بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمرنے اپنے والد سے روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ سے پانی کے متعلق سوال کیا گیا جوکسی ویران جگہ پر زمین میں ہوتا ہے اور جو چوپائے اور درندے وہاں آتے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب پانی کی مقدار دو مٹکے کے برابر ہو ، اُسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیاکہ نبی ﷺکے پاس ایک بچہ لایا گیا ، اُس نے آپؐ(کے کپڑوں) پر پیشاب کردیا۔ آپؐ نے اس پر پانی بہا دیا اور اس کو (مل مل کر) دھویا نہیں۔
عبیداللہ بن عبد اللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب پانی دو یا تین مٹکے ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے ان تالابوں کے بارہ میں اور ان سے وضوکرنے کے بارہ میں پوچھا گیا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہیں جہاں درندے ، کتے اور گدھے پانی پینے کے لئے آتے ہیں ۔آپؐنے فرمایا جو یہ( جانور) اپنے پیٹ میں ڈال لیں وہ ان کا ہے اورجو بچ رہا وہ ہمارے لئے ہے اور پاک ہے ۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے بیان کیا کہ ہم ایک تالاب پر پہنچے اور اُس میں گدھے کی لاش تھی۔ وہ کہتے ہیں ہم اُس ( پانی کے استعمال )سے رک گئے یہاں تک کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ پہنچے۔ آپؐ نے فرمایا پانی کوکوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ، تو ہم نے پیا اورجانوروں کو پلایا اورساتھ بھی لے لیا۔٭
حضرت ابو امامہ باہلی ؓنے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ، سوائے اُس کے،جو اس کی بو ،اس کے ذائقہ اور اس کے رنگ پر غالب آجائے ۔
حضرت علی ؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (شیر خوار)بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایالڑکے کے پیشاب پر پانی بہایاجاتا ہے اور لڑکی1کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے ۔ ابویمان مصری نے بیان کیا کہ میں نے حضرت امام شافعی ؒ سے نبی ﷺ کی اس حدیث کے بارہ میں پوچھا کہ لڑکے کے پیشا ب پر پانی چھڑکا جائے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے حالانکہ دونوں (پیشاب) پانی ہی ہیں۔ انہوں نے کہا وجہ یہ ہے کہ لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہے اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے ۔پھر مجھے کہا سمجھے؟-فَھِمْتَ کہا یا کہا لَقِنْتَ -میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو پیدا کیا تواس کی چھوٹی پسلی سے حوّا پیدا کی گئیں۔ پس لڑکے کا پیشاب پانی اورمٹی سے ہوااور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے کہا(اب) سمجھے؟میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے مجھے کہا اللہ تجھے اس سے فائدہ دے۔
حضرت ابوسَمح ؓنے بتایا کہ میں نبی ﷺ کا خادم تھا۔آپؐ کے پاس حسنؓ یا حسینؓ کو لایا گیا۔ انہوں نے آپ ؐ کے سینے پر پیشاب کر دیا۔ انہوں نے چاہا کہ اُسے دھودیں ۔ مگررسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر پانی چھڑک دو۔ لڑکی کا پیشاب دھویاجاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جاتا ہے۔