھر آپؐ نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم فرمایا اور اس کے پیشاب پر بہا دیاگیا۔
حضرت واثِلہ بن اَسْقَعؓنے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے اللہ ! مجھ پر اور محمد(ﷺ)پر رحم کر اور اپنی اس رحمت میں ہمارے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کر ۔آپ ؐنے فرمایا تو نے (اللہ کی) وسیع (رحمت)کو محدود کر دیا۔اللہ تجھ پررحم کرے یا فرمایا تیرا بھلا ہو۔ راوی کہتے ہیں ، پھر وہ ٹانگیں چوڑی کر کے پیشاب کرنے لگا ۔ نبی ﷺ کے صحابہؓ نے کہارُکو! رُکو!! رسول اللہ ﷺنے فرمایا اُسے چھوڑ دو ۔ پھر آپؐ نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہادیا ۔
ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہ اُنہوںنے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت اُمّ سلمہؓ سے پوچھا اور عرض کیاکہ میں ایک ایسی عورت ہوں کہ اپنے دامن کو لمبا رکھتی ہوں اور ایسی جگہ سے بھی گزرتی ہوں جو صاف نہیں ہوتی۔ انہوں (حضرت ام سلمہؓ) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اُسے پاک کردیتا ہے جو اس کے بعد ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیاکہ عرض کیا گیا یارسولؐ اللہ !ہم مسجد جانے کا ارادہ کرتے ہیں تو کبھی ہمیں ایسے رستے پربھی چلنا پڑتا ہے جو صاف نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین کا ایک حصہ دوسرے کو پاک کردیتا ہے۔٭
بنو عبداشہل کی ایک عورت سے روایت ہے کہ اُس نے کہا میں نے نبی ﷺ سے پوچھا اور میں نے عرض کیا میرے اور مسجد کے درمیان ایسا راستہ ہے جو صاف نہیں۔ حضور ؐنے فرمایا کیا اس کے بعد اس سے زیادہ صاف راستہ ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ۔ فرمایا اس کے ذریعہ وہ( صاف ہوجاتی) ہے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اُن کا نبی ﷺ سے مدینہ کے راستوں میں سے کسی ایک راستے میں سامنا ہو اور وہ (حضرت ابو ہریرہ ؓ) جنبی تھے اس لئے وہ چپکے سے ایک طرف نکل گئے۔ نبی ﷺ نے انہیں نہ پایا۔جب وہ آئے تو آپ ؐنے پوچھا ابوہریرہ !تم کہاں تھے؟ ابو ہریرہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ!آپؐ کا مجھ سے سامنا ہوا اور میں جنبی تھا،میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ آپؐ کے پاس (ایسی حالت)میں بیٹھوں جب تک کہ غسل نہ کرلوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایامؤمن ناپاک نہیں ہوجاتا ۔
حضرت حذیفہؓ نے بیان کیاکہ نبی ﷺ باہرتشریف لائے اورآپؐ کا مجھ سے سامنا ہوا اور میں جنبی تھا۔اس لئے میں آپؐ سے ایک طرف ہوگیا۔میں نے غسل کیا اور پھر آیا ۔ حضور ﷺ نے پوچھا تجھے کیا ہواتھا ؟میں نے عرض کیا میں جنبی تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان ناپاک نہیں ہوجاتا۔
عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے اُس کپڑے کے بارے میں پوچھاجسے منی لگ جائے کہ کیا ہم صرف اُسے( منی کو) دھوئیں گے یا سارے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا حضرت عائشہ ؓنے بیان فرمایا کہ نبی ﷺ کے کپڑے کو( منی) لگ جاتی تو آپؐ اُسے اپنے کپڑے پر سے دھو ڈالتے پھر اپنے (اسی) کپڑے میں آپؐ نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور میں دھونے کے نشان اس کپڑے میں دیکھ رہی ہوں۔